مرکزی مینیو کھولیں

سعودی عرب

جزیرہ نما عرب کا اسلامی ملک
  
سعودی عرب
سعودی عرب
پرچم سعودی عرب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پرچم (P163) ویکی ڈیٹا پر
سعودی عرب
سعودی عرب کا نشان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں coat of arms (P237) ویکی ڈیٹا پر

Saudi Arabia (orthographic projection).svg 

شعار
(انگریزی میں: There is no god but God; Muhammad is the messenger of God خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعار کا متن (P1451) ویکی ڈیٹا پر
ترانہ:
 عاش المليكہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ترانہ (P85) ویکی ڈیٹا پر
زمین و آبادی
متناسقات 23°43′00″N 44°07′00″E / 23.716667°N 44.116667°E / 23.716667; 44.116667  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
بلند مقام جبل سودہ (3015 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بلند ترین سطح (P610) ویکی ڈیٹا پر
پست مقام بحیرہ احمر (0 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 2250000 مربع کلومیٹر[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت ریاض  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان عربی[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 33000000 (2018)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
72.187 سال (1999)[4]
72.44 سال (2000)[4]
72.651 سال (2001)[4]
72.82 سال (2002)[4]
72.948 سال (2003)[4]
73.041 سال (2004)[4]
73.112 سال (2005)[4]
73.176 سال (2006)[4]
73.245 سال (2007)[4]
73.331 سال (2008)[4]
73.44 سال (2009)[4]
73.574 سال (2010)[4]
73.73 سال (2011)[4]
73.896 سال (2012)[4]
74.066 سال (2013)[4]
74.234 سال (2014)[4]
74.4 سال (2015)[4]
74.561 سال (2016)[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
طرز حکمرانی مطلق العنان بادشاہت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں basic form of government (P122) ویکی ڈیٹا پر
شاہ سعودی عرب  سلمان بن عبدالعزیز (23 جنوری 2015–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
سربراہ حکومت سلمان بن عبدالعزیز (23 جنوری 2015–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ حکومت (P6) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 1727[5][6]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
لازمی تعلیم (کم از کم عمر) 6 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلم (کم از کم عمر) (P3270) ویکی ڈیٹا پر
لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) 18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) (P3271) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (24 اکتوبر 1945–)
Flag of the Arab League.svg عرب لیگ (22 مارچ 1945–)
عالمی تجارتی ادارہ (11 نومبر 2005–)
جی 20 اہم معیشتیں (25 ستمبر 1999–)
Flag of OIC.svg تنظیم تعاون اسلامی (25 ستمبر 1969–)
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (26 اگست 1957–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (30 دسمبر 1960–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (18 ستمبر 1962–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (12 اپریل 1988–)
بین الاقوامی مرکز برائےتصفیہ تنازعات سرمایہ کاری (7 جون 1980–)
افریقی ترقیاتی بینک (4 اگست 1963–)
GCC Flag.svg مجلس تعاون برائے خلیجی عرب ممالک (25 مئی 1981–)
انٹرپول (13 جون 1956–)[7]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[8]
بین الاقوامی آب نگاری تنظیم (8 اپریل 2002–)[9]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (4 نومبر 1946–)[10]
Flag of UPU.svg عالمی ڈاک اتحاد[11]
عالمی بعید ابلاغیاتی اتحاد (7 فروری 1949–)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
اردن (Jordan–Saudi Arabia border)
کویت (Kuwait–Saudi Arabia border، Saudi–Kuwaiti Neutral Zone اور Uqair Protocol of 1922)
قطر (Qatar–Saudi Arabia border)
بحرین (بحرین سعودی عرب سرحد اور King Fahd Causeway)
متحدہ عرب امارات (Saudi Arabia–United Arab Emirates border)
عمان (Oman–Saudi Arabia border)
