"اسحاق بن راہویہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

625 بائٹ کا اضافہ ،  1 مہینہ پہلے
اضافہ کیا ہے
(اضافہ کیا ہے)
(اضافہ کیا ہے)
اس کے جواب میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہ تومسجدِ حرام کے بارے میں ہے، مکہ کی عام زمین اس سے مراد نہیں ہے، اسی طرح ایک اور مسئلہ میں بھی مذاکرہ ہوا، وہ مسئلہ یہ تھا کہ مردہ جانور کی کھال دباغت سے پاک ہوجاتی ہے یانہیں؟ امام شافعی پاکی کے قائل تھے، اور اسحاق بن راہویہ عدمِ جواز کے۔
<ref>(طبقات الشافعیہ:۱/۳۳۶)</ref>
=== عادات واخلاق ===
 
عادات واخلاق اور زہد وتقویٰ کے اعتبار سے بھی وہ ممتاز تھے، تمام اہلِ تذکرہ لکھتے ہیں کہ وہ صدق وصفا ورع وتقویٰ میں ممتاز تھے، ان کے تقویٰ اور خشیتِ الہٰی کے بارے میں یہ آیت مثال کے طور پرپیش کی جاتی تھی:
إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاء۔
<ref>(فاطر:۲۸)</ref>
ترجمہ:خدا کے بندوں میں اس سے اس کو جاننے والے ہی ڈرتے ہیں۔