راحت اندوری

بھارتی شاعر

راحت اندوری ( پیدائش : 1 جنوری 1950ء، وفات: 11 اگست 2020ء) ایک بھارتی اردو شاعر اور ہندی فلموں کے نغمہ نگار تھے۔[5] وہ دیوی اہليہ یونیورسٹی اندور میں اردو ادب کے پروفیسر بھی رہے۔ انھوں نے کئی بھارتی ٹیلی ویژن شو بھی کیے۔ انھوں نے کئی گلوکاری کے رئیلیٹی شو میں بہ طور جج حصہ لیا ہے۔ راحت اندوری کا 11 اگست 2020ء بروز منگل انتقال ہوا۔

راحت اندوری
Rahat Saab At Ahmedabad.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1950  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اندور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 اگست 2020 (70 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اندور[2]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات کووڈ-19[3]  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
زوجہ سیما راحت
انجم راہبر (شادی۔ 1988; طلاق۔ 1993)
عملی زندگی
مادر علمی برکت اللہ یونیورسٹی
مدھیہ پردیش بھوج یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مصنف،  غنائی شاعر،  نغمہ نگار،  شاعر،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات[4]  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ابتدائی زندگی اور تعلیمترميم

راحت کی پیدائش اندور میں یکم جنوری، 1950ء کو ہوئی۔ وہ ایک ٹیکسٹائل مل کے ملازم رفعت اللہ قریشی اور مقبول النساء بیگم کے یہاں پیدا ہوئے۔ وہ ان کی چوتھی اولاد ہیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم نوتن اسکول اندور میں ہوئی۔ انہوں نے اسلامیہ كريميہ کالج اندور سے 1973ء میں اپنی بیچلر کی تعلیم مکمل کی۔[6] اس کے بعد 1975ء میں راحت اندوری نے بركت اللہ یونیورسٹی، بھوپال سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔[7] اپنی اعلیٰ ترین تعلیمی سند کے لیے 1985ء میں انہوں نے مدھیہ پردیش کے مدھیہ پردیش بھوج اوپن یونیورسٹی سے اردو ادب میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ایک اچھے شاعر اور گیت کار ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کئی بالی وڈ فلموں کے لیے نغمے لکھے ہیں جو مقبول اور زبان زد عام بھی ہوئے ہیں۔

بھارتی پارلیمان میں شاعری کی گونج اور سی اے اے کے خلاف احتجاج میں کلام کا استعمالترميم

2019ء میں بھارتی پارلیمنٹ میں اپنے انتخاب کے بعد پہلی تقریر میں ترینامول کانگریس کی قائد مہوا موئترا نے پہلی تقریر میں ملک میں کئی ہجومی تشدد کے واقعات اور بڑھتی فسطائیت کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی تقریر کے اختتام پر راحت کے یہ اشعار پڑھے تھے، جس کا کئی دیگر ارکان نے میز تھپتھپا کر خیر مقدم کیا:


جو آج صاحبِ مسند ہیں، کل نہیں ہوں گے کرائے دار ہیں، ذاتی مکان تھوڑی ہے
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میںکسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے

[8]

ان اشعار کا 2019ء میں بھارت میں پارلیمنٹ کی جانب سے پاس کیے جانے والے متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہروں میں کثرت سے استعمال کیا گیا ہے۔[9] یہ کئی پلے کارڈ پر دیکھے گئے اور کئی تحریروں اور تقریروں میں استعمال کیے گئے۔

وفاتترميم

10 اگست 2020ء کو راحت اندوری صاحب کا کووڈ-19 کی جانچ کی گئی اور رپورٹ مثبت آئی، نیز وہ بندش قلب کے مرض میں بھی مبتلا تھے۔ مدھیہ پردیش کے اندور کے "آربندو ہسپتال" میں داخل کیا گیا، جہاں 11 اگست 2020ء کی شام میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔[10]

نمونہ کلامترميم

بیر دنیا سے قبیلے سے لڑائی لیتےایک سچ کے لیے کس کس سے برائی لیتے
آبلے اپنے ہی انگاروں کے تازہ ہیں ابھیلوگ کیوں آگ ہتھیلی پہ پرائی لیتے
برف کی طرح دسمبر کا سفر ہوتا ہےہم اسے ساتھ نہ لیتے تو رضائی لیتے
کتنا مانوس سا ہمدردوں کا یہ درد رہاعشق کچھ روگ نہیں تھا جو دوائی لیتے
چاند راتوں میں ہمیں ڈستا ہے دن میں سورجشرم آتی ہے اندھیروں سے کمائی لیتے
تم نے جو توڑ دیے خواب ہم ان کے بدلےکوئی قیمت کبھی لیتے تو خدائی لیتے

[11]

حوالہ جاتترميم

  1. The Indian Express — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2020
  2. The Times of India — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2020
  3. Hindustan Times اور The Hindustan Times — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2020
  4. میوزک برینز آرٹسٹ آئی ڈی: https://musicbrainz.org/artist/18a9e2b5-93e1-4a6a-882a-4c4e9872ed9b — اخذ شدہ بتاریخ: 16 ستمبر 2021
  5. "MP's Bollywood connection grows behind the camera". India Today. ستمبر 12, 2008. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2014. 
  6. "آرکائیو کاپی". 12 اکتوبر 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2014. 
  7. "Barkatullah University Bhopal". 06 اکتوبر 2006 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2014. 
  8. Full text of Mahua Moitra’s Lok Sabha speech that landed her in plagiarism row
  9. ’کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے‘
  10. https://m.dailyhunt.in/news/india/urdu/news18%20urdu-epaper-pradeurd/%20-newsid-n205681824?s=a&uu=0xc384bc8d3481ba6c&ss=wsp
  11. https://www.rekhta.org/ghazals/bair-duniyaa-se-qabiile-se-ladaaii-lete-rahat-indori-ghazals?lang=ur