سید عابد علی وجدی الحسینی

وجدی الحسینی (9 اگست 1918/ 14 اکتوبر 1990) شہر بھوپال کی قابل فخر شخصیت عالم مفسر محدث صوفی مؤرخ سابق قاضی شہر بھوپال


سید عابد علی وجدی الحسینی
عابد علی
معلومات شخصیت
مدفن بھوپال
رہائش بھوپال مدھیہ پردیش
شہریت آزاد بھارت
مذہب اسلام
عملی زندگی
تعليم حدیث ادب و تاریخ
مادر علمی دار العلوم دیوبند
پیشہ شیخ الحدیث و قاضی القضاۃ بھوپال
وجۂ شہرت دینی و سماجی خدمات

نام و نسبترميم

سید عابد علی بن سید صابر علی بن سید شاکر علی بن سید قادر علی بن سید امیر علی سندیلوی مشہدی ،سادات مشہدی سے ہیں جن کا سلسلہ نسب امام جعفر صادق کے واسطہ سے حضرت امام حسین سے ملتا ہے۔

مشہد سے بھوپال تک اجداد کا سفرترميم

مورث اعلی عارف باللہ" سید محمد" نےتیموری غارت گری کے پر آشوب دور 1493ء میں مشہد مقدس کو خیر باد کہ کر ہندوستان کا رخ کیا ، اودھ میں آکر ٹھہرے ، ان کے دو صاحبزادے تھے ، ایک سید احمد جنھوں نے "کالپی" کو اپنا مستقر بنایا اوردوسرے سید امیر علی جو"سندیلہ" میں قیام پزیر ہوئے، جو اس وقت شرفاء، علما و صوفیا کی بستی تھی، اپنی عالی نسبی ودور اندیشی کی بنا پر مقبول خواص و عوام و صاحب مناصب ہوئے،حضرت کے جد الجد سید امیر علی حکومت آصفیہ کی شیعہ گردی کے طوفان میں سندیلہ چھوڑ کر وارد بھوپال ہوئے، نواب قدسیہ بیگم نے  موصوف کو صوبہ دار کے عہدہ پر فائز کیا، جہاں انہوں نے اپنی مختلف خدمات کی وجہ سے نیک نامی کا تمغا حاصل کیا، ان کے صاحبزادے سید قادر علی اپنی انتظامی صلاحیت کی وجہ سے ریاست کے مختلف عہدوں پر رہ کر آخر میں شاہجہاں بیگم کی ڈیوڑھی خاص کے معتمد و میر منشی {چیف سیکریٹری} رہے، جد امجد سید شاکر علی جب پیدا ہوئے تو مادر مہربان اللہ کو پیاری ہو چکی تھیں، اس لیے نواب سلطان جہاں بیگم کے ساتھ بچپن میں پلے بڑھے، جس کی بنا پر سرکار عالیہ ہمیشہ اس کا لحاظ رکھتی تھیں، آپ ریاست میں نائب تحصیلدار تھے، آپ کے والد ماجد سید صابر علی مروجہ تعلیم کے بعد ریاست کی مختلف خدمات انجام دے کر پنشن یاب ہوئے اور 1943ء میں انتقال فرمایا۔

پیدائش و  تعلیمترميم

اس گھرانہ میں سید عابد علی وجدی الحسینی نے7 ذی قعدہ 1336ھ مطابق  9اگست 1918ء کو شہر بھوپال میں آنکھیں کھولیں ، وجدی صاحب کی پیدائش کا یہ دور سلطان جہاں بیگم کی حکمرانی کا دور تھا، جو ان کے ذوق تعلیمی کی بنا پر مشرقی علوم کے ماہروں سے بھرا ہواتھا، اس لیے تعلیم کی طرف رغبت فطری تھی؛ لہذا سب سے پہلے نوک قلم اپنے جد امجد سید شاکر علی کے ہاتھوں سے پکڑی ، جو شیریں رقم کے شاگرد تھے اور شیریں رقم زمرد رقم {میر پنجہ کش دہلوی استاذ بہادر شاہ ظفر} کے شاگرد تھے، مدارس احمدیہ و سلیمانیہ میں اردو ، فارسی و عربی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی ، جہاں آپ نے مولانا عبد الرشید مسکین ، قاضی محمد شعیب، مفتی خلیل اللہ ، مولانا عبد الرحمن ، مولوی محمد حسن منطقی ٹونکی اور صوفی محمد صدیق حیدرآبادی سے کسب فیض کیا ، قاضی محمد یحیٰ ، مفتی عنایت اللہ خلف مفتی لطف اللہ علی گڑھی اور بھوپال کے مشہور مصنف علامہ ذو الفقار احمد نقوی کو سالانہ امتحان بچپن ہی میں دیا، حضرت قطب عالم مولانا رشید احمد گنگوہی کے چہیتے شاگرد حضرت قاضی محمد حسن مرادآبادی نے فقہ کی ابتدائی تعلیم دی اور کم عمری کی بناپر "مولوی مختصر" کا خطاب دیا۔

رحلت علمیترميم

رحلت علمی کے لیے  1933ء میں والدین سے اجازت لے کر ایک مختصر قافلہ کے ساتھ پہلے مظاہر علوم پھر دیوبند پہنچے،حضرت شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہی کے زیر سایہ رہ کر طالب علمی کا دور گزارا، جب 1936ء میں جامعہ ازہر کا وفد علامہ مصطفی مراغی کی سرکردگی میں دیوبند پہنچا تو" النادیہ "کے سیکریٹری کی حیثیت سے مولانا عبد الحق مدنی کی صدارت میں وجدی صاحب نے استقبال کیا۔شیخ نے مولانا کی تقریر سن کر تحسین آمیز کلمات کہے۔

اساتذہ دیوبندترميم

دار العلوم دیوبند میں حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی ، شیخ التفسیر علامہ شبیر احمد عثمانی ، شیخ روحانیت میاں اصغر حسین صاحب، شیخ المعقول علامہ ابراہیم بلیاوی ، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی ، شیخ المعانی والبدیع علامہ عبد السمیع اور فقیہ الامت مفتی محمد شفیع صاحب سے کسب فیض فرمایا۔

اسفار بعد از فراغت تعلیمترميم

اپنے محب محترم قاری فخر الدین گیاوی کی ہمراہی میں رنگون گئے اور احباب کے اصرار پر راندیریہ کالج {رنگون سٹی} میں عربک لیکچرار کی حیثیت سے کچھ وقت گزارا، پھر جاپان کے حملہ 1937ء کے اندیشہ سے رنگون کو الوداع کہا، دوسرا سفر سید ازہر شاہ قیصر کی ہمراہی میں کشمیر کا ہوا، کشمیر سے واپسی پر لاہور میں مولانا احمد علی لاہوری کے یہاں استفادہ کے لیے قیام فرمایا۔

دہلی کا قیام اور سرگرمیاںترميم

 1939ء سے دار السلطنت دہلی میں چار سالہ قیام فرمایا اور وہاں ابتدا میں مشرقی امتحانات {مولوی، فاضل، منشی فاضل وغیرہ }کی کچھ دن تکمیل میں لگے رہے،پھر حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے فتوی نویسی کی ہدایات اور سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی کی سرپرستی میں تقریری سلسلہ کا آغاز کیا، اس دوران شعرو شاعری ، ادبی محفلوں کی کی شرکت وصدارت کرنے کی عزت سے بھی نوازے گئے،  اسی اثناء میں سابق صدر جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین خاں کے ایماء پر 1941ء-1942ء میں جامعہ ملیہ میں خدمت انجام دیں، جامعہ کی خدمات کے زمانہ میں امام انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کی صحبت اور ان کے نرم و گرم انقلابی افکار و خیالات سے واقفیت ہوئی، جب 1943ء میں وطن واپسی ہوئی تو رشتہ ازدواج سے منسلک ہو گئےاور اس کے بعد ہی والد محترم کا حادثہ وفات پیش آیا۔

تدریس، مقالہ نگاری ،تعلیمی وسماجی خدماتترميم

جہاں سے ابتدا کسب فیض کیا تھا{مدرسہ احمدیہ و سلیمانیہ} وہیں تدریس کا آغاز فرمایا اور جب ریاست کی خوش طالعی سے 1945ء میں علامہ سید سلیمان ندوی بحیثیت امیر الجامعہ و قاضی القضاۃ بھوپال جلوہ فرما ہوئے تو حضرت کو ابتداً استاد تاریخ ،پھر محدث دوم کے اعزاز سے نوازا گیا، سید صاحب کی رہنمائی پر نظم سے نثر کی طرف توجہ فرمائی پھر ملک کے وقیع علمی و ادبی رسائل میں مضامین و مقالات شائع ہوئے اور 1946ء-1948ء کے "بہترین ادب" میں آپ کے مقالات شامل کیے گئے، ریاست کے آخری دور میں قاری عبد الرووف کے ساتھ ادارہ شرقیہ قائم کرکے مشرقی علوم ، فارسی  واردو کی خدمت انجام دی ، منشی ، منشی فاضل، ادیب ، ادیب فاضل پنجاب یونیورسٹی کے امتحانات کے ذریعہ جس نے علمی ترقی کا نیا باب کھولا اور سینکڑوں لوگ صرف انگریزی میں امتحان دے کر ایم-اے، بی-اے ہوئے اور سرکاری خدمات انجام دیں، 1950ء میں بھوپال کے انڈین یونین میں ضم ہو جانے کے بعد حضرت سید صاحب کے ہاتھوں دار العلوم تاج المساجد کا افتتاح ہوا، حضرت اس ادارہ کے ابتدائی اساتذہ میں تھے، اسی دوران جمعیۃ کی ایک شاخ کی بنیاد بھوپال میں رکھی اور کسٹوڈین کے ظلم سے لوگوں کو بچایا ۔

شعر و ادبترميم

آپ ایک صاحب طرز ادیب و انشا٫ پرداز ہونے کے ساتھ ساتھ قادر الکلام شاعر بھی تھے ، آپ کے اشعار کے نمونے آپ کی منثورات میں جستہ جستہ بکھرے ہو ئے ہیں، ایک حمد اور ایک مناجات تو آپ کی کتاب "قطب مالوہ" میں آپ دیکھ  سکتے ہیں، جس کا مطلع ہے " اے خدا دانائے سر جسم و جاں" اور مناجات کا مقطع ہے،"ان دعاووں کو اےخدا مقبول کر /اس چمن کی ہر کلی کو پھول کر، آپ کی متعدد نعتیں "ندائے شاہی" کے نعت النبی نمبر میں بھی آگئی ہیں، نیز "اے حسیں بھوپال تال " کے عنوان سے آپ کا ایک کلام آپ کی قابل قدر کتاب "ہندوستان اسلام کے سایہ میں"موجود ہے، جسے شہر بھوپال کی ایک منظوم تاریخ کہنا زیادہ مناسب ہوگا، دہلی کے قیام کے دوران ادبی محفلوں و مشاعروں میں شرکت وصدارت کا ذکر اوپر آیا ، ایک اہل زبان وادب و اصحاب نظم و نثر کے شہر میں ادبی محفلوں کی صدارت ایک دور افتادہ" مالوی "کے لیے سرمایہ افتخار بھی ہے اور اس کے سخن گو،سخن فہم و سخن سنج ہونے کی سند بھی ، جب آپ تاج المساجد میں تدریس سے منسلک تھے تو بھی ایسی بہت سی محفلوں میں شرکت کرتے رہے، آخر حضرت علامہ سید سلیمان ندوی رحمۃ اللہ علیہ قاضی القضاۃ بھوپال نے آپ کو شاعری کی بجائے نثر نگاری کی طرف رخ کرنے کا مشورہ عنایت کیا اور فرمایا: " مولوی صاحب یہ ہر مسافر کے قدم کو پکڑ لیتا اور آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے، آپ ذرا وجدی کے ساتھ تھوڑا سا نجدی بھی ہو جائیے"پھر آپ نے نثر نگاری کے میدان میں بھی قدم رکھا اور ملک کے وقیع علمی و ادبی رسائل میں مضامین و مقالات شائع ہوئے ؛ چنانچہ آپ کو یہ فخر حاصل ہے کہ 1946-1948 ٫ کے "بہترین ادب" میں آپ کے مقالات شامل کیے گئے، آپ کی کتابیں جو ہماری دسترس میں ہیں جس طرح علوم سے لبریز ہیں اسی طرح ادب کا شاہکار بھی ہیں۔

