سلطان حسین مرزا بایقرا

ہرات کا تیموری حکمران جس نے 1469ء سے 1506ء تک حکومت کی

ابوالغازی سلطان حسین مرزا بایقرا (پیدائش: جون 1438ء— وفات: 4 مئی 1506ء) تیموری سلطنت کی ہرات میں شاخ کا حکمران تھا جس نے 1469ء سے 4 مئی 1506ء تک حکومت کی۔ سلطان حسین مرزا بایقرا ہرات میں تیموری سلطنت کی فرمانروائی کا آخری حکمران تھا جس کے بعد ہرات سے تیموریوں کی حکومت ختم زوال پزیر ہوتے ہوئے ختم ہو گئی۔ سلطان بایقرا کی سیاسی و ذاتی زندگی کسی حد تک ظہیر الدین محمد بابر کی زندگی سے مشابہت رکھتی ہے۔

سلطان حسین مرزا بایقرا
Behhzad 001.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش جون 1438  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہرات،  تیموری سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 4 مئی 1506 (67–68 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خراسان  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن مصلائے ہرات،  ہرات،  افغانستان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Timurid.svg تیموری سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد نسل
والد معزالدین عمر شیخ مرزا اول  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ فیروزہ سلطان بیگم  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان تیموری خاندان  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
سلطان تیموری سلطنت (ہرات)   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
مارچ 1469  – 4 مئی 1506 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png یادگار محمد مرزا 
بدیع الزماں مرزا  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ حاکم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام و نسبترميم

سلطان حسین مرزا بایقرا کا نسب امیر تیمور تک پہنچتا ہے جس کی نسبت وہ تیموری تھا۔ سلطان کا نام حسین مرزا اور کنیت ابوالغازی تھی۔ عوام میں نام سلطان بایقرا تھا جو اُس کے دادا کے بایقرا مرزا کے نام پر تھا۔ نسب یوں ہے: حسین مرزا بایقرا بن غیاث الدین منصور مرزا بن بایقرا مرزا بن عمر شیخ مرزا بن امیر تیمور۔ سلطان حسین مرزا کی والدہ فیروزہ بیگم امیر تیمور کے بیٹے میران شاہ کی پڑپوتی اور پڑنواسی تھی۔ اِس طرح دونوں اطراف سے سلطان حسین مرزا تیموری نسب سے تھا۔[2]

ابتدائی حالاتترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. https://pantheon.world/profile/person/Sultan_Husayn_Bayqara — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. ظہیر الدین بابر: بابر نامہ، صفحہ 256۔