راجا ٹوڈرمل ذات کے کھتری ،گوت ٹنن، لاہور یا چونیاں ضلع لاہور کے باشندے تھے۔

ٹوڈرمل
Raja Todar Mall, Finance Minister of Akbar.jpg
پیدائشموجودہ دور میں لہرپور، اتر پردیش، بھارت
وفات8 نومبر 1589(1589-11-08)

موجودہ دور میں لاہور، پنجاب، پاکستان
مذہبہندو
پیشہوزیر خزانہ مغلیہ سلطنت، جلال الدین اکبر کے عہد میں

ولادتترميم

وہ لہرپور اُتر پردیش میں ہندو خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب وہ ابھی چھوٹے تھے۔

دربار ِاکبری میں مقامترميم

22 صوبوں کا دیوانِ کُل اور وزیر باتدبیر تھے۔ بیوہ ماں کی دُعاؤں سے اعلیٰ رُتبہ پایا۔ سپاہ گیری اور سرداری کے جوہر نے بھی اُنکی اہمیت اُجاگرکی۔ پابندی ِآئین احکام میں کسی کو رعایت نہیں دیتے تھے لہذا اُن پر سخت مزاجی کا الزام تھا۔ انتہائی قابل، معاملہ فہم اور دانشمند کہلائے۔ بڑھاپے میں بیماری کی وجہ سے وفات پائی۔

شیر شاہ سوری کا ساتھترميم

ٹوڈرمل پہلے شیر شاہ سوری کے دربار میں کام کرتے تھے جب مغلوں نے سوری خاندان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا تو ٹو ڈرمل مغلیہ خاندان کے وفادار بن گئے۔ اکبر نے ان کو آگرہ کے انتظام کی ذمہ داری سونپی تھی

نورتنوں میں شاملترميم

دربار اکبری سے منسلک ہوئے تو بادشاہ کے نور نظر بن گئے اور اپنی اعلٰی قابلیت اور اپنی ہنر مندی کی بدولت یہاں تک ترقی کی کہ سارے ہندوستان میں 22 صوبوں کے دیوان کل اور وزیرباتدبیر کا رتبہ پایا۔ مہابلی سفر حضر دونوں میں اپنے ساتھ رکھنے لگے۔ بالآخر اپنے نورتنوں میں شامل کر کے راجا ٹوڈرمل کو موتمن الدولہ (سلطنت کا امین) اورعندۃالملک (معتبرسردار یا امیر) کے خطابات دیے۔ بہت سی جنگی مہمات خصوصاً بنگال کی لڑائیوں میں راجا توڈرمل نے کمال بہادری کا ثبوت دیااور فتح سے ہمکنار ہوئے۔ اس پر چارہزاری کا منصب بھی عطا ہوا۔ برصغیر پاک و ہند میں زمین کی مال گزاری، خرید و فروخت اور دیگر حساب کے کاغذات میں راجا توڈرمل کی ہی اصطلاحات اور الفاظ آج بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ ٹو ڈرمل کا ایک کارنامہ یہ ہے کہ اس نے بھگوت گیتا کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا تھا۔

انتقالترميم

1589 میں لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ اس کے بعد اکبر اس کے ہی بیٹے کلیان داس کو اپنا وزیر خزانہ مقرر کیا۔[1][2]

حوالہ جاتترميم