زید بن خطاب خلیفہ د وئم عمر فاروق، عمر بن خطاب کے سوتیلے بھائی، عمر میں ان سے چھوٹے تھے۔

زید ابن الخطاب
Zayd ibn al-Khattab.png
 

معلومات شخصیت
مقام پیدائش مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 632  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جنگ یمامہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد خطاب بن نفیل  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی

حلیہترميم

ان کا قد لمبا اور رنگ گندم گوں تھا۔[1]

نام ونسبترميم

زید نام،ابوعبدالرحمن کنیت،سلسلہ نسب یہ ہے،زیدبن خطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن رباح بن عبد اللہ بن قرط بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی بن غالب ابن فہربن مالک بن نضر بن کنانہ قرشی عدوی۔ ماں کا نام اسماء تھا،نانہالی سلسلہ نسب یہ ہے،اسماء بنت وہب بن حبیب اسدی،آپ حضرت عمرؓ کے سوتیلے بھائی اورعمر میں ان سے بڑے تھے۔

اسلام وہجرتترميم

زید بن خطاب عمرفاروق سے بہت پہلے مشرف باسلام ہوچکے تھے اورمہاجرین کے پہلے قافلہ کے ساتھ ہجرت کی تھی اورآنحضرتﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعدا ن میں اور معن بن عدی عجلانی میں مواخاۃ کرادی۔[2]

غزواتترميم

مدینہ آنے کے بعد سب سے پہلے بدر میں پھر احد میں شریک ہوئے انتہائی شجاعت نے زرہ سے بے نیاز کر دیا تھا، میدان جنگ میں ننگے بدن گئے، عمر فاروق کو ان سے بڑی محبت تھی، انہوں نے قسم دلا کر اپنی زرہ پہنادی؛ لیکن طالب شہادت کے لیے زرہ عار تھی، تھوڑی دیر پہن کر اتاردی اب عریاں سینہ دشمنوں کا ہدف تھا، عمرنے سبب پوچھا،فرمایا تمہاری طرح مجھ کو بھی جام شہادت پینے کی تمنا ہے۔[3] احد کے بعد صلح حدیبیہ کے موقع پر جب آنحضرتﷺ نے موت پر بیعت لینا شروع کی توفداکارانہ جان بازوں کی فہرست میں نام لکھایا[2] اس کے علاوہ خندق،حنین اوراوطاس وغیرہ میں بھی برابر شریک رہے۔ حجۃ الوداع میں بھی آنحضرتﷺ کے ہمرکاب تھے،اسی موقع پر آپ نے ان سے یہ حدیث بیان فرمائی تھی،کہ جو تم کھاتے پہنتے ہو،وہی اپنے غلاموں کو بھی کھلاؤ پہناؤ،اوراگر وہ کسی جرم کے مرتکب ہوں اور تم نہ معاف کرسکو توفروخت کرڈالو۔[3]

فتنہ ارتداد اور شہادتترميم

عہد صدیقی میں فتنہ ارتداد کے استیصال کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نکلے اور متعدد سرکشوں کے ساتھ مشہور مرتد نہاد بن عنفو جس کے متعلق اس کے زمانہ اسلام میں آنحضرتﷺ نے پیشین گوئی فرمائی تھی،ان ہی کے ہاتھ سے مارا گیا۔[2] جنگ یمامہ میں ہی دشمنوں کی صفیں چیرتے ہوئے گھستے چلے گئے اورلڑتے لڑتے شہید ہو گئے، [4] جنگ یمامہ میں اسلامی فوج کی علمبرداری کا منصب سپرد ہوا،بنو حنیفہ نے ایک مرتبہ اس زور کا حملہ کیا کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے،کچھ لوگ میدان جنگ سے بھاگ نکلے اس سے زید کا جوش اوربڑھ گیا، انہوں نے قسم کھالی کہ میں اس وقت تک نہ بولوں گا جب تک دشمنوں کا منہ نہ پھیردوں یا خود لڑتے لڑتے شہید ہوجاؤں اور مسلمانوں کو للکارا کہ آنکھیں بند کرکے داڑھیں داب کر دشمنوں کے قلب میں گھس جاؤ،[5]ایک طرف لوگوں کو ابھارتے تھے ،دوسری طرف زبان بارگاہ ایزدی میں معذرت میں مصروف تھی، کہ "خدایا میں اپنے ساتھیوں کی پسپائی پر تیری بارگاہ میں معذرت خواہ ہوں"،اسی حالت میں علم ہلایا اور دشمنوں کی صفیں چیرتے ہوئے گھستے چلے گئے اورلڑتے لڑتے شہید ہوگئے، [6] آپ کی شہادت کے بعد حضرت سالمؓ نے علم سنبھالا، لوگوں نے کہا سالم! تمہاری علمبرداری سے شکست کا خطرہ ہے کہا اگر میرے سبب سے شکست ہو تو مجھ سے بدتر حامل قرآن کون ہوگا۔ [7]