یمن (Saudi Arabia–Yemen border، Treaty of Jeddah اور Saudi–Yemen barrier)
عراق (Iraq–Saudi Arabia border اور سعودی عراقی غیر جانبدار علاقہ)
مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مشترکہ سرحدیں (P47) ویکی ڈیٹا پر
سفارتی تعلقات
کینیڈا (Canada–Saudi Arabia relations)
جرمنی (German-Saudi Arabian relations)
یمن (Saudi Arabia–Yemen relations)
کیوبا (Saudi arabia–Cuba relations)
جنوبی کوریا (Saudi Arabia–South Korea relations)
شمالی کوریا (Saudi Arabia–North Korea relations)
کوسووہ (Kosovo–Saudi Arabia relations)
کویت (Kuwait–Saudi Arabia relations)
کینیا (Kenya–Saudi Arabia relations)
لاؤس (Saudi arabia–Laos relations)
لبنان (Lebanon–Saudi Arabia relations)
مالدیپ (Saudi arabia–Maldives relations)
ملائیشیا (Malaysia–Saudi Arabia relations)
مراکش (Morocco–Saudi Arabia relations)
میکسیکو (Mexico–Saudi Arabia relations)
منگولیا (Saudi arabia–Mongolia relations)
ناروے (Norway–Saudi Arabia relations)
آسٹریا (Austria–Saudi Arabia relations)
نیپال (Nepal–Saudi Arabia relations)
نیوزی لینڈ
بھارت (بھارت سعودی عرب تعلقات)
نیدرلینڈز (Saudi Arabia–Netherlands relations)
یونان (Greece–Saudi Arabia relations)
کمبوڈیا (Saudi arabia–Cambodia relations)
کروشیا (Croatia–Saudi Arabia relations)
قازقستان
کرغیزستان
قبرص (Cyprus–Saudi Arabia relations)
ویتنام (Saudi arabia–Vietnam relations)
دولت فلسطین (Saudi arabia–Palestine relations)
فلپائن (Philippines–Saudi Arabia relations)
فرانس (France–Saudi Arabia relations)
عمان (Oman–Saudi Arabia relations)
تاجکستان
عوامی جمہوریہ چین (China–Saudi Arabia relations)
سویڈن (Saudi Arabia-Sweden relations)
سوڈان (Saudi Arabia–Sudan relations)
سنگاپور (Saudi Arabia–Singapore relations)
سری لنکا (Saudi arabia–Sri lanka relations)
رومانیہ (Romania–Saudi Arabia relations)
جارجیا (Georgia–Saudi Arabia relations)
تنزانیہ (Saudi Arabia–Tanzania relations)
ترکی (Saudi Arabia–Turkey relations)
ترکمانستان
تھائی لینڈ (Saudi Arabia–Thailand relations)
بنگلہ دیش (Bangladesh-Saudi Arabia relations)
بحرین (بحرین سعودی عرت تعلقات)
پاکستان (پاکستان سعودی عرب تعلقات)
سوریہ (Saudi Arabia–Syria relations)
جاپان (Japan–Saudi Arabia relations)
افغانستان
یوکرین (Saudi Arabia–Ukraine relations)
اریتریا
انڈونیشیا (Indonesia–Saudi Arabia relations)
متحدہ عرب امارات (Saudi Arabia–United Arab Emirates relations)
ایران (Iran–Saudi Arabia relations اور تہران میں سعودی سفارتخانے پر حملہ)
ویٹیکن سٹی (Holy See–Saudi Arabia relations)
الجزائر (Algeria–Saudi Arabia relations)
ریاستہائے متحدہ امریکا (Saudi Arabia–United States relations)
سربیا (Saudi Arabia–Serbian relations)
قطر (Qatar–Saudi Arabia relations اور قطر کا سفارتی بحران 2017ء)
مملکت متحدہ (Saudi Arabia–United Kingdom relations)
عراق (Iraq–Saudi Arabia relations)
تائیوان (Saudi Arabia–Taiwan relations)
برازیل (Brazil–Saudi Arabia relations)
روس (Russia–Saudi Arabia relations)
پولینڈ (Poland–Saudi Arabia relations)
تونس (Saudi Arabia–Tunisia relations)
موریتانیہ
برونائی دار السلام
ازبکستان (Uzbek–Saudi arabia relations)
پیرو
چیک جمہوریہ
اطالیہ (Italy–Saudi arabia relations)
ایتھوپیا
مجارستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سفارتی تعلقات (P530) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
683827144288.536 امریکی ڈالر (2017)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 27434.908 بین الاقوامی ڈالر (1990)[14]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 777 امریکی ڈالر (1968)[15]
801 امریکی ڈالر (1969)[15]
921 امریکی ڈالر (1970)[15]
1177 امریکی ڈالر (1971)[15]
1511 امریکی ڈالر (1972)[15]
2226 امریکی ڈالر (1973)[15]
6433 امریکی ڈالر (1974)[15]
6296 امریکی ڈالر (1975)[15]
8186 امریکی ڈالر (1976)[15]
9012 امریکی ڈالر (1977)[15]
9247 امریکی ڈالر (1978)[15]
12185 امریکی ڈالر (1979)[15]
16892 امریکی ڈالر (1980)[15]
