"سقوط کردہ فرشتے" کے نسخوں کے درمیان فرق

=== اسلامی نقطہء نظر ===
قرآن پاک میں فرشتوں کا ذکر 90 بار جمع کے صیغے کے طور پر اور اللہ کے فرمانبرداروں کے طور پر آیاہے۔اسلام کیمطابق شیطان جنوں میں سے تھا کیونکہ فرشتے نافرمانی کا مادہ نہیں رکھتے۔ قرآن پاک میں شیطان کے سقوط سے قبل دیگر فرشتوں کے ہمراہ ان سورتوں 2:34, 7:11, 15:29, 17:61, 18:50, 20:116, 38:71میں ذکر آیاہے۔ شیطان کو ابلیس کا خطاب حاصل تھا جو اپنی باغیانہ روش اور سرکشی کے باعث اللہ کے دربار سے راندہ ہوا ۔ تب شیطان نے زمین پر انسانوں کو لبھاوا دیکر جہنم میں داخل کرنے کا عزم کیا کیونکہ اللہ نے اسکو قیامت کے دن تک مہلت دے دی تھی۔ اسلام میں یہ عقیدہ پایاجاتاہے کہ انسانوں کی طرح جنوں کو اختیار ھاصل ہے کہ وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کرکے کسی ایک کو منتخب کرکے اللہ کی فرمانبرداری یا نافرمانی کا اظہار کریں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ جنات بھی اعمال میں اختیار رکھتے ہیں۔ <br />
[[ہاروت]] اور [[ماروت]] دو فرشتے تھے جو کہ بابل کی بستی میں بھیجے گئے تھے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں ۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ فرشتوں کی سرشت میں خود مختاری نہیں مگر ماسوائے یہ کہ اللہ کی فرمانبرداری کریں۔
 
== حوالہ جات ==
3,360

ترامیم