"اسحاق بن راہویہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

282 بائٹ کا اضافہ ،  1 مہینہ پہلے
اضافہ کیا ہے
(اضافہ کیا ہے)
(اضافہ کیا ہے)
انہوں نے اپنی تحریری یادگاریں بھی چھوڑی ہیں اس وقت ان کے موجود ہونے کا کوئی علم نہیں ہے، ابن حبان نے توصرف اتنا لکھا ہے: وصنّف الکتب (ترجمہ:انہوں نے بہت سی کتابیں تصنیف کی ہیں) مگر اس کی کوئی تفصیل نہیں بیان کی، ابنِ ندیم نے البتہ ان کی دوتصنیفات کا تذکرہ کیا ہے: (۱)کتاب السنن فی الفقہ (۲)کتاب التفسیر۔
امام سیوطی رحمہ اللہ نےلکھا ہے کہ تابعین کے بعد جن لوگوں نے فن تفسیر کوزندہ کیا ان میں اسحاق رحمہ اللہ بھی ہیں۔
=== وفات ===
 
۷۷/برس کی عمر میں سنہ۲۳۸ھ میں وفات پائی، ان کی قبر آج بھی زیارت گاہ خلائق ہے، ابن حجر نے لکھا ہے کہ ان کی قبر مشہور ہے اور لوگ اس کی زیارت کوجاتے ہیں۔