17777 امریکی ڈالر (1981)[15]
13870 امریکی ڈالر (1982)[15]
10980 امریکی ڈالر (1983)[15]
9581 امریکی ڈالر (1984)[15]
7877 امریکی ڈالر (1985)[15]
6270 امریکی ڈالر (1986)[15]
5899 امریکی ڈالر (1987)[15]
5823 امریکی ڈالر (1988)[15]
6051 امریکی ڈالر (1989)[15]
7204 امریکی ڈالر (1990)[15]
7838 امریکی ڈالر (1991)[15]
7888 امریکی ڈالر (1992)[15]
7445 امریکی ڈالر (1993)[15]
7382 امریکی ڈالر (1994)[15]
7650 امریکی ڈالر (1995)[15]
8293 امریکی ڈالر (1996)[15]
8508 امریکی ڈالر (1997)[15]
7382 امریکی ڈالر (1998)[15]
7968 امریکی ڈالر (1999)[15]
9126 امریکی ڈالر (2000)[15]
8643 امریکی ڈالر (2001)[15]
8655 امریکی ڈالر (2002)[15]
9567 امریکی ڈالر (2003)[15]
11138 امریکی ڈالر (2004)[15]
13739 امریکی ڈالر (2005)[15]
15334 امریکی ڈالر (2006)[15]
16472 امریکی ڈالر (2007)[15]
20037 امریکی ڈالر (2008)[15]
16094 امریکی ڈالر (2009)[15]
19259 امریکی ڈالر (2010)[15]
23770 امریکی ڈالر (2011)[15]
25303 امریکی ڈالر (2012)[15]
24934 امریکی ڈالر (2013)[15]
24575 امریکی ڈالر (2014)[15]
20732 امریکی ڈالر (2015)[15]
19982 امریکی ڈالر (2016)[15]
20849 امریکی ڈالر (2017)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 585032480 امریکی ڈالر (1964)[16]
726260320 امریکی ڈالر (1965)[16]
747859490 امریکی ڈالر (1966)[16]
761879200 امریکی ڈالر (1967)[16]
684960000 امریکی ڈالر (1968)[16]
607180000 امریکی ڈالر (1969)[16]
669558000 امریکی ڈالر (1970)[16]
1462013712 امریکی ڈالر (1971)[16]
2583652932 امریکی ڈالر (1972)[16]
4093816070 امریکی ڈالر (1973)[16]
14727449735 امریکی ڈالر (1974)[16]
23625313525 امریکی ڈالر (1975)[16]
27314909463 امریکی ڈالر (1976)[16]
30410993714 امریکی ڈالر (1977)[16]
20225550056 امریکی ڈالر (1978)[16]
21611589270 امریکی ڈالر (1979)[16]
26128874848 امریکی ڈالر (1980)[16]
34051190079 امریکی ڈالر (1981)[16]
31649049103 امریکی ڈالر (1982)[16]
29040756672 امریکی ڈالر (1983)[16]
26165371829 امریکی ڈالر (1984)[16]
26506763265 امریکی ڈالر (1985)[16]
20120464281 امریکی ڈالر (1986)[16]
24909304907 امریکی ڈالر (1987)[16]
22438214642 امریکی ڈالر (1988)[16]
18590557936 امریکی ڈالر (1989)[16]
13437132418 امریکی ڈالر (1990)[16]
13298434203 امریکی ڈالر (1991)[16]
7466618402 امریکی ڈالر (1992)[16]
9223544328 امریکی ڈالر (1993)[16]
9138918550 امریکی ڈالر (1994)[16]
10399125055 امریکی ڈالر (1995)[16]
16017714769 امریکی ڈالر (1996)[16]
16210181661 امریکی ڈالر (1997)[16]
15542900693 امریکی ڈالر (1998)[16]
18330923274 امریکی ڈالر (1999)[16]
20846862786 امریکی ڈالر (2000)[16]
18866511248 امریکی ڈالر (2001)[16]
22185741950 امریکی ڈالر (2002)[16]
24537681182 امریکی ڈالر (2003)[16]
29303903499 امریکی ڈالر (2004)[16]
157386678400 امریکی ڈالر (2005)[16]
228956875677 امریکی ڈالر (2006)[16]
309287351687 امریکی ڈالر (2007)[16]
451278967784 امریکی ڈالر (2008)[16]
420983691698 امریکی ڈالر (2009)[16]
459313156024 امریکی ڈالر (2010)[16]
556570991484 امریکی ڈالر (2011)[16]
673739617131 امریکی ڈالر (2012)[16]
737796363074 امریکی ڈالر (2013)[16]
744440558276 امریکی ڈالر (2014)[16]
626989681473 امریکی ڈالر (2015)[16]
547266623745 امریکی ڈالر (2016)[16]
509457096430 امریکی ڈالر (2017)[16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.853 (2017)[17]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 11 فیصد (2014)[18]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
کرنسی سعودی ریال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رائج سکہ (P38) ویکی ڈیٹا پر
ہنگامی فون
نمبر
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+03:00  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت دائیں[20]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم sa.  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 SA  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +966  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر

مملکت سعودی عرب (عربی: المملكة العربية السعودية) جزیرہ نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے ۔ شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں سلطنت عمان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے ۔ یہ حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔

فہرست

تاریخترميم

سعودی ریاست کا ظہور تقریباً 1750ء میں عرب کے وسط سے شروع ہوا جب ایک مقامی رہنما محمد بن سعود معروف اسلامی شخصیت اورمحمد بن عبدالوہاب کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ۔

 
سعودی ریاست مختلف ادوار میں

اگلے ڈیڑھ سو سال میں آل سعود کی قسمت کا ستارہ طلوع و غروب ہوتا رہا جس کے دوران جزیرہ نما عرب پر تسلط کے لیے ان کے مصر، سلطنت عثمانیہ اور دیگر عرب خاندانوں سے تصادم ہوئے ۔ بعد ازاں سعودی ریاست کا باقاعدہ قیام شاہ عبدالعزیز السعود کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

1902ء میں عبدالعزیز نے حریف آل رشید سے ریاض شہر چھین لیا اور اسے آل سعود کا دار الحکومت قرار دیا۔ اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے 1913ء سے 1926ء کے دوران الاحساء، قطیف، نجد کے باقی علاقوں اور حجاز (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے شہر شامل تھے) پر بھی قبضہ کر لیا۔ 8 جنوری 1926ء کو عبدالعزیز ابن سعود حجاز کے بادشاہ قرار پائے ۔ 29 جنوری 1927ء کو انہوں نے شاہ نجد کا خطاب حاصل کیا۔ 20 مئی 1927ء کو معاہدہ جدہ کے مطابق برطانیہ نے تمام مقبوضہ علاقوں جو اس وقت مملکت حجاز و نجد کہلاتے تھے پر عبدالعزیز ابن سعودکی حکومت کو تسلیم کر لیا۔ 1932ء میں برطانیہ کی رضامندی حاصل ہونے پر مملکت حجاز و نجد کا نام تبدیل کر کے مملکت سعودی عرب رکھ دیا گیا۔

مارچ 1938ء میں تیل کی دریافت نے ملک کو معاشی طور پر زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہو گیا۔

سیاستترميم

 
خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز

سعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے ۔ 1992ء میں اختیار کیے گئے بنیادی قوانین کے مطابق سعودی عرب پر پہلے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد حکمرانی کرے گی اور قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے ۔

ملک میں کوئی تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے نہ ہی انتخابات ہوتے ہیں البتہ 2005ء میں مقامی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ بادشاہ کے اختیارات شرعی قوانین اور سعودی روایات کے اندر محدود ہیں۔ علاوہ ازیں اسے سعودی شاہی خاندان، علماء اور سعودی معاشرے کے دیگر اہم عناصر کا اتفاق بھی چاہیے ۔ سعودی عرب دنیا بھر میں مساجد اور قرآن اسکولوں کے قیام کے ذریعے اسلام کی ترویج کرتی ہے ۔ شاہی خاندان کے اہم ارکان علما کی منظوری سے شاہی خاندان میں کسی ایک شخص کو بادشاہ منتخب کرتے ہیں۔

قانون سازی وزراء کی کونسل عمل میں لاتی ہے جو لازمی طور پر شریعت اسلامی سے مطابقت رکھتی ہو۔ عدالت شرعی نظام کی پابند ہیں جن کے قاضیوں کا تقرر اعلیٰ عدالتی کونسل کی سفارش پر بادشاہ عمل میں لاتا ہے ۔

صوبےترميم

سعودی عرب کو انتظامی لحاظ سے تیرہ علاقوں یا صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کو عربی زبان میں مناطق (عربی واحد: منطقہ) کہتے ہیں۔ سعودی نقشہ میں صوبے نمبر زد ہیں اور خانہ معلومات میں ان کے بارے میں معلومات درج کی گئي ہیں۔

نمبر شمار صوبہ رقبہ (مربع کلومیٹر) آبادی (1999ء)
1 الباحہ (Al Bahah) 15,000 459,200
2 الحدود الشماليہ (Al Hudud ash Shamaliyah) 127,000 237,100
3 الجوف (Al Jawf) 139,000 332,400
4 المدينہ (Al Madinah) 173,000 1,310,400
5 القصيم (Al Qasim) 65,000 933,100
6 الرياض (Ar Riyad) 412,000 4,485,000
7 الشرقيہ (Ash Sharqiyah) 710,000 3,360,157
8 عسير ('Asir) 81,000 1,563,000
9 حائل (Ha'il) 125,000 527,033
10 جيزان (Jizan) 11,671 1,186,139
11 الحجاز (Hijaz) 164,000 5,797,971
12 نجران (Najran) 119,000 367,700
13 تبوک (Tabuk) 108,000 560,200

