سلطنت عثمانیہ کے شیخ الاسلام

شیخ الاسلام کا لقب سلطنت عثمانیہ کے مفتی اعظم کے لیے بولا جاتا تھا۔ یہ سلطنت کا اہم عہدہ تھا جس کا مرکز آستانہ (استنبول) میں تھا۔ اس عہدہ کو سب سے پہلے سلطان محمد فاتح نے سنہ 1451ء میں قائم کیا تھا، حالانکہ اِس سے قبل صرف اناطولیہ اور روم ایلی کے قاضی مقرر ہوا کرتے تھے۔ پھر سلطان سلیم اول کے عہد میں خاصا اہم اور باوزن منصب بن گیا اور سلطان سلیمان قانونی کے عہد میں یہ عہدہ حکومت کا ایک اہم سرکاری و قانونی ادارہ اور شعبہ بن گیا، جس کے فتاوی اور اجتہادات کے روشنی میں سلطنت کے سیاسی اور دینی امور طے پاکر نافذ ہوتے تھے۔[1] مؤرخین کا اتفاق ہے کہ اس عہدہ کا آغاز سلطان محمد فاتح[2] کے عہد میں ہوا تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے آخری شیخ الاسلام مصطفی صبری توقادی تھے، انھیں اور ان کے سیکریٹری محمد زاہد کوثری کو سلطنت کے سقوط سے پہلے جلا وطن کر دیا گیا تھا۔

فہرستترميم

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. حسان حلاق؛ عباس صباغ (1999). المعجم الجامع في المصطلحات الأيوبية والمملوكية والعثمانية ذات الأصول العربية والفارسية والتركية (ایڈیشن الأولى). بيروت: دار العلم للملايين. صفحہ 133. 
  2. أكرم كيدو.مؤسسة شيخ الإسلام في الدولة العثمانية.ترجمة هاشم الايوبي.منشورات جروس برس.طرابلس.لبنان.ط 1 1992.ـ