"ایہام گوئی" کے نسخوں کے درمیان فرق

حجم میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ،  14 سال پہلے
ابہام سے مرادر یہ ہے کہ شاعر پورے شعر یا اس کے جزو سے دو معنی پیداکرتا ہے۔ یعنی شعر میں ایسے ذو معنی لفظ کا استعمال جس کے دو معنی ہوں ۔ ایک قریب کے دوسرے بعید کے اور شاعر کی مراد معنی بعید سے ہوابہام کہلاتا ہے۔بعض ناقدین نے ابہام کا رشتہ سنسکرت کے سلیش سے بھی جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ درست نہیں کیونکہ سلیش میں ایک ایک شعر کے تین تین چار چا ر معنی ہوتے ہیں جب کہ ابہام میں ایسا نہیں ہوتا۔
 
== اردو شاعری میں ایہامابہام گوئی ==
 
ولی دکنی کا دیوان 1720ءمیں دہلی پہنچا تو دیوان کو اردو میں دیکھ کر یہاں کے شعراءکے دلوں میں جذبہ اور ولولہ پیدا ہوا اور پھر ہر طرف اردو شاعری اور مشاعروں کی دھوم مچ گئی۔ لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ولی کے تتبع میں شمالی ہند میں جو شاعری شروع ہوئی اس میں سب سے نمایاں عنصر ”ایہام”ابہام گوئی“ تھا۔ اس لیے اس دور کے شعراءایہامشعراءابہام گو کہلائے۔ اس دور کی شاعری میں ایہامابہام کو اس قدر فروغ کیوں حاصل ہوا۔ آئیے ان اسباب کا جائزہ لیتے ہیں۔
 
== اسباب ==
گمنام صارف