جغرافیہترميم

 
سعودی عرب کا نقشہ

مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل ہے ۔ متحدہ عرب امارات، اومان اور یمن کے ساتھ منسلک ملک کی سرحدوں کا بڑا حصہ غیر متعین ہے اس لیے ملک کا عین درست رقبہ اب بھی نامعلوم ہے ۔ سعودی حکومت کے اندازوں کے مطابق مملکت کا رقبہ 22 لاکھ 17 ہزار 949 مربع کلومیٹر (8 لاکھ 56ہزار 356 مربع میل) ہے ۔ دیگر اندازوں کے مطابق ملک کا رقبہ 19 لاکھ 60ہزار 582 مربع کلومیٹر (7 لاکھ 56 ہزار 934 مربع میل) اور 22 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر (8 لاکھ 64 ہزار 869 مربع میل) کے درمیان ہے تاہم دونوں صورتوں میں سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 15 بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے ۔

مملکت جغرافیہ مختلف نوعیت کا ہے ۔ مغربی ساحلی علاقے (التہامہ) سے زمین سطح سمندر سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک طویل پہاڑی سلسلے (جبل الحجاز) تک جاملتی ہے جس کے بعد سطع مرتفع ہیں۔ جنوب مغربی اثیر خطے میں پہاڑوں کی بلندی 3 ہزار میٹر (9 ہزار 840 فٹ) تک ہے اور یہ ملک کے سب سے زیادہ سرسبز اور خوشگوار موسم کا حامل علاقہ ہے ۔ یہاں طائف اور ابہاء جیسے تفریحی مقامات قائم ہیں۔ خلیج فارس کے ساتھ ساتھ قائم مشرقی علاقہ بنیادی طور پر پتھریلا اور ریتیلا ہے ۔ معروف علاقہ ”ربع الخالی“ ملک کے جنوبی خطے میں ہے اور صحرائی علاقے کے باعث ادھر آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ۔

مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی و نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اور صرف 2 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے ۔ بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں۔ سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔

موسمترميم

سعودی عرب کا موسم مجموعی طور پر شدید گرم اور خشک ہے ۔ یہ دنیا کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت کا 50 ڈگری سینٹی گریڈ (120 ڈگری فارن ہائیٹ) سے بھی اوپر جانا معمول کی بات ہے۔ موسم سرما میں بلند پہاڑی علاقوں میں کبھی کبھار برف پڑ جاتی ہے تاہم مستقل بنیادوں پر برف باری نہیں ہوتی۔ موسم سرما کا اوسط درجہ حرارت 8 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ (47 سے 68 ڈگری فارن ہائیٹ) ہے ۔ موسم گرما میں اوسط درجہ حرارت 27 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ (81 سے 109 ڈگری فارن ہائیٹ) ہوتا ہے۔ وسط صحرائی علاقوں میں گرمیوں میں بھی رات کے وقت موسم سرد ہوجاتا ہے۔

سعودی عرب میں بارش بہت کم ہوتی ہے تاہم کبھی کبھار موسلا دھار بارش سے وادیوں میں زبردست سیلاب آجاتے ہیں۔ دار الحکومت ریاض میں سالانہ بارش 100 ملی میٹر (4 انچ) ہے جو جنوری سے مئی کے درمیان میں ہوتی ہے۔ جدہ میں نومبر اور جنوری کے درمیان میں 54 ملی میٹر (2.1 انچ) بارش ہوتی ہے۔

اعداد و شمارترميم

2005ء کے مطابق سعودی عرب کی آبادی 26 اعشاریہ 4 ملین ہے جس میں 5 اعشاریہ 6 ملین غیر ملکی آبادی بھی شامل ہے ۔ 1960ء کی دہائی تک مملکت کی آبادی کی اکثریت خانہ بدوش یا نیم خانہ بدوش تھی لیکن معیشت اور شہروں میں تیزی سے ترقی کی بدولت اب ملک کی 95 فیصد آبادی مستحکم ہے ۔ شرح پیدائش 29 اعشاریہ 56 فی ایک ہزار افراد ہے جبکہ شرح اموات صرف 2 اعشاریہ 62 فی ایک ہزار افراد ہے۔چند شہروں اور نخلستانوں میں آبادی کی کثافت ایک ہزار افراد فی مربع کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے ۔

تقریباً 80 فیصد سعودی باشندے نسلی طور پر عرب ہیں۔ مزید برآں چند جنوبی اور مشرق افریقی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں جو چند سو سال قبل اولاً غلام بنا کر یہاں لائے گئے تھے۔ سعودی عرب میں دنیا بھر کے 70 لاکھ تارکین وطن بھی مقیم ہیں جن میں بھارت کے 14 لاکھ، بنگلہ دیش کے 10 لاکھ، پاکستان کے 9 لاکھ، فلپائن کے 8 لاکھ اور مصر کے 7 لاکھ 50 ہزار باشندے شامل ہیں۔ قریبی ممالک کے عرب باشندوں کی بڑی تعداد میں مملکت میں برسرروزگار ہے ۔ سعودی عرب میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ باشندے بھی قیام پزیر ہیں۔

