سرور جہاں آبادی

اردو زبان کے نامور شاعر اور مصنف

درگا سہائے سرور جہاں آبادی (پیدائش: دسمبر 1873ء — وفات: 3 دسمبر 1910ء) اردو زبان کے شاعر اور مصنف تھے۔

سرور جہاں آبادی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 دسمبر 1873  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیلی بھیت ضلع،  اتر پردیش،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 3 دسمبر 1910 (37 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیلی بھیت ضلع،  اتر پردیش،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1 دسمبر 1873–3 دسمبر 1910)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

سوانحترميم

پیدائشترميم

سرور کی پیدائش دسمبر 1873ء میں ضلع پیلی بھیت کے قصبہ جہاں آباد میں ہوئی۔پیدائشی نام درگاسہائے رکھا گیا جبکہ تخلص سرور تھا۔بچپن بے فکری سے گذرا جس کا ذکر سرور نے اپنی شاعری میں کئی مقامات پر کیا ہے۔

تعلیمترميم

سرور کو سن شعور پہنچنے پر تعلیم شروع کروائی گئی۔ فارسی زبان اور سنسکرت زبان اپنے والدسے پڑھی جو کہ اِن دونوں زبانوں کے عالم تھے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مڈل اسکول جہاں آباد میں داخلہ لیا۔ اُس وقت مڈل اسکول جہاں آباد کے صدرِ مدرس مولوی سید کرامت حسین بہار بریلوی تھے جو کہ عربی، فارسی اور اردو کے جید عالم اور علم کے دلدادہ تھے۔ اُنہوں نے سرور کی ذہانت و فطانت سے متاثر ہوکر اِن پر خصوصی توجہ دی۔ بہت قلیل عرصہ میں سرور فارسی اور اردوکے ماہر ہوگئے۔1890ء میں مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔جہاں آباد کا اسکول مڈل درجہ کا تھا، اس لیے مزید اعلیٰ تعلیم کا انتظام جہاں آباد میں نہیں تھا۔ اگرچہ درگا سہائے سرور کے والد اُنہیں بیرون ملک بھیجنا چاہتے تھے تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں لیکن بوجوہ وہ جہاں آباد سے باہر نہیں گئے۔ البتہ جہاں آباد میں ہی انگریزی زبان سیکھی اور انگریزی سے بھی مڈل کا امتحان پاس کرلیا۔ کچھ عرصے بعد سرور کو انگریزی پڑھنے کا شوق ہوا لہذا ایک پوسٹ ماسٹر سے انگریزی سیکھی اور دوسال بعد انگریزی مڈل امتحان بھی پاس کر لیا ۔ انگریزی ادب کا مطالعہ بھی جاری رکھا اور انگریزی ادب کی اعلیٰ کتابیں، شعراء کے دواوین بھی پڑھے۔ متعدد انگریزی نظموں کا اُردو زبان میں ترجمہ بھی کیا۔ متعدد انگریزی شعراء پر اپنے کلام میں اِظہارِ خیال بھی کیا۔طب کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ [1]

شعرگوئیترميم

سرور جہاں آبادی کی طبیعت شعر و سخن کی جانب مائل تھی اور اِس لیے اُنہوں نے دونوں زبانوں کے ہزاروں اشعار زبانی یاد کر رکھے تھے۔سرور کی نظمیں اور غزلیں بہت منفرد فضا کی حامل تھیں اس لئے ان کا کلام ’ادیب‘ اور ’مخزن‘ جیسے رسالوں میں تسلسل کے ساتھ شائع ہوتا رہا ۔ سرور نے باقاعدہ طور پر نظم کی صنف میں دلچسپی لی ، نئی نظم کو موضوعاتی اوراسلوبیاتی لحاظ سے ثروت مند بنانے میں ان کا اہم کردار ہے ۔ سرور پہلے وحشت تخلص کرتے تھے بعد میں سرور تخلص اختیار کیا ۔

وفاتترميم

سرور کی زندگی ایک بڑے المیے سے بھی عبارت رہی ۔ ان کی بیوی اوراکلوتے بیٹے کی موت نے انہیں اندر سے خالی کردیا ، سرور نے اس خالی پن کو بھرنے کیلئے شراب کا سہارا لیا اور بے تحاشہ شراب پینے لگے ۔ یہی کثرت شراب نوشی سرور کی موت کا باعث بنی۔ 29 نومبر 1910ء کو الہٰ آباد جانے کے لیے گھر سے نکلے لیکن پیلی بھیت پہنچتے ہی بیمار ہوگئے۔ کثرتِ شراب نوشی اور ذات الجنب پہلے ہی علاج کی حد سے گزر چکا تھا ۔ دردِ سینہ اور بخار نے بھی جکڑ لیا۔ چند روز بیمار رہ کر 3 دسمبر 1910ء کو پیلی بھیت میں وفات پاگئے۔ [2]

حوالہ جاتترميم

  1. محمد عاشق علی: سرور جہاں آبادی، ہندوستانی ادب کے معمار، صفحہ 17/18، مطبوعہ غالب اکیڈمی، دہلی، 2001ء
  2. محمد عاشق علی: سرور جہاں آبادی، ہندوستانی ادب کے معمار، صفحہ 28/29، مطبوعہ غالب اکیڈمی، دہلی، 2001ء