"ٹھٹہ" کے نسخوں کے درمیان فرق

2 بائٹ کا اضافہ ،  1 مہینہ پہلے
[[1554ء]] میں [[ارغون خاندان]] کا ٹھٹہ اور اُس کے قرب و جوار میں اقتدار کمزور پڑنا شروع ہوا تو [[ترخان خاندان]] برسر اِقتدار آگیا۔ جنہوں نے 38 سال تک [[سندھ]] پر حکومت کی۔ نواب میرزا عیسیٰ خاں ترخان کے عہدِ حکمرانی میں ماہ ِ [[ربیع الثانی]] [[963ھ]] مطابق [[مارچ]] [[1556ء]] میں پرتگالیوں نے جمعہ کے دن ٹھٹہ پر دھاوا بول دیا۔لوگ نمازِ جمعہ اداء کر رہے تھے کہ پرتگالیوں نے شہر کو لوٹ کر مکانات کو آگ لگا دی۔ میرزا عیسیٰ خاں اُس وقت [[بھکر]] میں تھا۔ اُسے خبر ملی تو فوراً ٹھٹہ پہنچا۔اُس نے شہر کی ایک فصیل [[دریائے سندھ]] کے ساتھ ساتھ تعمیر کروائی اور ایک نہر کھدوا کر شہر کے اندر لایا۔ نیا قلعہ ’’شاہ بندر‘‘ بھی تعمیر کروایا۔<ref>[[اردو دائرہ معارف اسلامیہ]] : جلد 6، ص 975۔</ref>
 
===[[سلطنت مغلیہ]]===
[[1526ء]] میں جب [[کابل]] کے مغل حکمران [[ظہیر الدین محمد بابر]] نے ہندوستان پر لشکرکشی کی تو اُس وقت تک سندھ پر مقامی حکمرانوں کی حکومت قائم تھی۔ اوائل عہد میں مغلوں کی توجہ [[سندھ]] کی جانب مبذول نہ ہوئی البتہ اِس دوران [[سما سلطنت| سما حکمران]]، [[ارغون خاندان|ارغون حکمران]] اور [[ترخان خاندان|ترخان حکمران]] نے حکومت کی۔ [[1540ء]] کے عشرہ میں جب [[مغل شہنشاہ]] [[نصیر الدین محمد ہمایوں|ہمایوں]] [[شیر شاہ سوری]] سے شکست کھا کر پناہ کی تلاش میں نکلا تو وہ [[لاہور]] سے ہوتا ہوا [[بھکر]] آیا اور [[بھکر]] سے مایوسی کی حالت میں ٹھٹہ پہنچا مگر حسین میرزا ارغون‘ والی ٔ ٹھٹہ نے [[نصیر الدین محمد ہمایوں|ہمایوں]] کے خلاف برسرپیکار ہوگیا اور جنگ کی اور لشکر ہمایوں میں غلہ پہنچنا بند کروا دیا۔ ناچار [[مغل شہنشاہ]] یہاں سے رخصت ہوا اور [[جودھ پور]] کی جانب چلا گیا۔