تعلیمترميم

1932ء میں مملکت سعودی عرب کے قیام کے وقت ہر باشندے کی تعلیم تک رسائی نہیں تھی اور شہری علاقوں میں مساجد سے ملحق مدارس میں تعلیم کی محدود اور انفرادی کوششیں ہورہی تھیں۔ ان مدارس میں شریعت اسلامی اور بنیادی تعلیم سکھائی جاتی تھی تاہم گذشتہ صدی کے اختتام تک سعودی عرب ایک قومی تعلیمی نظام کا حامل ہے جس میں تمام شہریوں کو اسکول سے قبل سے لے کر جامعہ کی سطح تک مفت تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔ جدید سعودی تعلیمی نظام جدید اور روایتی فنی و سائنسی شعبہ جات میں معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے ۔ اسلام کی تعلیم سعودی نظام تعلیم کا بنیادی خاصہ ہے ۔ سعودی عرب کا مذہبی تعلیمی نصاب دنیا بھر کے مدارس میں بھی پڑھایا جاتا ہے ۔

سعودی عرب میں باقاعدہ بنیادی تعلیم کا آغاز 1930ء کی دہائی میں ہوا۔ 1945ء میں شاہ عبدالعزیز السعود نے مملکت میں اسکولوں کے قیام کے لیے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا۔ 6 سال بعد 1951ء میں مملکت کے 226 اسکولوں میں 29 ہزار 887 طالب علم زیر تعلیم تھے ۔ 1954ء میں وزارت تعلیم کا قیام عمل میں آیا جس کے پہلے وزیر شہزادہ فہد بن عبدالعزیز بنے ۔ سعودی عرب کی پہلی جامعہ شاہ سعود یونیورسٹی 1957ء میں ریاض میں قائم ہوئی۔

آج سعودی عرب کا قومی سرکاری تعلیمی نظام 8 جامعات، 24 ہزار سے زائد اسکولوں اور ہزاروں کالجوں اور دیگر تعلیمی و تربیتی اداروں پر مشتمل ہے ۔ اس نظام کے تحت ہر طالب علم کو مفت تعلیم، کتب اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مملکت کے سرکاری میزانیہ کا 25 فیصد سے زائد تعلیم کے لیے مختص ہے ۔ سعودی عرب میں طالب علموں کو اسکالرشپ پروگرام کے تحت بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے جن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، ملائیشیا اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

کالج و جامعاتترميم

سعودی عرب کی جامعات، کالج اور تعلیمی اداروں کی فہرست

جامعہ/دانشگاہ ویب سائٹ قیام شہر
شاہ فہد یونیورسٹی www.ksu.edu.sa 1957 ریاض
اسلامی یونیورسٹی مدینہ www.iu.edu.sa 1961 مدینہ
شاہ عبد العزیز یونیورسٹی www.kau.edu.sa 1967 جدہ
امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی www.imamu.edu.sa 1974 ریاض
شاہ فیصل یونیورسٹی www.kfu.edu.sa 1975 دمام
شاہ فہد یونیورسٹی برائے پٹرولیم و معدنیات www.kfupm.edu.sa 1975 ظہران
ام القراء یونیورسٹی www.uqu.edu.sa 1979 مکہ
شاہ خالد یونیورسٹی www.kku.edu.sa 1998 ابھا
شاہ عبد اللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی www.kaust.edu.sa 2008 ضوال
قصیم یونیورسٹی www.qu.edu.sa 2004 بریدہ
طائف یونیورسٹی www.tu.edu.sa 2004 طائف
الجوف یونیورسٹی www.ju.edu.sa 2005 الجوف
جازان یونیورسٹی 2005 جازان
حائل یونیورسٹی www.uoh.edu.sa 2006 حائل
الباحہ یونیورسٹی www.bu.edu.sa 2006 الباحہ
نجران یونیورسٹی init www.nu.edu.sa 2006 نجران
یونیورسٹی کالج الجبیل www.ucj.edu.sa 2006 الجبیل
ینبع صنعتی کالج www.yic.edu.sa 1989 ینبع
الفیصل یونیورسٹی www.alfaisal.edu 2007 ریاض
عرب اوپن یونیورسٹی www.arabou.org.sa 2002 ریاض
شہزادہ سلطان یونیورسٹی www.psu.edu.sa 2003 ریاض
دوا شناسی اور دندان سازی کا کالج www.riyadh.edu.sa, 2004 ریاض
دار العلوم یونیورسٹی www.dau.edu.sa 2005 ریاض
طیبہ یونیورسٹی www.taibahu.edu.sa 2005 مدینہ
شہزادہ محمد یونیورسٹی www.pmu.edu.sa 2006 الخبر
شاہ سعود بن عبد العزیز یونیورسٹی برائے ہیلتھ www.ksau-hs.edu.sa 2005 ریاض
شہزادہ سلطان کالج برائے سیاحت و www.pscj.edu.sa 2007 جدہ
عفت کالج www.effatcollege.edu.sa 1999 جدہ
دار الحکمۃ کالج www.daralhekma.edu.sa 1999 جدہ
کالج برائے بزنس ایڈمنسٹریشن (CBA) www.cba.edu.sa 2000 جدہ
شہزادہ سلطان ایوی ایشن اکیڈمی [1] 2004 جدہ
الیمامہ کالج www.alyamamah.edu.sa 2004 ریاض
دمام ٹیکنالوجی کالج www.dct.gotevot.edu.sa دمام
جبیل انڈیسٹریل کالج www.jic.edu.sa 1978 الجبیل
جبیل ٹیکنیکل کالج الجبیل
انسٹی ٹیوٹ اف پبلک انتظامیہ www.ipa.edu.sa ریاض، جدہ، مکہ، دمام
جدہ کالج برائے اساتذہ www.jtc.edu.sa جدہ
جدہ کالج برائے ٹیکنالوجی www.jct.edu.sa 1987 جدہ
مدینہ کالج برائے ٹیکنالوجی www.mct.edu.sa 1996 مدینہ
کالج برائے ٹیلیکام و الیکٹرونکس جدہ
جدہ پرائیویٹ کالج جدہ
جدہ ہیلتھ کئیر کالج جدہ
جدہ کمیونٹی کالج Link جدہ
الحدود الشاملیۃ یونیورسٹی عرعر
تبوک یونیورسٹی تبوک
بٹرجی میڈیکل کالج bmcmedcollege.net جدہ
قصیم میڈیسن کالج Qassim College of Medicine بریدہ
سلیمان الراجحی یونیورسٹی Sulaiman Al Rajhi University بکریہ
ابن سینا نیشنل کالج برائے میڈیکل سٹڈیز ibnsina.edu.sa جدہ
المجمع کمیونٹی کالج 2002 مجمعہ
دمام کمیونٹی کالج www.dcc.edu.sa دمام
حفر الباطن کمیونٹی کالج www.hbcc.edu.sa 1999 حفر الباطن

