"میزائل" کے نسخوں کے درمیان فرق

100 بائٹ کا اضافہ ،  9 سال پہلے
م
Bot: Fixing redirects
م (روبالہ جمع: uk:Ракетна зброя)
م (Bot: Fixing redirects)
'''صاروخ''' جسے انگریزی میں missile کہا جاتا ہے اصل میں ایک قسم کا [[پرتاب|پرتابی یعنی (rocket)]] کی مانند یا پھینکا جانے والا [[اسلحہ]] ہے جو اپنے ہدف پر پہنچ کر اپنا کام انجام دیتا ہے اور اسی لیۓ اسکا شمار [[طبیعیات|طبعیاتی]] اصولوں کے مطابق [[قذیفہ|قذیفہ (projectile)]] میں کیا جاتا ہے۔ خدنگا کو صاروخ بھی کہا جاتا ہے۔
 
خدنگا بظاہر ایک بڑا سی نالی ہوتا ہے جس میں [[پرتابہ|پرتابہ (rocket)]] کے انجن لگے ہوتے ہیں اور جو بہت تیزی سے سفر کرتا ہے اس کا سفر سینکڑوں کلو میٹر فی سیکنڈ کے حساب سے ہوتا ہے ۔اس کے انجن ٹھوس ایندھن اور مائع ایندھن سے چلتے ہیں اور یہ لانچ کرنے کے بعد فضا میں عمودی سفر کرتا ہے اور چند ہی سیکنڈ میں دو سو سے تین چار سو (میزائل کی نوعیت کے مطابق)کلو میٹر فضا میں جا کر اپنے منتخب شدہ ہدف کی طرف رخ کر لیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے قہر بن کر اپنے ہدف پر گر جاتا ہے اور اس کے اگلے حصے میں لگے ہوئے بم(وارہیڈ) پھٹ جاتے ہیں اور تباہی پھیلا دیتے ہیں۔میزائل دیگر ہتھیاروں جیسے [[توپ]] ، [[تفنگ|رائفل]] اور [[جہاز]] کے بموں کی نسبت زندہ ہتھیار سمجھا جاتا ہے جو نہ صرف اپنے راستے اور ہدف کو تلاش کرتا ہے بلکہ وقتِ ضرورت خود کشی بھی کر لیتا ہے۔جب کسی فنی خرابی کی وجہ سے میزائل اپنے ہدف کو تلاش نہیں کرپاتا یا راستے کا تعین کرنے میں دقت محسوس کرتا ہے اور جبکہ اس کے پاس وقت بھی بہت کم ہوتا ہے تو ایسے میں یہ خود کشی کر لیتا ہے اور زمین پر گرنے سے پہلے ہی فضا میں پھٹ جاتا ہے۔
 
{{نیم حذف}}
پاکستان کا حتف 7یا [[بابر میزائل]] زمین سے زمین اور زمین سے سمندر میں مار کرنے والے میزائل کی قسم کا ہے جو ہر طرح کے جوہری اور روائتی اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی حد پانچ سو کلومیٹر ہے۔ بابر میزائل کی نشاندہی کسی بھی ریڈار سسٹم یا دفاعی سسٹم پر نہیں ہو سکتی اور اس میزائل کو زمین کے علاوہ جنگی کشتی، آبدوز اور ہوائی جہاز کے ذریعے بھی پھینکا جا سکتا ہے اور یہ پاکستان کے سرکردہ سائنسدانوں اور انجینئروں کی کاوش کا نتیجہ ہے۔ پاکستان نے سب سے دور مار کرنے والے میزائل شاہین ٹو کا بھی تجربہ کیا ہوا ہے اور یہ میزائل جوہری اسلحہ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہین 2، دو ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور متعدد بھارتی مقامات تک باآسانی پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شاہین میزائل کو پاکستان میں سب سے اہم بلاسٹک میزائل گردانا جاتا ہے۔ جبکہ غوری ،حتف اور عنزہ میزائل بھی موجود ہیں ۔یہ زمین سے فضا، زمین سے زمین اور اور فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل ہیں۔
 
زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کی فہرست میں سب سے زیادہ خطرناک میزائل روسی ساختہ اِگلا نامی میزائل ہے جو کچھ ہی عرصہ قبل ایک برطانوی سوداگر نے امریکہ میں بھی اسمگل کیا تھا۔ اس میزائل کے ذریعہ امریکی [[صدر بش]] کے طیارے ’ایئر فورس ون‘ کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ اِگلا میزائل جدید ہتھیاروں کی اس قسم سے تعلق رکھتا ہے جو زمین سے فضا میں مار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ دس ہزار فٹ کی بلندی تک اڑنے والی ہر چیز کو تباہ کر سکتا ہے۔ یہ میزائل [[بوسنیا و ہرزیگووینا|بوسنیا]] کی جنگ کے دوران بھی استعمال کیے گئے تھے۔ جبکہ دو سال قبل [[شیشان|چیچنیا]] میں ایک روسی فوجی جہاز کو مار گرایا گیا تھا جس میں ایک سو اٹھارہ روسی فوجی سوار تھے۔ خیال ہے کہ اس جہاز پر بھی اِگلا میزائل ہی داغا گیا تھا۔ اِگلا میزائل روسی ساختہ ہے اور اس کی فروخت 80 اور90 کی دہائی میں ہوئی تھی۔ یہ جہاز کے انجن سے خارج ہونے والی حرارت کا پیچھا کرتے ہوئے اپنے شکار کو جا لیتا ہے۔ اسی نوعیت کے امریکی میزائل سٹنگر ہیں جو افغان روس جنگ میں آزمائے گئے۔ اب بھی افغانستان میں سینکڑوں سٹنگر میزائل موجود ہیں جو جنگ کے دوران [[ریاستہائے متحدہ امریکہ|امریکہ]] نے روسی طیاروں کو گرانے کیلئے سٹنگر اور دیگر نوعیت کے راکٹ، بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مادے سمیت طرح طرح کے ہتھیار وار لارڈز کے حوالے کیے تھے۔ بعد میں امریکہ نے ان میزائلوں کو مجاہدین سے بھاری قیمت پر واپس خریدنے کی کوشش بھی کی تھی جو کامیاب نہ ہو سکی اور اب بھی افغانستان میں سو کے قریب سٹنگر میزائل موجود ہیں۔ بلکہ ابھی حال ہی میں افغانستان میں بین الاقوامی حفاظتی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انہیں امریکہ میں بنے سٹنگر میزائل اور راکٹ فروخت کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ جنرل اکِن زورلو نے کہا کہ انکے فوجیوں کو سٹنگر میزائل دو لاکھ ڈالر اور راکٹ پانچ سے دس ہزار ڈالر کی شرح سے فروخت کئے جانے کی پیشکش کی گئی۔ ان کے خیال میں حالیہ دنوں میں کابل پر راکٹ حملوں میں اضافہ ڈیلروں کی طرف سے بین الاقوامی امن فوجیوں پر راکٹ خریدنے کے لئے دباؤ ڈالنے کا حربہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کابل میں صحافیوں کو بتایا تھاکہ تقریباً ہر ایسے واقعہ کے بعد انہیں ہتھیاروں کی فروخت کی پیشکش ہوتی رہی۔ امن فوج کے ایک اڈے پر ایک ہفتے کے دوران کم از کم چھ راکٹ داغے گئے۔
 
[[ایران]] کا شہاب سوئم میزائل زمین سے زمین پر مار کرنے والا بیلاسٹک میزائل ہے ۔یہ تیرہ سو کلو میٹر دور تک مار کرتا ہے ۔یہ میزائل 1998میں تیار کیا گیا تھا جس کا تجربہ ابھی حال ہی میں کیا گیا ہے جو اسرائیل تک پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ [[اسرائیل]] کے پاس بھی بیلاسٹک میزائلوں کا ڈھیر لگا ہوا ہے ۔جیریکو I اور جیریکوII نہ صرف [[ایران]] بلکہ تمام اسلامی دنیا اور ایشیا کے دیگر ممالک تک مار کر سکتا ہے۔ [[فرانس]] کے ایم 4 اور ایم 45 بیلاسٹک میزائل 4000 اور 5300 کلو میٹر تک پہنچتے ہیں۔ بھارت کا بیلاسٹک پرتھوی 150 سے 250 کلومیٹر جبکہ اگنی 2500 کلو میٹر تک پہنچتا ہے۔ روس کا ایس ایس 18 گیارہ ہزار، ایس ایس 19 دس ہزار، ایس ایس 24 دس ہزار، ایس ایس 25 دس ہزار پانچ سو، ایس ایس این 18 چھ ہزار پانچ سو، ایس ایس این 20 آٹھ ہزار تین سو کلو میٹر تک مار کرتے ہیں۔ برطانیہ کا ٹرائیڈینٹ D5 بارہ ہزار کلو میٹر تک پہنچ سکتا ہے۔ امریکہ کا ایل جی ایم 30 G تیرہ ہزار ، ایل جی ایم 118نو ہزار چھ سو، یو جی ایم 93 A سات ہزار چار سو، یو جی ایم 133 A بارہ ہزار کلو میٹر تک مار کر سکتے ہیں۔