"پاکستانی نظم" کے نسخوں کے درمیان فرق

م
Bot: Fixing redirects
م (175.110.202.247 (تبادلۂ خیال) کی ترامیم واپس ؛ Wahab کی گذشتہ تدوین کی جانب۔)
م (Bot: Fixing redirects)
جہاں تک [[نظم]] کی ارتقاءکا تعلق ہے تو [[نظم]] کی ترقی کا دور 1857ءکے بعد شروع ہوا لیکن اس سے پہلے بھی نظم ہمیں ملتی ہے۔ مثلا [[جعفر زٹلی]] اور اور [[شیخ ظہور الدین حاتم|شاہ حاتم]] وغیرہ کے ہاں موضوعاتی نظمیں ملتی ہیں۔ لیکن ہم جس نظم کی بات کر رہے ہیں اس کا صحیح معنوں میں نمائندہ شاعر نظیر اکبر آباد ی ہے ۔ نظیر کا دور غزل کا دور تھا لیکن اُس نے نظم کہنے کو ترجیح دی اور عوام کا نمائندہ شاعر کہلایا ۔اُس نے پہلی دفعہ نظم میں روٹی کپڑ ا اور مکان کی بات کی اور عام شخص کے معاشی مسائل کو شعر میں جگہ دی ۔ اُن کے بعد 57 تک کوئی قابل ذکر نام نہیں لیکن 57 کے بعد انگریزی ادب کا اثر ہمارے ادب پر بہت زیادہ پڑا اور اس طرح انجمن پنجاب کے زیر اثر موضوعاتی نظموں کا رواج پڑا۔ آزاد اور حالی جیسے لوگ سامنے آئے نظم کو سرسید تحریک نے مزید آگے بڑھایا لیکن اس نظم کا دائرہ محدود تھا۔ موضوعات لگے بندھے اور ہیئت پر بھی کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی ۔ ہاں اس دور میں ہیئت کے حوالے سے[[ ا سماعیل میرٹھی]] اور [[عبد الحلیم شرر|عبدالحلیم شرر]] نے تجربات کیے لیکن انھیں اتنی زیادہ مقبولیت حاصل نہیں ہو سکی ۔ اکبر الہ آبادی اور اسماعیل میرٹھی کے ہاں مقصدیت کا سلسلہ چلتا رہا
 
لیکن علامہ [[محمد اقبال|اقبال]] نے نظم کہہ کر امکانات کو وسیع تر کر دیا اُس نے ہیئت کا تو کوئی تجربہ نہیں کیا لیکن اُس نے نظم کی مدد سے انسان خدا اور کائنات کے مابین رشتہ متعین کرنے کی کوشش کی اور اس طرح اس فلسفے سے نئی راہیں کھلیں انھوں غیر مادی اور مابعد الطبعیاتی سوالات اُٹھائے جس کی وجہ سے نظم میں موضوع کے حوالے سے نئے راستوں کا تعین ہوا ۔ اس کے بعد رومانیت پسند وں کے ہاں نظم آئی جن میں اختر شیرانی ، جوش ،حفیظ اور عظمت اللہ خان شامل ہیں لیکن وہ اقبال کی نظم کو آگے نہ بڑھا سکے اور محدود اور عمومی سطح کی داخلیت تک نظم کو ان لوگوں نے محدود کر دیا ۔
 
اس کے بعد نظم کا سفر [[ترقی پسند تحریک]] تک پہنچا ان لوگوں کے ہاں بھی ہیئت کے تجربے ہمیں نظر نہیں آتے ان شعراءمیں فیض ، مجاز ، ندیم ، ساحر وغیرہ شامل تھے۔
 
 
[[وزیر آغا|ڈاکٹر وزیر آغا]] کا شمار عبوری دور کے شعراءمیں ہوتا ہے جو برائے نام شاعر ہیں۔ اور حقیقت میں کوئی کامیاب شاعر نہیں رہے ۔ ان کی نظم میں عرضیت نظرآتی ہے خاص کر دیومالائی اور اساطیری حوالے ان کے ہاں زیادہ ملتے ہیں ۔ مٹی کی مہک اور فرد کا اندرونی تعلق فطرت کے خارج کے ساتھ ان کے نظم کا ایک خصوصی پہلو ہے۔