معیشتترميم

نقفل و حملترميم

ملک بھر میں ایک بہترین نقل و حمل کا نظام قائم ہے۔ سعودی عرب حکومت ماضی میں شارعی نظام کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی رہی ہے کیوں کہ وہاں پیٹرول کی قیمت باقی دنیا کے مقابلے میں سب کم رہی ہے۔ فروری 2018ء میں اعلان کیا گیا کہ، سعودی عرب کی چار اہم موٹر ویز پر رفتار میں بہتری لائی جائے گی اور اسے 12 کلو میٹر فی گھنٹہ سے 140 کلو میٹر فی گھنٹہ تک پہنچا دیا جائے گا۔ اس منصوبے میں مکہ- مدینہ، یاض - دمام، ریاض-جاسم اور آخر میں رياض- طائف موٹر ویز شامل ہیں۔[21] ملک میں ایک ترقی پزیر بحری نقل و حمل کا نظام ہے جو بنیادی طور پر پیٹروکیمیکل کی نقل و حمل کی سہولت کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ سعودی پورٹ اتھارتی ان بحری کارروائیوں کی نگرانی کرتی ہے، یہ ادارہ ملک میں بندرگاہوں کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔ شاہراہوں و ہوائی سفر پر زیادہ انحصار کرنے کے نتیجے میں، سعودی عرب میں ریل نقل و حمل میں دوسرے ذرائع کی طرح سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ البتہ، اب ملک کے ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں توسیع کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

کھیلترميم

سعودی عرب کا سب سے مقبول کھیل فٹ بال ہے ۔ سعودی عرب گرمائی اولمپکس، والی بال، باسکٹ بال اور دیگر کھیلوں میں عالمی سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتا ہے ۔ قومی فٹ بال مسلسل 4 مرتبہ ورلڈ کپ اور 6 مرتبہ ایشین کپ کے لیے کوالیفائی کرنے کے باعث عالمی سطح پرجانی جاتی ہے ۔ سعودی عرب تین مرتبہ ایشین چمپئن رہ چکا ہے اور دو مرتبہ فائنل میں شکست کھاگیا۔ سعودی عرب کے چند معروف فٹ بال کھلاڑیوں میں ماجد عبداللہ، سامي الجابر اور ياسر القحطاني شامل ہیں۔

آبادیاتترميم

مذہبترميم

اسلام سعودی عرب کا سرکاری مذہب ہے اور اس کا قانون تمام شہریوں کے مسلمان ہونے کو ضروری قرار دیتا ہے۔[22] اسلام کے سوا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو کھلے عام عبادت منع ہے۔[23][24] سعودی عرب شہریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی غیر مسلم کو اسلام قبول ضروری ہے۔[25] سعوی عرب کے نفاذ شریعت اور اس کے انسانی حقوق متعلقہ قوانین پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔[26][27]

