"اسحاق بن راہویہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

508 بائٹ کا اضافہ ،  1 مہینہ پہلے
اضافہ کیا ہے
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
(اضافہ کیا ہے)
کہتے تھے کہ (جوذخیرۂ حدیث میرے پاس ہے ان میں) ایک لاکھ حدیثوں کے موقع ومحل سے اس طرح واقف ہوں کہ وہ گویا میری آنکھوں کے سامنے ہیں، ان میں سے سترہزار تومجھے مع معانی حفظ ہیں اور چارہزار مزوّرہ حدیثیں اور مجھے یاد ہیں، لوگوں نے پوچھا کہ مزوّرہ حدیثوں سے آپ کی کیا مراد ہے؟انہوں نے کہا کہ وہ جھوٹی اور موضوع روایتیں جنھیں میں نے اس لیے یاد کرلیا ہے کہ جب وہ روایتیں صحیح احادیث کے ساتھ مختلط ہوکر میرے سامنے آئیں توان میں جتنا حصہ کذب اور وضع کا ہو اسے الگ کردوں اور صحیح حدیث کا جتنا حصہ ہے اس کوعلیحدہ کردوں۔
ان کی اس خدمت کی اہمیت کا اندازہ پورے طور پر اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جب دوسری صدی کے اس فتنہ کی تاریخ کوسامنے رکھا جائے، جس کے ذریعہ ہزاروں بے سروپا روایتیں احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے لوگوں میں رواج پاگئی تھیں اور نہ جانے کتنی موضوع روایتیں زبان زد خاص وعام ہوگئی تھیں، اس فتنہ کے مقابلہ کے لیئے ائمہ حدیث نے جوکدوکاوش اور جدوجہد کی اور اس کے لیے دکھ سہے اس کا صحیح اندازہ تویحییٰ بن معین، عبدالرحمن مہدی، ابن المدینی، احمد بن حنبل وغیرہ کے حالات سے ہوگا؛ مگراس صدی کے دوسرے ائمہ کے سوانح حیات میں بھی اس قسم کی کوششوں کی کوئی نہ کوئی جھلک ملتی ہے؛ اسی طرح کی کوشش حضرت اسحاق بن راہویہ نےبھی کی تھی۔
=== اہلِ علم سے مذاکرات ===
 
اجتہادی مسائل میں ارباب علم کے درمین ہمیشہ مذاکرہ ومباحثہ ہوتا رہا ہے، امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ یہ دونوں بزرگ اسحاق بن راہویہ کے معاصر تھے، اس لیے ان میں بھی بعض دینی مسائل میں مذاکرے ہوئے ہیں، ان میں سے اہلِ تذکرہ نے خصوصیت سے دومسئلوں کا ذکر کیا ہے۔