خواجہ مولانا فخر الدین فخرِ جہاں دہلوی سلسلہ چشتیہ کے بزرگوں میں شامل ہوتے ہیں۔

خواجہ فخر الدین فخرِ جہاں دہلوی
پیدائشفخر الدین
وفات1784ء
دہلی (انڈیا )
قلمی ناممحب النبی
اصنافسلسلہ چشتیہ
نمایاں کامتصانیف نظام العقائد: رسالہ مرجیہ: فخر الحسن
رشتہ دار شاہ نظام الدین اورنگ آبادی کے فرزند ہیں

نام ونسب

ترمیم

نام فخر الدین، لقب محب النبی، برہان العارفین مولانا شاہ نظام الدین اورنگ آبادی چشتی نظامی کے فرزندِ ارجمند ہیں۔آپ کا سلسلہ ٔ نسب شیخ الشیوخ شیخ شہاب الدین سہروردی کے واسطے سے سیدنا صدیقِ اکبر تک پہنچتا ہے۔آپ کی والدہ خواجہ سید محمد گیسو دراز کے خاندان سے تھیں۔

تاریخِ ولادت

ترمیم

آپ کی ولادت 1126ھ، مطابق/ 1717ء اورنگ آباد (انڈیا) میں ہوئی۔

القاب و خطابات

ترمیم

قطب یگانہ، قطب منفردِ قطب وحدت قطب حقیقت غوث اعظم قطب الاقطاب پیشوائے محبوبیت و عشق مقتدائے عارفاں امام کاملاں قطب الاولیاء غوث وقت فرد الافراد قطب الافراد اور محبوب یزداں ان کے القابات وخطابات ہیں۔

تحصیلِ علم

ترمیم

آپ نے ابتدائی تعلیم سے لے کر مختلف علوم کی امہات الکتب تک کی تعلیم والدصاحب سے حاصل کی۔پھر شاہ کلیم اللہ شاہ جہاں آبادی کے حکم سے وقت کے مشہور اور قابل ترین علما، میاں محمد جان اور مولانا عبد الحکیم اوردکن کے مشہور محدث مولانا حافظ اسعد الانصاری المکی سے ان کی تعلیم کی تکمیل کرائی۔درسی کتب کے علاوہ شاہ صاحب نے دیگر علوم و فنون میں بھی مہارتِ تامہ حاصل کی۔

بیعت و خلافت

ترمیم

اپنے والدِ گرامی شاہ نظام الدین سے سولہ سال کی عمر میں خلافت عطا ہوئی تھی۔

سیرت وخصائص

ترمیم

آپ کی ولادت پر شاہ کلیم اللہ دہلوی نے بایں الفاظ بشارت دی :" کہ یہ نو مولود مستقبل میں ہدایت وار شاد کی شمع روشن کرے گا، جس سے مخلوق کے سینے منور ہوں گے اور شریعت و طریقت کے میخانے میں پھر سے بہار آجائے گی۔ یہ بچہ دینِ حنیف کے لیے باعثِ فخروصد افتخار ہوگا، تم اس بچے کا نام فخر الدین رکھو۔"واقعی یہ نومولود مستقبل کا فخر العالم والدین بنا۔آپ شریعت و طریقت کے مجمع البحرین تھے۔

درس وتدریس

ترمیم

دہلی میں شاہ صاحب نے ایک مدرسہ قائم کیا۔ اس مدرسہ میں بیٹھ کر شاہ صاحب نے صرف درسی کتابیں پڑھانے پر اکتفانہ کیا، بلکہ حقائق و معارف کے وہ دریا بہائے کہ بقول مصنف مناقب فخریہ: محبوب الہٰی کے دور کی طرح عرفان کاچراغ پھر روشن کر دیا۔ سینے حقائق کے خزانوں سے معمور ہو گئے۔ جو سو رہے تھے جاگ اٹھے۔ جو بے ہوش تھے ہوش میں آگئے۔ جو بے خبر تھے باخبر ہو گئے۔ مردہ دل زندہ ہو گئے۔ زندہ دل بسمل بن گئے۔ عشق و محبت الہٰی کا بازار گرم ہو گیا۔ ذوق وشوق کا دریا موجیں مارنے لگا۔ دل کے میخانے اور آنکھوں سے ساغر آنسوؤں کی شراب سے مزین ہو گئے۔ شاہ صاحب کی خانقاہ میں جو آتا، وہ متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ جرائم پیشہ لوگ خانقاہ میں آتے اور ولی کامل بن کر نکلتے۔شاہ صاحب خود سنت نبویﷺ کا کامل نمونہ تھے۔سنت نبویﷺ پر بڑا زور دیتے تھے۔ مریدوں کو ہدایت فرماتے کہ مذہبِ حنفی پر مضبوطی سے قائم رہیں اور قرآن و حدیث کی طرف کثرت سے رجوع کریں۔ شاہ صاحب ہر چھوٹے بڑے سے محبت سے پیش آتے۔شاہ صاحب کی طبیعت میں انکسار بہت تھا۔جب کوئی ان کی تعظیم کے لیے کھڑا ہوتا تو اسے روکتے تھے، خود ہر چھوٹے بڑے کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے تھے۔ لوگوں کی خوشی اور غمی میں ضرور شرکت فرماتے۔شاہ صاحب نماز ہمیشہ جماعت کے ساتھ ادا کرتے تھے اور مریدوں کو بھی نہایت سختی سے اس کی تلقین کرتے۔

تصنیفات

ترمیم

تین کتابیں شہرہ آفاق ہیں

  • نظام العقائد: عقائد اھلسنت پر مبنی کتاب ہے
  • رسالہ مرجیہ: ایک شک کے ازالہ کے لیے تحریر کیا گیا تھا
  • فخر الحسن:

وصال

ترمیم

73 سال کی عمر میں 28 جمادی الثانی 1199ھ مطابق 1784ء کو وصال فرمایا۔ آپ کا مزار دہلی (انڈیا ) قطب مینار کے پاس خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے مزار کے پاس مرجع خاص وعام ہے۔