"اسحاق بن راہویہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

747 بائٹ کا اضافہ ،  2 مہینے پہلے
مضمون میں اضافہ کیا ہے
(اضافہ کیا ہے)
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
اس بارے میں اہلِ تذکرہ کچھ زیادہ معلومات نہیں فراہم کرتے؛ مگرجستہ جستہ واقعات سے اس پرکچھ روشنی پڑتی ہے، تحصیلِ علم اور سماعِ حدیث کے بعد ان کا قیام زیادہ ترنیشاپور میں رہتا تھا؛ گویہ یہ جگہ اسلامی مملکت کے مرکزی مقامات سے بہت دور تھی؛ پھراس زمانہ میں سفر کی دقتیں بھی وہاں تک پہنچنے میں مانع تھیں؛ مگراس کے باوجود صدہاتشنگانِ علوم اس چشمہ علم سے سیراب ہوئے، خصوصیت سے خراسان کے علاسہ میں ان کا علم کافی پھیلا، خطب کا بیان ہے کہ ان کا علم خراسانیوں میں خوب پھیلا، ہب ابن جریر کا بیان ہے کہ مشرق میں جن لوگوں نے سنت کوزندہ کیا ان میں اسحاق بن راہویہ بھی ہیں۔
<ref>(تاریخ بغداد:۳۷۶)</ref>
ان سے جن لوگوں نے اکتساب فیض کیا ان میں امام بخاری، امام مسلم، امام ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین رحمہم اللہ وغیرہ کا نام بھی لیا جاتا ہے، ان تمام ائمہ نے اپنی اپنی کتابوں میں اسحاق ابن راہویہ کی مرویات نقل کی ہیں، امام ذہبی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ان کبار ائمہ کے علاوہ خلقِ کثیر نے ان سے روایت کی ہے، یحییٰ بن آدم ان کے شیوخ میں ہیں؛ مگرانہوں نے ان سے تقریباً دوہزار روایتیں نقل کی تھیں۔