دار العلوم دیوبند

سنی دیوبندی مکتب فکر کی اولین درس گاہ
(دارالعلوم دیوبند سے رجوع مکرر)

دار العلوم دیوبند بھارت کا ایک اسلامی مدرسہ ہے، جہاں سنی دیوبندی مکتب فکر کا آغاز ہوا۔ یہ ادارہ اترپردیش ضلع سہارنپور کے ایک قصبہ دیوبند میں واقع ہے۔ یہ مدرسہ 1866ء میں محمد قاسم نانوتوی ، فضل الرحمن عثمانی ، سید محمد عابد دیوبندی اور دیگر حضرات نے قائم کیا تھا۔ محمود دیوبندی اس ادارے کے پہلے استاد اور محمود حسن دیوبندی اس کے پہلے طالب علم تھے۔

دار العلوم دیوبند
Darul Uloom Deoband logo.png
قسمجامعہ اسلامیہ
قیام30 مئی 1866 (156 سال قبل) (1866-05-30)
بانیانمحمد قاسم نانوتوی ، سید محمد عابد دیوبندی ، فضل الرحمن عثمانی و دیگر۔
چانسلرمجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند
ریکٹرابو القاسم نعمانی
طلبہتقریبًا 5000
مقامدیوبند، ، بھارت
کیمپسشہری؛ 70 ایکڑ
ویب سائٹwww.darululoom-deoband.com
دار العلوم دیوبند

مجلس شورٰی دار العلوم دیوبند نے 14 اکتوبر 2020ء میں سید ارشد مدنی کو صدر المدرسین اور ابو القاسم نعمانی کو شیخ الحدیث مقرر کیا۔[1]

تاریخ

دار العلوم دیوبند 30 مئی 1866 کو فضل الرحمن عثمانی، سید محمد عابد دیوبندی، محمد قاسم نانوتوی، مہتاب علی، نہال احمد اور ذوالفقار علی دیوبندی کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا۔[2][3] محمود دیوبندی کو پہلے استاد کے طور پر مقرر کیا گیا تھا اور محمود حسن دیوبندی پہلے طالب علم تھے، جنھوں نے مدرسہ میں داخلہ لیا تھا۔[4]

1982ء میں محمد طیب قاسمی کے دورِ اہتمام میں مدرسہ میں انتظامی تنازعات پیدا ہوگئے، جس کے نتیجہ میں دار العلوم وقف دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔[5][6]

 
جامعہ کی جامع رشید

فروری 2008ء میں مدرسہ کے زیر اہتمام "کل ہند دہشت گردی مخالف کانفرنس" میں ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کی گئی تھی۔[7]

انتظامیہ

مدرسہ کے شریک بانی سید محمد عابد دیوبندی مدرسہ کے پہلے مہتمم تھے۔[8] ابو القاسم نعمانی 24 جولائی 2011ء کو غلام محمد وستانوی کے بعد مدرسہ کے تیرہویں مہتمم منتخب ہوئے۔[9][10]

فضلا

بعض فضلائے دار العلوم کے نام درج ذیل ہیں:

اشاعتیں

دارالعلوم دیوبند سے شائع ہونے والے موجودہ رسالے:

  • مجلہ الداعی ، عربی ماہنامہ۔
  • ماہنامہ دار العلوم ، اردو ماہنامہ۔
  • النهضة الأدبية، عربی سہ ماہی رسالہ۔

حوالہ جات

  1. "مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابو القاسم نعمانی شیخ الحدیث اور مولانا ارشد مدنی صدر المدرسین منتخب". عصر حاضر پورٹل. 14 اکتوبر 2020. اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2020. 
  2. محمد میاں دیوبندی. علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے. نئی دہلی: فیصل پبلیکیشنز. صفحات 44–47. 
  3. روشن دلال (2014). The Religions of India: A Concise Guide to Nine Major Faiths. Penguin UK. ISBN 9788184753967. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2021. 
  4. Metcalf، Barbara (1978). "The Madrasa at Deoband: A Model for Religious Education in Modern India". موڈرن ایشین اسٹڈیز. 12 (1): 111–134. JSTOR 311825. doi:10.1017/S0026749X00008179. 
  5. https://www.researchgate.net/publication/237541853_2_Change_and_Stagnation_in_Islamic_Education_The_Dar_al-'Ulum_of_Deoband_after_the_Split_in_1982
  6. Bowering، Gerhard؛ Crone، Patricia؛ Mirza، Mahan؛ Kadi، Wadad؛ Zaman، Muhammad Qasim؛ Stewart، Devin J. (2013). The Princeton Encyclopedia of Islamic Political Thought. ISBN 978-0691134840. 
  7. "Muslim clerics declare terror "un-Islamic"" Times of India 25 February 2008.
  8. رضوی، سید محبوب، تاریخ دار العلوم دیوبند، جلد دوم، صفحہ 225 
  9. ابنتیکا گھوش (25 جولائی 2011). "Vastanvi axed as Darul V-C for praising Modi". دی ٹائمز آف انڈیا. اخذ شدہ بتاریخ 10 جون 2020. 
  10. "Maulana Mufti Abul Qasim Nomani, New Acting Mohtamim of Darul Uloom Deoband". دیوبند آن لائن. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2019. 

مزید دیکھیں

بیرونی روابط