ثقافتترميم

سعودی ثقافت کی بنیاد مذہب اسلام ہے۔ اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ہر روز دنیا بھر کے مسلمان 5 مرتبہ مکہ مکرمہ میں قائم خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو ہوتی ہے ۔ قرآن مجید سعودی عرب کا آئین اور شریعت اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد ہے ۔

سعودی عرب کے معروف ترین لوک رسم قومی رقص ارضیٰ ہے ۔ تلواروں کے ساتھ کیا جانے والا یہ رقص قدیم بدوی روایات کا حصہ ہے ۔ حجاز کی السہبا لوک موسیقی کی جڑیں قرون وسطیٰ کے عرب اندلس سے جاملتی ہیں۔

سعودی عرب کا لباس باشندوں کے زمین، ماضی اور اسلام سے تعلق کا عکاس ہے ۔ روایتی طور پر مرد ٹخنے تک کی لمبائی کی اونی یا سوتی قمیض پہنتے ہیں جو ثوب کہلاتی ہے جس کے ساتھ سر پر شماغ یا غطرہ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ عورتوں کا لباس قبائلی موتیوں، سکوں، دھاتی دھاگوں اور دیگر اشیاء سے مزین ہوتا ہے ۔ سعودی خواتین گھر سے باہر عبایہ اور نقاب کا استعمال کرتی ہیں۔

اسلام میں شراب نوشی اور سور کے گوشت کے استعمال کی سختی سے ممانعت ہے اور اس پر سعودی عرب میں سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔ سعودی روٹی خبز کا تقریباً تمام کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ بھنی ہوئی بھیڑ، مرغی، فلافل، شورمہ اور فول بھی دیگر مشہور کھانوں میں شامل ہیں۔ روایتی قہوہ خانے ہر جگہ موجود ہیں تاہم اب ان کی جگہ بڑے کیفے لے رہے ہیں۔ بغیر دودھ کی سیاہ عربی چائے کا استعمال ہر جگہ کیا جاتا ہے ۔

سعودی عرب میں تھیٹر اور سینما پر پابندی عائد ہے تاہم ظہران اور راس تنورہ میں قائم نجی آبادیوں میں تھیٹر قائم ہیں تاہم یہ فلموں کے نمائش کی بجائے مقامی موسیقی اور فنون پیش کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ حال ہی میں بچوں اور عورتوں کے لیے عربی کارٹون پیش کرنے کے لیے سینمائوں کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ امریکا کی مشہور فلموں کی وڈیوز اور ڈی وی ڈیز قانونی ہیں اور ہر جگہ دستیاب ہیں۔

متعلقہ مضامینترميم

حوالہ جاتترميم

  1.     "صفحہ سعودی عرب في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جون 2019۔
  2. http://embassies.mofa.gov.sa/sites/China/AR/Guango/AboutKingdom/Pages/default.aspx
  3. باب: 1
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  5. http://www.libback.uqu.edu.sa/hipres/ABS/ind11576.pdf
  6. http://www.momra.gov.sa/About/KSA.PDF
  7. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  8. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  9. https://www.iho.int/srv1/index.php?option=com_wrapper&view=wrapper&Itemid=452&lang=en — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2017 — ناشر: بین الاقوامی آب نگاری تنظیم
  10. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  11. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  12. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  13. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=SA — اخذ شدہ بتاریخ: 21 اکتوبر 2018 — ناشر: عالمی بنک
  14. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 11 جون 2019 — ناشر: عالمی بنک
  15. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 27 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  16. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش اص اض اط اظ https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  17. http://hdr.undp.org/en/data — ناشر: United Nations Development Programme
  18. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  19. International Numbering Resources Database — اخذ شدہ بتاریخ: 10 جولا‎ئی 2016 — مدیر: عالمی بعید ابلاغیاتی اتحاد
  20. http://chartsbin.com/view/edr
  21. "Arab News"۔ |archive-url= is malformed: save command (معاونت)
  22. "International Religious Freedom Report 2004"۔ US Department of State۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 ستمبر 2012۔
  23. "World Report 2015: Saudi Arabia"۔ human rights watch۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 اپریل 2017۔
  24. World Report 2018: Saudi Arabia۔ Retrieved فروری 3, 2018.
  25. http://www.moi.gov.sa/wps/wcm/connect/121c03004d4bb7c98e2cdfbed7ca8368/EN_saudi_nationality_system.pdf?MOD=AJPERES&CACHEID=121c03004d4bb7c98e2cdfbed7ca8368 Ministry of the Interior| dead link
  26. Human Rights Watch, World Report 2013۔ Saudi Arabia.] Freedom of Expression, Belief, and Assembly.
  27. Amnesty International, Annual Report 2013, Saudi Arabia، Discrimination – Shi’a minority

حواشیترميم

بیرونی روابطترميم