"اسحاق بن راہویہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

658 بائٹ کا اضافہ ،  1 مہینہ پہلے
مضمون میں اضافہ کیا ہے
(اضافہ کیا ہے)
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
ان سے ایک بار کہا گیا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کوایک لاکھ حدیثیں زبانی یاد ہیں، فرمایا کہ میں ایک دولاکھ کچھ نہیں جانتا مگر میں نے آج تک جتنی حدیثیں سنی ہیں وہ سب یاد ہیں، ابوداؤد خفاف جوان کے تلامذہ میں ہں کہتے تھے کہ ایک بار گیارہ ہزار حدیثیں انہوں نے املا کرائیں اور پھران کودوبارہ دہرایا توایک حرف کا فرق نہیں تھا۔
<ref>(تاریخ بغداد:۲)</ref>
=== حدیث سے شغف کا نتیجہ ===
 
خداداد استعداد وصلاحیت اور قوتِ حافظہ کے ساتھ حدیث سے ان کے شغف واہنماک نے جلد ہی ان کوتبع تابعین کے زمرہ میں ایک ممتاز حیثیت کا مالک بنادیا، بڑے بڑے ائمہ حدیث ان کے فضل وکمال کے معترف اور ان کے جلالت علم کے قائل ہوگئے، ابنِ خزیمہ کہتے تھے کہ اگروہ تابعین کے زمانہ میں ہوتے تواپنے علم وفضل کی بناء پراس زمرہ میں بھی ایک ممتاز حیثیت حاصل کرتے۔