"آل سعود" کے نسخوں کے درمیان فرق

1 بائٹ کا اضافہ ،  8 سال پہلے
م (روبالہ جمع: vi:Nhà Saud)
 
== سربرہان آل سعود ==
آل سعود کی جانب سے بحرین اور یمن کی انقلاب تحریکوں کو کچلے جانے کی خبریں کم و بیش میڈیا پر آتی رہی ہیں اور اس کے برعکس شام میں باغی عناصر کو مکمل طور سے سپورٹ کرنے کی لاحاصل کوششوں سے بھی سبھی واقف ہیں کہ جس کا واحد مقصد اس خطے میں اسرائیل کے وجود کو لاحق خطرات دور کرنا اور اپنی سلطنت کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔آل سعود سعودی عرب کا شاہی خاندان ہے۔جزیرہ نما عرب یا یوں کہا جائے کہ سرزمین حجاز پر آل سعود کا اثر و رسوخ چند صدیاں قبل شروع ہوگیا تھا تاہم جدید مملکت سعودی عرب کی بنیاد 1932ء میں پڑی۔ مملکت کے بانی عبد العزیز بن سعود سے قبل یہ خاندان نجد میں حکمران تھا اور کئی مواقع پر عثمانی سلطنت اور مکہ کے حکمراں راشدیوں سے ان کا ٹکراؤ ہوا تاہم چونکہ انگریزوں کے ساتھ آل سعود کا گٹھ جوڑ تھا لہذا انگریزوں نے ان کا خوب ساتھ دیا اور آج تک اس خاندان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ موجودہ خاندان سعود تقریباً 25 ہزار ارکان پر مشتمل ہے اور بانئ سلطنت عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد ہی سعودی ریاست کا شاہ یا ولی عہد قرار دی جا سکتی ہے اور ملک کی ساری دولت و ثروت کا مالک ایک ہی خاندان ہے۔ اس خاندان کی بقا دارو مدار امریکہ اور مغرب پر ہے جبکہ عرب اور اسلامی دنیا میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کے لئے مذہب کو آڑ بنا رکھا ہے۔ سعودی خاندان کی عیاشیوں اور بیت المال کی لوٹ کھسوٹ کا قریب سے مشاہدہ کرنے والے تکفیری مراکز کے مفتیوں اور مدارس کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے جو اس خاندان کی برائیوں اور بدعنوانیوں پر نہایت خوبصورتی سے پردہ ڈالے ہوئے ہیں۔ حتی عرب اور اسلامی دنیا کا میڈیا بھی اپنے آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ آل سعود کے خلاف لب کشائی کرے۔لہذا سعودی عرب سے شاذونادر ہی کوئی خبر لوگوں تک پہنچ پاتی ہے۔ آل سعود اس وقت بیک وقت تین ممالک میں سرگرمیاں دکھارہی ہے۔بحرین یمن اور شام، شام کے تعلق سے دعوی کیا جارہا ہے کہ بشار اسد کی شیعہ حکومت سنیوں پر مظالم کر رہی ہے۔ بحرین کے بارے میں یہ پرو پیگنڈا ہے کہ وہاں کے شیعہ بحرین کی سنی حکومت کا تختہ الٹنا چا ہتے ہیں، لیکن یمن کے معاملے میں ریاض حکومت کی پاس کیا بہانہ ہے جو وہاں عوام کی انقلابی تحریک کے مقابلے میں ڈکٹیر کی حمایت کی جار ہی ہے۔لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کے مشکوک قتل کے وقت تک بشار اسد اور سعودی عرب کے تعلقات نہایت دوستانہ تھے لیکن امریکہ نے نئے مشرق وسطی کے اپنے منصوبے کوعملی جامہ پہنانے کے لئے لبنان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کوشش کی اور رفیق حریری کو دہشت گردی کے ایک مشکوک واقعے کے ذریعے قتل کیا گیا اور قتل کا الزام شام کے سر تھونپا گیا ریاض نے اس معاملے میں امریکہ کا ساتھ دیا اور شام کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات میں سرد مہری آگئی اور لبنان کی حفاظت پر مامور شامی فوجوں کو لبنان سے نکلنا پڑا۔