"ٹھٹہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  1 مہینہ پہلے
[[1183ء]] میں ٹھٹہ پر سے غزنوی اِقتدار ختم ہوا تو ٹھٹہ کی بدامنی کا دور شروع ہوگیا۔ یہ دور بہت ہی پرآشوب تھا۔ اِس دور کی بدامنی کی بڑی وجہ شاید یہ تھی کہ ٹھٹہ کے حکام اور عوام‘ دونوں نے ہی [[سیاست]] میں حصہ لینا شروع کردیا تھا مثلاً [[تغلق خاندان]] کے عہدِ حکومت میں ہندو رعایا اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے لگی۔ [[1320ء]] میں جب[[سلطان]] [[غیاث الدین تغلق]] [[ملتان]] سے [[دہلی]] گیا تو اُسی وقت [[سومرہ|سومرہ قوم]] نے بغاوت کردی اور ٹھٹہ پر تسلط قائم کرلیا۔ اِس کے بعد [[مارچ]] [[1351ء]] کو جب [[سلطان]] [[محمد بن تغلق|محمد شاہ تغلق]] نے ٹھٹہ کے قریب وفات پائی تو گجرات کے حاکم ’’طَغِی‘‘ نے [[سومرہ|قوم سومرہ]] اور جاریجہ سے ساز باز کرکے [[سلطان]] [[فیروز شاہ تغلق]] کے خلاف بغاوت کردی اور [[سلطان]] [[فیروز شاہ تغلق]] سے ٹھٹہ کے قریب جنگ کی۔ [[1370ء]] میں حاکم ٹھٹہ جام خیر الدین نے بھی بغاوت کردی۔ چنانچہ پے در پے بغاوتوں کے نتیجے میں [[سلطان]] [[فیروز شاہ تغلق]] کو ٹھٹہ میں آنا ہی پڑا۔ جام خیر الدین قلعہ بند ہوگیا، چونکہ موسم لشکرکشی کے لئے سازگار نہ تھا۔اِس لئے سلطان گجرات کی جانب بڑھ گیا۔واپسی پر جب ٹھٹہ آیا تو جام خیر الدین نے معافی طلب کرلی۔ [[سلطان]] [[فیروز شاہ تغلق]] نے اُس کے فرزند جام جُونہ کو ٹھٹہ کا حاکم مقرر کردیا۔ یہ واقعہ [[1375ء]] کا ہے ۔<ref>[[اردو دائرہ معارف اسلامیہ]] : جلد 6، ص 974۔</ref>
===[[سما سلطنت]] ===
[[خاندان تغلق خاندان]] کی حکمرانی کے دوران ہی [[سندھ]] میں [[سما سلطنت]] قائم ہوئی۔[[1336ء]] میں [[جام انار]] نے [[سما سلطنت]] کی داغ بیل ڈالی تو ٹھٹہ کے سیاسی و اخلاقی حالات بدستور ناگفتہ بہ تھے<ref>[[اردو دائرہ معارف اسلامیہ]] : جلد 6، ص 974۔</ref>۔ اِسی طرح [[1406ء]] میں جام علی شیر جو کہ دانا و بہادر حکمران تصور کیا جاتا تھا، کو اُس کے بھائیوں نے دغا سے قتل کروا دیا۔ اِس زمانہ میں سلطان علی شاہ میران خاں بن سلطان سکندر بت شکن([[813ھ]] ـ[[813ھ]]) نے ٹھٹہ فتح کرلیا۔<ref>سجان رائے: [[خلاصۃ التواریخ]]، ص398۔</ref>
 
==مرکز تجارت==