"گرمائی وقت" کے نسخوں کے درمیان فرق

91 بائٹ کا اضافہ ،  7 سال پہلے
م
Bot: Fixing redirects
م (روبالہ جمع {{Commonscat|Clocks}})
م (Bot: Fixing redirects)
[[تصویر:Daylight savings time world.png|thumbnail|250px|<font color="#1E90FF">'''دھوپ بچاؤ وقت استعمال کرنے والے ممالک''' </font> <br /> <font color="#FF4F00">'''ایک مرتبہ دھوپ بچاؤ وقت استعمال کرنے والے ممالک'''</font> <br /> <font color="#c00000">'''دھوپ بچاؤ وقت استعمال نہ کرنے والے ممالک'''</font>]]
 
'''روشنیروز بچتی وقت''' یا '''دھوپ بچاؤ وقت''' <small>(Daylight saving time / DST)</small> کو '''موسم گرما کا وقت''' بھی کہا جاتا ہے جو دنیا کے کئی [[فہرست ممالک|ممالک]] میں رائج ہے۔ عام طور پر اس میں بہار، موسم گرما کے لئے مقامی وقت ایک گھنٹہ آگے بڑھادیا جاتا ہے۔
 
جن ممالک میں یہ نظام رائج ہے وہاں کی حکومتیں اسے "توانائی کی حفاظت" کے لئے ایک اقدام ٹھہراتی ہیں۔
 
اس کا خیال 1784ء میں [[ریاستہائے متحدہ امریکہ]] کے بانیوں میں سے ایک [[بنجمن فرینکلن|بینجمن فرینکلن]] سے پیش کیا۔
 
اس پر پہلی بار [[پہلی جنگ عظیم]] کے دوران [[جرمنی]] نے عملدرآمد کیا اور 30 اپریل 1916ء سے یکم اکتوبر 1916ء کے درمیان پہلی بار گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کی گئیں۔ اس کے فورا بعد [[برطانیہ]] نے 21 مئی سے یکم اکتوبر 1916ء تک اسے اپنایا۔ 19 مارچ 1918ء کو امریکی کانگریس نے [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکہ]] میں دھوپ بچاؤ وقت کی منظوری دی۔
 
[[پاکستان]] نے [[2002ء]] میں دھوپ بچاؤ وقت کو آزمایا تاہم پھر اسے کچھ عرصے کے لیے موقوف کر دیا گیا۔ [[15 اپریل]] [[2009ء]] کو ملک میں ایک مرتبہ پھر اسے آزمایا گیا۔ ابتدائی طور پر اسے [[30 ستمبر]] تک جاری رہنا تھا لیکن بعد ازاں اس میں ایک ماہ کی توسیع کر کے [[31 اکتوبر]] تک کر دیا گیا۔