حضرت عمرؓ کا غمترميم

عمر فاروق ان کو بہت محبوب رکھتے تھے،ان کی شہادت سے بہت غم زدہ ہوئے اورجب کبھی کوئی مصیبت پیش آتی تو فرماتے کہ سب سے بڑاداغ زید کاتھا، اس کو اٹھایا اور صبر کیا،[8] اکثر فرمایا کرتے کہ بادصبا سے زید کی خوشبو آتی ہے اس سے ان کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔[4] اسی زمانہ میں مشہور شاعر متمم بن نویرہ کا بھائی ایک معرکہ میں خالدبن ولیدکے ہاتھ سے ماراگیا،متمم اپنے بھائی کا عاشق وشیفتہ تھا، اس حادثہ نے اس کو ایسا وارفتہ کر دیا کہ دیکھنے والوں کو ترس آتا تھا، اسی عالم میں اپنے بھائی کا ایسارقت انگیز مرثیہ لکھا کہ سننے والے بیقرار ہوجاتے ،اتفاق سے عمرسے ملاقات ہو گئی، آپ نے فرمایا تم کو اپنے بھائی کا کس قدر دکھ ہے ،کہا ایک مرض کی وجہ سے ایک آنکھ کے آنسو خشک ہو گئے تھے؛لیکن بھائی کے غم میں جب سے اشکبار ہوئی ہے، آج تک نہ رکی، عمرنے فرمایا، یہ رنج والم کی آخری حد ہے ،کوئی جانے والے کا اتنا غم نہیں کرتا، اس کے بعد فرمایا کہ اللہ زید کی مغفرت کرے، اگر میں شاعر ہوتا تو میں بھی ان کا مرثیہ کہتا، متمم نے کہا، امیر المومنین، اگر آپ کے بھائی کی طرح میرا بھائی شہید ہوا ہوتا تو میں کبھی اشکباری نہ کرتا، عمر کو ایک گونہ تسلی ہو گئی،[3] فرمایا کہ اس سے بہتر تعزیت کسی نے نہیں کی، [2]؛لیکن بھائی کے ساتھ شدید تعلق قلب کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا،جس وقت حضرت زیدؓ کی شہادت کی دلخراش خبر ملی تھی، اس وقت بجائے نالہ وشیون کرنے کے فرمایا کہ میرے بھائی دو نیکیوں میں مجھ سے سبقت لے گئے ،مجھ سے پہلے اسلام لائے اورمجھ سے پہلے جام شہادت پیا۔[2]

ازواج واولادترميم

آپ کے دو بیویاں تھیں،لبابہ اورجمیلہ،لبابہ سے عبدالرحمن تھے اور جمیلہ سے اسماء تھیں۔ [9]

فضل وکمالترميم

آپ سے متعدد اشخاص نے حدیث روایت کی ہے۔

حوالہ جاتترميم

  1. صفہ اور اصحاب صفہ از مولانا مفتی مبشر ص 174
  2. ^ ا ب پ ت ٹ الاستيعاب فی معرفۃ الاصحاب 1/1190مؤلف: ابو عمر ابن عبد البر بن عاصم النمری ناشر: دار الجيل، بيروت
  3. ^ ا ب پ الطبقات الكبير جلد3،ق اول:1275مؤلف: محمد بن سعد بن منيع الزہری ناشر: مكتبہ الخانجي - القاہرہ
  4. ^ ا ب اسد الغابہ،مؤلف: ابو الحسن عز الدين ابن الأثير ،ناشر: دار الفكر - بيروت
  5. (ابن اثیر:۲/۲۷۷)
  6. (ابن اثیر:۲/۲۷۷)
  7. (ابن سعد،جز۳،ق۱:۴،۲ ومستدرک حاکم:۳/۲۲۷)
  8. مستدرک حاکم:3/227
  9. (ابن سعد،جز۳،ق۱:۲۷۵)