"پارسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

2,386 بائٹ کا ازالہ ،  8 سال پہلے
م
184.7.123.197 (تبادلۂ خیال) کی ترامیم واپس ؛ JackieBot کی گذشتہ تدوین کی جانب۔
م (184.7.123.197 (تبادلۂ خیال) کی ترامیم واپس ؛ JackieBot کی گذشتہ تدوین کی جانب۔)
جسمانی طہارت اور کھلی فضا میں رہائش پارسیوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ پاکیزگی کی مقدس علامت کے طور پر ، ان کے معابد اور مکانات میں ، ہر وقت آگ روشن رہتی ہے۔ خواہ وہ چراغ ہی ہو۔ ہندو ’’سناتن دھرم‘‘ اور [[يہوديت|یہودیوں]] کی طرح ، پارسی مذہب بھی غیر تبلیغی ہے۔ یہ لوگ نہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو اپنے مذہب میں داخل کرتے ہیں اور نہ ان کے ہاں شادی کرتے ہیں۔ ان کڑی پابندیوں کے باعث ابھی تک دوسرے طاقتور مذاہب ’’[[اسلام]] ، [[ہندومت|ہندو مت]] ، [[عیسائیت]]‘‘ کے ثقافتی اثرات سے محفوظ ہیں۔ حصول علم ان کا جزوایمان ہے ۔ ہر پارسی معبد میں ایک اسکول ہوتا ہے۔ دنیا میں پارسیوں کی کل تعداد لاکھوں میں ہے اور اس میں بھی ان لوگوں میں شادی کے رجحان کے کم ہونےسے مزید کمی واقع ہورہی ہے۔
 
قريبی اکثریت [[بمبئ]] اوراس کے گردو نواح میں آباد ہے۔ یہ لوگ عموما تجارت پیشہ ہیں اور سماجی بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ بمبئی اور کراچی کے کئی سکول ہسپتال اور کتب خانے ان کے سرمائے سے چل رہے ہیں۔ ہندوستان کا پہلا فولاد کا کارخانہ [[جمشید ٹاٹا]] نے [[جمشید پور]] میں بنائی۔ ہندوستان میں جدیدسٹیج ڈرامے اور فلم سازی کے بانی بھی یہی ہیں۔
****" کراچی کی ایک تاریخ ساز شخصیت"****
*عادل جی دنشاہ*(1844۔1936)
۔۔۔۔۔ احمد سھیل ----
 
کراچی کی تاریخ میں پارسیوں(زرتشت) کی تعلیمی، فلاحی،طبی اور خیراتی خدمات کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ غیر منقسم ہندوستان میں فولاد کی صعنت،جدید اسٹیج ڈرامہ اور فلمسازی کے میدان میں بھی کارہائے نمایاں انجام دئے ۔ ایک عرصے تک کراچی کی پارسی براداری کا یہاں کی تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں اھم شراکت داری رھی ھے ۔ ان میں سے کئی کا تعلق ممبئی کے تجارتی گھرانوں سے تھا۔ ان لوگوں کو جتنا ممبئی عزیز تھا اتنا ھی ان کو کراچی سے بھی لگاؤ تھا۔ کراچی میں پارسیوں کی ایک بڑی تعداد جائیداد کی خریدوفروخت، جہازرانی، ھوٹل اور مشروبات کے کاروبار میں مصروف رھی۔ جس کو کراچی کی معیشت کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ کراچی کے پہلے ناظم شہر(مئیر) جمشید نصروانجی (مدت حکومت، نومبر 1933 تا 3 مئی 1935) کا تعلق بھی پارسی براداری سے تھا۔ 1893 میں ایک پارسی تاجر عادل جی دنشاہ(1844-1936 ممبئی) جو تقریبا آدھے کراچی کی زمینوں کے مالک تھے اور کانگریس پارٹی کے بنیاد گزاروں میں شامل تھے۔ کراچی کے قلب(صدر) میں ایک خیراتی شفاخانہ کھولا۔ جو شروع میں صرف آٹھ (8) بستروں پر مشتمل تھا۔ کچھ ھی عرصے بعد اس کی ایک شاخ کیماری میں بھی کھولی گئی۔ عادل جی دنشاہ نے اس کے لیے خطیر رقم عطیے کے طور پر دی۔ یہ وھی عادل جی دنشاہ ہیں جن کے عطیے سے کراچی کی مایہ ناز اور معروف این ای ڈی ا نجینرنگ یونیورسٹی قائم ھوئی۔ جو پاکستان کا سب سے قدیم انجنیرنگ تعلیمی ادارہ ھے۔
 
**Kulke, Eckehard: ''The Parsees in India: a minority as agent of social change.'' München: Weltforum-Verlag (= Studien zur Entwicklung und Politik 3), ISBN 3-8039-00700-0