سارہ شگفتہ 31 اکتوبر، 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری کرتی تھیں۔ ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔

سارہ شگفتہ
معلومات شخصیت
پیدائش 31 اکتوبر 1954  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گوجرانوالہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 جون 1984 (30 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات خود کشی  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

حالات زندگیترميم

غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی پاس نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں(ان کے دو شوہر شاعر تھے) نے انہیں ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ انہیں دماغی امراض کے ہسپتال بھیجا گیا جہاں انہوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔

شعری مجموعےترميم

سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے

  • 'بلدے اکھر'،
  • 'میں ننگی چنگی' اور
  • 'لکن میٹی'

اور اردو شاعری کے مجموعے

  • 'آنکھیں' اور
  • 'نیند کا رنگ' کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے۔

وفاتترميم

4 جون، 1984ء کو انہوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔[1]

بعد از وفات خراج تحسینترميم

ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر امرتا پرتیم نے 'ایک تھی سارہ' اور انور سن رائے نے 'ذلتوں کے اسیر' کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور پاکستان ٹیلی وژن نے ایک ڈراما سیریل پیش کیا جس کا نام 'آسمان تک دیوار' تھا۔

نمونہ کلامترميم

قرض

میرا باپ ننگا تھا

میں نے اپنے کپڑے اتار کر اسے دے دیے

زمین بھی ننگی تھی

میں نے اسے

اپنے مکان سے داغ دیا

شرم بھی ننگی تھی میں نے اسے آنکھیں دیں

پیاس کو لمس دیے

اور ہونٹوں کی کیاری میں

جانے والے کو بو دیا

موسم چاند لیے پھر رہا تھا

میں نے موسم کو داغ دے کر چاند کو آزاد کیا

چتا کے دھوئیں سے میں نے انسان بنایا

اور اس کے سامنے اپنا من رکھا

اس کا لفظ جو اس نے اپنی پیدائش پہ چنا

اور بولا

میں تیری کوکھ میں ایک حیرت دیکھتا ہوں

میرے بدن سے آگ دور ہوئی

تو میں نے اپنے گناہ تاپ لیے

میں ماں بننے کے بعد بھی کنواری ہوئی

اور میری ماں بھی کنواری ہوئی

اب تم کنواری ماں کی حیرت ہو

میں چتا پہ سارے موسم جلا ڈالوں گی

میں نے تجھ میں روح پھونکی

میں تیرے موسموں میں چٹکیاں بجانے والی ہوں

مٹی کیا سوچے گی

مٹی چھاؤں سوچے گی اور ہم مٹی کو سوچیں گے

تیرا انکار مجھے زندگی دیتا ہے

ہم پیروں کے عذاب سہیں

یا دکھوں کے پھٹے کپڑے پہنیں

    ........ 

شیلی بیٹی کے نام

تجھے جب بھی کوئی دکھ دے

اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

جب میرے سفید بال

تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا

میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا

جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے

ان کھیتوں میں

میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی

بس پہلی بار ڈری بیٹی

میں کتنی بار ڈری بیٹی

ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی

میرا جنم تو ہے بیٹی

اور تیرا جنم تیری بیٹی

تجھے نہلانے کی خواہش میں

میری پوریں خون تھوکتی ہیں

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم