"سقوط کردہ فرشتے" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
[[File:AngelCaido.jpg|thumb|[[Fuente del Ángel Caído|Statue of the Fallen Angel]], [[Retiro Park]] (Madrid, Spain)]]
[[File:"The Fallen Angels" by Albano IMG 3886.JPG|thumb|Statue of "The Fallen Angels" (1893) by [[Salvatore Albano (sculptor)|Salvatore Albano]] at the [[Brooklyn Museum]] in [[New York City]]]]
سقوط کردہ [[فرشتے]] یا سقوط کردہ [[فرشتہ]] سے مراد ایسے باغی، سرکش اور بد جنس فرشتے ہیں جن کو [[جنت]] سے دھتکاردیاگیاہو۔ "سقوط کردہ فرشتے " کی اصطلاح کا ذکر نہ تو [[یہودی]] [[بائبل]] میں ہے نہ ہی [[اسفار قانونی دوم]] میں اور نہ ہی عہد نامہ جدید میں پایاجاتاہے۔ بہرحال بائبل کے مفسرین اس اصطلاح کو ایسے فرشتوں کیلئے استعمال کرتے ہیں جنہوں نے [[اللہ تعالیٰ]] کی نافرمانی کا [[گناہ]] کیا اور دھتکارے گئے۔ یہ فرشتے کسی نہ کسی طرح [[معرکہ خیر و شردر الجنۃ|الجنۃ میں معرکہ خیر و شر]] کا حصہ تھے جبکہ اس جنگ کے کردار و محرکات [[آدم]]، [[ارواح خبیثہ]]، [[ابلیس]] اور [[ناظران]] پر مشتمل تھے۔تاہم یہ اصطلاح فرشتوں کے متعلق ادب اور داستان میں استعمال ہوتی ہے۔<br />
[[جبل الشيخ]] پر جن فرشتوں کے اترنے کا (نہ کہ سقوط کا) ذکر ہے [[کتاب ادریس]] میں ہواہے اس اصطلاح کو [[کلیسا توحیدی آرتھوڈوکس اریٹیریا]] اور [[کلیسا توحید آرتھوڈوکس ایتھوپیا]] نے ایک [[مستندکتب|مستند اصطلاح]] کے طور پر قبول کیاہےجیسا کہ [[کتب غیر انساب]] میں ہوتاہے۔
== سقوط کردہ فرشتوں کے متعلق بنیادی ماخذ ==
1۔جب رُویِ زمین پر آدمی بہت بڑھنے لگے اور اُنکے بیٹیاں پَیدا ہوئیں۔
 
2 ۔تو خُدا کے بیٹوں نے آدمی کی بیٹیوں کو دیکھا کہ وہ خوبصورت ہیں اور جِنکو اُنہوں نے چُنا اُن سے بیابیاہ کر لیِا ۔
 
3۔ خُداوند نے کہا کہ میری رُوح اِنسان کے ساتھ ہمیشہ مزاحمت نہ کرتی رہیگیرہے گی کیونکہ وہ بھی تو بشر ہے تَوبھی اُسکی عمُر ایک سَو بیس برس کی ہوگی ۔
 
4 ۔اُن دِنوں میں زمین پر جبّار تھے اور بعد میں جب خُدا کے بیٹے اِنسان کی بیٹیوں کے پاس گئے تو اُنکے لِئےاُن سے اَولاد ہوئی ۔ یہی قدیم زمانہ کے سُورما ہیں جو بڑے نامور ہوئےہیں ۔
 
== سقوط شیطان ==
[[عبرانی بائبل]] بھی یہی بتاتی ہے کہ شیطان فرشتہ نہیں تھا تاہم [[ابلیس]] اسکا نام اور وہ نسل [[جن]] سے تھا۔ عبرانی بائبل نے شیطان کے سقوط کے بارے میں تفصیلی وضاحت بیان نہیں کی جبکہ شیطان کو انسان کا دشمن اورخدا تعالیٰ سے کم اختیارات کا حامل قراردیاہے۔ مجموعی طور پر عبرانی بائبل شیطان کو ایک مدعی، ازارآزار دہندہ اور اغواءکنندہ کے طور پر بیان کرتی ہے۔ اس کا لقب cherub تھا جو کہ فرشتوں کا ایک درجہ ہے۔ اسکی تصویر کشی بطور برائی کا منبع، شریر کی گئی ہے۔ بعد ازاں اسے مسیحا کے فرشتوں کے ذریعے شکست سے دوچار ہونے والا کہاگیاہے۔
 
== عیسائی روایات ==
 
=== اسلامی نقطہء نظر ===
[[قرآن پاک]] میں فرشتوں کا ذکر 90 بار جمع کے صیغے کے طور پر اور اللہ کے فرمانبرداروں کے طور پر آیاہے۔اسلام کیمطابق شیطان جنوں میں سے تھا کیونکہ فرشتے نافرمانی کا مادہ نہیں رکھتے۔ قرآن پاک میں شیطان کے سقوط سے قبل دیگر فرشتوں کے ہمراہ ان سورتوں 2:34, 7:11, 15:29, 17:61, 18:50, 20:116, 38:71میں ذکر آیاہے۔ شیطان کو ابلیس کا خطاب حاصل تھا جو اپنی باغیانہ روش اور سرکشی کے باعث اللہ کے دربار سے راندہ ہوا ۔ تب شیطان نے زمین پر انسانوں کو لبھاوا دیکر جہنم میں داخل کرنے کا عزم کیا کیونکہ اللہ نے اسکو قیامت کے دن تک مہلت دے دی تھی۔ اسلام میں یہ عقیدہ پایاجاتاہے کہ انسانوں کی طرح جنوں کو اختیار ھاصل ہے کہ وہ اچھائی اور برائی میں تمیز کرکے کسی ایک کو منتخب کرکے اللہ کی فرمانبرداری یا نافرمانی کا اظہار کریں۔ اس سے ظاہر ہوتاہے کہ جنات بھی اعمال میں اختیار رکھتے ہیں۔ <br />
[[ہاروت]] اور [[ماروت]] دو فرشتے تھے جو کہ بابل کی بستی میں بھیجے گئے تھے تاکہ لوگوں کی آزمائش کریں ۔ قرآن میں یہ واضح ہے کہ فرشتوں کی سرشت میں خود مختاری نہیں مگر ماسوائے یہ کہ اللہ کی فرمانبرداری کریں۔
 
3,360

ترامیم