"خانان کریمیا" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی ترمیمی خلاصہ نہیں
م (روبالہ: منتقلی 51 بین الویکی روابط، اب ویکی ڈیٹا میں d:q160440 پر موجود ہیں)
[[تصویر:Crimean_Khanate_1600.gif|thumb|خانان کریمیا کی ریاست بمطابق 1600ء]]
'''ریاستِ خانان کریمیا''' یا '''[[خانیت کریمیا]] [[1441ء]] سے [[1783ء]] تک [[کریمیائی تاتار]] مسلمانوں کی ایک ریاست تھی، جس کا مقامی نام "قرم یورتی" تھا جبکہ ترک اسے “قرم خانلغی“ کہتے تھے۔ انگریزی میں اسے “Crimean Khanate“ کہا جاتا ہے۔
خانان کریمیا کی یہ ریاست [[آلتن اوردہ]] کے خاتمے پر قائم ہونے والی ترک خانان کی ریاستوں میں سب سے زیادہ طویل عرصہ تک قائم رہنے والی حکومت تھی۔ یہ [[دشت قپچاق]] (موجودہ [[یوکرین]] و جنوبی [[روس]] کے میدانی علاقوں)میں سلطنت آلتن اوردہ کے اُن مختلف قبائل نے مل کر تشکیل دی جو کریمیا کو اپنی سرزمین بنانا چاہتے تھے۔ اس امر کے لیے انہوں نے [[حاجی گیرائے]] کو اپنا حکمران مقرر کیا اور [[1441ء]] میں ایک آزاد ریاست قائم کی۔ یہ سلطنت [[جزیرہ نما کریمیا]] اور دشت قپچاق پر مشتمل تھی۔
حاجی گیرائے کے انتقال کے بعد اس کے بیٹوں میں تخت کے لیے کشمکش شروع ہو گئی اور یوں [[1478ء]] میں [[سلطنت عثمانیہ]] کے زیر تحفظ چلی گئی جو اس وقت [[بحیرہ اسود]] کے ساحلی علاقوں میں اپنے اثر و رسوخ میں اضافہ کر رہی تھی۔ سلطنت عثمانیہ اور خانان کریمیا کے تعلقات انتہائی خوشگوار تھے، حالانکہ منتخب خان کو سلطان سے منظوری لینا پڑتی تھی لیکن وہ [[قسطنطنیہ]] کا مقرر کردہ نہیں ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں خارجہ پالیسی میں بھی وہ کسی حد تک عثمانی اثر سے آزاد تھے۔ خانان کو اپنے سکے چلانے اور خطبۂ جمعہ میں اپنا نام شامل کرنے کی بھی اجازت تھی جو ان کی سالمیت کی ایک اہم علامت تھی۔ وہ سلطنت عثمانیہ کو کسی قسم کا خراج نہیں دیتے تھے بلکہ اس کے برعکس عثمانی انہیں فوجی خدمات کے عوض ادائیگی کرتے تھے۔