2006 میں 33 روزہ جنگ کے بعد نئے مشرق وسطی کا امریکی منصوبہ حزب اللہ کے ہاتھوں خاک میں مل گیا تو آل سعود اور امریکہ کو عرب اور اسلامی دنیا کے سامنے سخت ہزیمت اٹھانی پڑی چنانچہ شام کے ساتھ اسی وقت بدلہ لینے کی ٹھانی۔مصر میں امریکی مفادات کے محافظ صدر حسنی مبارک کے اقتدار سے محروم ہونے کے بعد سعودی عرب کے پڑوس یعنی بحرین اور یمن کے عوام جب سڑکوں پر آئے تو یہ یہ بات سعودی عرب کے لئے سخت تشویش ناک تھی اور امریکہ بھی اس خطے میں اپنے ایک اتحادی کے ہاتھ سے نکل جانے بعد کسی صورت میں یہ برداشت نہیں کرسکتا تھا کہ اس علاقے میں اسرائیل کے وجود کو کوئی خطرہ لاحق ہو لہذا اس نے سعودی عرب کو بحرین اور یمن کی ڈکٹیٹر حکومتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری دینے کے ساتھ ساتھ مصر کا جانشین تلاش کرنے کا مشن سونپا اور اس مقصد کے لئے شام کو مناسب جانا کہ جس کی سرحدیں اسرائیل کے ساتھ ملتی ہیں، چنانچہ سعودی عرب قطر اور ترکی نے مل کر شام میں بظاہر عوامی تحریک کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور شام کی حکومت کے خلاف مظاہروں نے مسلح حملوں ، بم دھماکوں اور خودکش کاروائیوں کی شکل اختیار کرلی، لیکن چونکہ اس سلسلے میں شامی عوام نے ہوشیاری کا ثبوت دیتے ہوئے اصلاحات کے نام پر مسلح دہشت گردی کا ساتھ دینے سے صاف انکار کردیا۔اس لئے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ جولوگ ان کا ساتھ دینے کی باتیں کر رہے ہیں وہ تو خود ان سے زیادہ اصلاحات کے محتاج ہیں۔سعودی عرب اور قطر کا جہاں مورثی حکو متیں قائم ہیں ان اصلاحات سے کیا تعلق، اور اگر انہیں شام کے سنی عوام سے کوئی ہمدردی ہے تو انہیں چاہیے کہ پہلے فلسطینی عوام خصوصا حماس کا ساتھ دیں۔ بہرحال اس وقت بحرین اور یمن میں عوامی تحریکوں کو کچلنے میں سعودی عرب کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے اور یہ اور بات ہے کہ خود سعودی عرب کو اس وقت اپنے ملک :ی اند مخالفتوں کاسامنا ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں طلباء نے مظاہرے کرکے تعلیم کی نامناسب صورتحال پر احتجاج کیا ہے۔پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق طلباء نے اس مظاہرے کے بعد کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ ادھر انقلاب بلاد الحرمین نامی تنظیم نے سعودی باشندوں سے ملک گير مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔ التغیر ویب سائٹ کے مطابق انقلاب بلادالحرمین نامی تنظیم نے سترہ مارچ کو ملکی سطح پر یونیورسٹیوں اور اسکولوں میں احتجاجی مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب میں انسانی اور شہری حقوق کی ایک تنظیم نے جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کےساتھ اظہار یکجہتی کرنے کے لئے پندرہ اور سولہ مارچ کو دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ درایں اثنا سعودی عرب کی قومی ایرلائن کے ملازموں نے بھی آئندہ ہفتے سے ایرلائن سے وابستہ مراکز میں مالی بدعنوانیوں کےخلاف احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے ایام آل سعود کے لئے بتدریج سخت ہوتے جائیں گے۔
'''پہلی سعودی ریاست'''
* [[محمد ولد سعود]]
گمنام صارف