"اسحاق بن راہویہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

2,010 بائٹ کا اضافہ ،  2 مہینے پہلے
مضمون میں اضافہ کیا ہے
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
(مضمون میں اضافہ کیا ہے)
<ref>(الحشر:۸)</ref>
ترجمہ:ان فقیر مہاجرین کے لیے جن کوان کے گھروں سے نکالا گیا۔
ان کا استدلال یہ تھا کہ اس آیت میں دیار کی نسبت ان کے مالکوں کی طرف کی گئی ہے؛ پھرحدیث سے انہوں نے حجت قائم کی، وہ یہ کہ فتح مکہ کے دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوانپے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ مامون ہے؛ پھرفرمایا کہ ابوسفیان کے مکان میں داخل ہوجائے اُس کوامن ہے.... پھرفرمایا کہ عقیل نے توہمارے لیے کوئی مکان نہیں چھوڑا (جس میں ہم ٹھہرسکیں)
 
(حضرت عقیل رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چھوٹے بھائی تھے، جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ مکہ سے ہجرت کرگئے توحضرت عقیل رضی اللہ عنہ نے اپنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مکان فروخت کرڈالا، یہ اسی طرف اشارہ ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اُسوہ سے استدلال کرتے ہوئے امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے جیل خانے کے لیے کچھ لوگوں سے ان کے مکانات خریدلیے تھے، اسحاق بن راہویہ نے یہ دلائل سن کرفرمایا کہ مگربعض تابعین میرے خیال کی تائید کرتے ہیں، اس پرامام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول پیش کرتا ہوں اور آپ تابعین کی رائے سے استدلال کرتے ہیں، اسحاق بن راہویہ نے پھرقرآن کی اس آیت کواستدلال میں پیش کیا:
سَوَاء الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ۔
<ref>(الحج:۲۵)</ref>
ترجمہ:اس میں مقیم ومسافردونوں برابر ہیں۔