"واقعہ کربلا کے اعداد و شمار" کے نسخوں کے درمیان فرق

{{اصلی|کوفہ کے وفادار شیعوں کی فہرست}}
عام طور پر کاہا جاتا ہے کہ کوفیوں نے امام کا ساتھ چھوڑ دیا مگر ابھی وہ امام کے انتظار میں ہی تھے کہ کوفہ پر عبید اللہ ابن زیاد مسلط ہو گیا اور اس نے قتل و قید نیز مسلسل دھمکیوں سے عوام کو دبا دیا۔ اس دباؤکے باوجود کچھ لوگ امام کی نصرت کرنے کربلا پہنچے۔
{{ستون آ|4}}
 
[[عمرو بن خالد ازدی]] یا [[عمرو بن خالد صیداوی]]<ref>ابو مخنف، وقعہ الطف، 1417ق، ص238۔</ref>
* [[یزید بن ثبیط عبدی]]
* [[سالم (غلام بنی مدینہ کلبی)]]
* [[عامر بن مسلم عبدی]]
* [[سالم (غلام عامر بن مسلم)|سالم]]
* [[جوین بن مالک تیمی]] <ref>سماوی، ابصارالعین، ص194۔</ref>۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کل سات افراد تھے<ref>ذخیرة الدارین، الشیرازی، ص:400۔</ref>۔
*[[یزید بن زیاد بن مہاصر]]<ref>تاریخ طبری، ج5، ص445-446</ref>
* [[جابر بن حجاج تیمی]]
* [[جبلہ بن علی شیبانی]]
* [[جنادہ بن کعب انصاری|جنادہ بن کعب بن حارث انصاری خزرجی]] گ
* [[حارث بن امرؤ القیس کندی|حارث بن امراءالقیس بن عابس کندی]]
* [[حباب بن عامر شعبی|حباب بن عامر بن کعب تیمی]] یا [[حباب بن عامر]]
* [[حلاس بن عمرو ازدی]] یا [[حلاس بن عمرو راسبی|حلاس بن عمرو ازدی راسبی]]
قبیلہ تیم اللات بن ثعلبہ میں سے کوفہ کے باشندہ شیعہ علی علیہ السلام تھے اور جب امام حسین علیہ السلام کی کوفہ کی جانب روانگی کی اطلاع ان کو ہوئی تو وہ خفیہ طور پر کوفہ سے باھر نکلے اور راہ میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ کر ہمراہ رکاب ہوئے۔
* [[زاہر بن عمرو اسلمی کندی]]
 
* [[زہیر بن سلیم ازدی|زہیر بن سلیم بن عمروازدی]]
* حجاج بن زید سعدی تمیمی
* [[سیف بن حارث جابری]] [[سیف بن مالک عبدی]]
قبیلہ بنی سعد بن تیم میں سے بصرہ کے باشندہ تھے۔ کربلا میں آکر امام (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حملہ اولٰی میں درجہ شہادت پر فائز ہوئے۔
* [[شبیب بن عبد اللہ نہشلی]]
 
* حلاس بن عمرو ازدی راسبی
اصحابِ حضرت علی علیہ السلام میں سے تھے اور کربلا میں عمر سعد کی فوج کے ساتھ آئے تھے مگر گفتگوئے مصالحت کے ناکام ہونے پر مخفی طریقہ سے شب کے وقت اصحابِ حسین علیہ السلام میں شامل ہوگئے۔
 
* زاہر بن عمرو اسلمی کندی
اصحاب ِرسول (ص) میں سے راوئ حدیث تھے اور بیعتِ رضوان کے شرف سے بہرہ اندوز ہوئے تھے۔جب معاویہ نے عمرو بن الحمق کی گرفتاری کا حکم بھیجا تو زاھر کے نام بھی وارنٹ جاری ہوا تھا مگر وہ روپوش ہوگئے اور قبضہ میں نہ آسکے۔
سنہ 60ھ میں حجِ بیت اللہ الحرام سے شرفیاب ہوئے۔اسی سلسلہ میں امام حسین علیہ السلام سے ملاقات ہوئی اور وہ اصحابِ حسین علیہ السلام میں شامل ہوگئے۔
 
* زہیر بن سلیم بن عمروازدی
شبِ عاشور جب لشکرِ یزید نے امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے کا قطعی فیصلہ کرلیا تو وہاں سے نکل کر اصحابِ حسین علیہ السلام کی طرف آگئے اور آپ (ع) کی نصرت کرتے ہوئے حملہ اولٰی میں شہید ہوئے۔
 
* سالم مولٰی عامر بن مسلم العبدی
اپنے مالک کے ساتھ اسی قافلہ میں جو یزید بن ثبیط قیسی کے ساتھ بصرہ سے مقام ابطح میں پہنچا تھا امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور روزِ عاشور حملہ اولٰی میں شہید ہوئے۔
 
* سوار بن ابی عمیر نہمی
سوار بن منعم بن حابس بن ابی عمیر بن نہم الھمدانی النہمی راویانِ حدیث میں سے تھے۔امام حسین علیہ السلام کے کربلا پہنچنے کے بعد گفتگوئے صلح کے دوران میں کربلا پہنچے تھے۔روزِ عاشور حملہ اولٰی میں زخمی ہوکر گر گئے۔دشمن ان کو گرفتار کرکے عمر سعد کے پاس لے گئے۔اس نے چاھا کہ ان کو قتل کرادے مگر ان کے ہم قبیلہ سپاھی مانع ہوئے اور انہیں بچا کر اپنے ساتھ لے گئے لیکن وہ زخمی اتنے ہوچکے تھے کہ جانبر نہ ہوسکے اور چھ مہینے تک انہی زخموں کی تکالیف میں مبتلا رھنے کے بعد انتقال کیا۔
 
* سیف بن مالک عبدی
قبیلہ عبد قیس میں سے بصرہ کے باشندہ اور ان شیعانِ علی علیہ السلام میں سے تھے جو ماریہ بنت منقذ عبدیہ کے مکان پر مجتمع ہوا کرتے تھے۔یزید بن ثبیط قیسی کے ساتھ نصرتِ امام حسین علیہ السلام کےلیے روانہ ہوئے اور مقام ابطح پر آپ (ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔
 
* شبیب بن عبداللہ
حارث بن سریع ہمدانی جابری کے غلام ، صحابئ رسول (ص) اور حضرت علی بن ابی طالب علیھما السلام کے ساتھ جمل ، صفین اور نہروان تینوں لڑائیوں میں شرکت کا شرف حاصل کیے ہوئے تھے۔کوفہ کے باشندہ تھے اور کربلا میں سیف بن حارث بن سریع اور مالک بن عبد بن سریع دونوں آقازادوں کی معیت میں امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں پہنچے تھے۔
 
* ضرغامہ بن مالک تغلبی
انہوں نے کوفہ میں جناب مسلم بن عقیل علیہ السلام کی بیعت کی اور انکے شہیدہونے کے بعد وہ بھی روپوش ہوگئے۔پھر عمر سعد کی فوج کے ساتھ میدانِ کربلا پہنچے اور پوشیدہ طریقہ پر اصحابِ حسین علیہ السلام کے ساتھ ملحق ہوگئے۔
{{ستون خ|}}
 
== حسینی سفر کے ایام و منازل ==
21,598

ترامیم