"حفصہ بنت عمر" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
{{امہات المؤمنین}}
{{عمر (صحابی)}}
حضرت '''حفصہ بنت عمر''' رضی اللہ عنہا حضرت [[محمد {{درود}}]] کی ازواج میں سے ایک تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا حضرت [[عمر فاروق]] رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام [[زینب بنت مطعون]] تھا۔ ان کی پہلی شادی [[ خینس بن خدافہ]] سے ہوئی۔ حضرت حفصہ نے ان کے ساتھ [[مدینہ]] ہجرت کی۔ غزوہ بدر میں خنیس نے زخم کھائے اور مدینہ واپس پہنچ کر شہادت پائی۔ 3 ھ میں حضرت حفصہ نبی اکرم کے جبالۂ عقد میں آئیں۔ ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ [[امیر معاویہ]] کے عہد خلافت میں مدینہ میں وفات پائی۔ آپ پڑھی لکھی اور حافظ قرآن تھیں۔ [[ زید بن ثابت]] نے قرآن کا جو نسخہ جمع کیا تھا وہ حضرت [[حفصہ]] کے پاس امانت رکھا تھا۔ [[حضرت عثمان]] نے اسی نسخے کی نقلیں کراکے دوسرے مقامات کو بھیجیں۔
حضرت '''حفصہ بنت عمر''' {{رض مو}} حضرت [[محمد {{درود}}]] کی ازواج میں سے ایک تھیں۔
 
==سوانح==
آپ کا 45ھ میں [[مدینہ]] میں انتقال ہوا۔
حضرت '''حفصہ بنت عمر''' رضی اللہ عنہا حضرت [[محمد {{درود}}]] کی ازواج میں سے ایک تھیں۔ آپ رضی اللہ عنہا حضرت [[عمر فاروق]] رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام [[زینب بنت مطعون]] تھا۔ ان کی پہلی شادی [[ خینس بن خدافہ]] سے ہوئی۔ حضرت حفصہ نے ان کے ساتھ [[مدینہ]] ہجرت کی۔ غزوہ بدر میں خنیس نے زخم کھائے اور مدینہ واپس پہنچ کر شہادت پائی۔ 3 ھ میں حضرت حفصہ نبی اکرم کے جبالۂ عقد میں آئیں۔ ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ [[امیر معاویہ]] کے عہد خلافت میں مدینہ میں وفات پائی۔ آپ پڑھی لکھی اور حافظ قرآن تھیں۔ [[ زید بن ثابت]] نے قرآن کا جو نسخہ جمع کیا تھا وہ حضرت [[حفصہ]] کے پاس امانت رکھا تھا۔ [[حضرت عثمان]] نے اسی نسخے کی نقلیں کراکے دوسرے مقامات کو بھیجیں۔
 
==نکاح==
ان کی پہلی شادی [[ خینس بن خدافہ]] سے ہوئی۔ حضرت حفصہ نے ان کے ساتھ [[مدینہ]] ہجرت کی۔ غزوہ بدر میں خنیس نے زخم کھائے اور [[مدینہ]] واپس پہنچ کر شہادت پائی۔ 3 ھ میں حضرت حفصہ نبی اکرم کے حبالۂ عقد میں آئیں۔ ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔
 
==وفات==
حضرت حفصہ [[امیر معاویہ]] کے عہد خلافت میں {{سال ہجری|45}} مدینہ میں وفات پائی۔
 
 
==حوالہ جات==
{{حوالہ جات}}
 
[[زمرہ:606ء کی پیدائشیں]]
[[زمرہ:660ء کی اموات]]
[[زمرہ:ازواج مطہرات]]
[[زمرہ:اہل بیت]]