سفر برار ،زیارت حرمین اور بھوپال واپسیترميم

مرحوم حکیم عبد الاحد خاں کی دعوت پر سفر برار پیش آیا اور وہاں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے طرح اقامت ڈالی، امراوتی کو مرکزبنایا اور صوبہ برار میں مکاتب کا جال بچھا دیا، درس قرآن اور دعوت تبلیغ کے سلسلہ کو عام کیا، پھر صوبہ کے قدیمی مدرسہ کے احیاء کے لیے قصبہ کولہا پور کو اپنا مرکز بنایا اور مدرسہ انوار العلوم کے درجات حفظ و عربی کا افتتاح آپ کے دست اقدس سے عمل میں آیا، 1952ءمیں حاجی نور خاں مرحوم کی ہمراہی میں زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوئے اور پھر دار العلوم تاج المساجد کی دعوت پر 1954ء میں دوبارہ بھوپال آگئےاور 1960ء تک اس ادارہ میں تعلیمی خدمات انجام دیں۔

ساگر و جبل پور کا سفر ، بھوپال کا عہدہ قضاءاور ترجمہ والی مسجد کا قیامترميم

 1960ء میں ساگر کے تعلیمی نظام ، مکاتب کی تنظیم اور جامع العلوم ساگر کی توسیع کے لیے مخلصین کے اصرار پر ساگر پہنچے ، نیز ساگر جبلپور کے روح فرسا فسادات میں مسلمانوں کی تسلی کے لیے بے انتہا خدمت انجام دیں ابھی کام جاری ہی تھا کہ حضرت قاضی عبد الہادی خاں صاحب کےحکم سے بھوپال لوٹے اور 1961ء میں نائب قاضی بنائے گئے، چند ماہ بعد مفتی عبدالہادی وفات فرما گئے تو آپ کو مسند قضا سونپا گیااور وفات تک بھوپال کے باجبروت وصاحب اختیار قاضی رہے، نیز اسی عرصہ میں آپ، مفتی عبد الہادی خان صاحب اور مفتی عبد الرزاق خان صاحب کے اجتماع سے درس نظامی کے مدرسہ کی داغ بیل ڈال د گئی، درس نظامی کی اکثر کتابیں پڑھائیں نیز بخاری بھی؛بلکہ آپ اہل علم میں "حضرت شیخ  الحدیث" ہی کے نام سے مشہور تھے۔

تصوف و سلوکترميم

خانقاہ مجددیہ میں شاہ محمد یعقوب نقشبندی  کے یہاں ختم خواجگان میں پابندی سے حاضر ہوتے ،1935ء میں حضرت حکیم الامت تھانوی کی خانقاہ امدایہ میں حاضر ہوئے، حضرت نےدعاوں سے نوازا، تعلیم باطنی کے لیے حضرت شیخ مدنی سے رشتہ استوار کیا اور کچھ مدت ذکر و اذکار میں رہے اخیر میں حضرت مولانا مسیح اللہ خان صاحب جلال آبادی سے رشتہ ارادت جوڑا اور حضرت سے خلافت بھی پائی۔

بزرگوں کی نظر میں آپ کا مقام اور حادثہ وفاتترميم

علامہ سید سلیمان ندوی نے "مورخ"،  مولانا عبدالماجد دریابادی نے سفرنامہ میں" جامع شخصیت"، شیخ الحدیث نے اپنی مسند میں "علامہ "اور مولانا علی میاں نے "فاضل گرامی "جیسے وقیع القاب سے نوازا،4اکتوبر 1990ء کو آپ اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔

تصانیفترميم

ہندوستان اسلام کے سایہ میں

بھوپال تحریکات آزای کے آئینہ میں

تاریخ قضاۃ و مفتیان بھوپال،قطب مالوہ

تاریخ ریاست بھوپال

خطبات جمعہ و عیدین

تفسیر بسم اللہ الرحمن الرحیم

چہل حدیث منظوم

سیرۃ النبی منظوم

نیز آپ کی بہت سی دینی ،علمی،ادبی تصنیفات امراوتی کے قیام کے دوران 20 دسمبر1950ء کو حادثہ فسادات میں یکایک نذر آتش ہو گئیں[1]


  1. خود نوشت سید وجدی الحسینی از کتاب قطب مالوہ