شاہ عنایت اللہ قادری شطاری قصوری ثم لاہوری پنجاب کے اکابر صوفیاء و اولیاء میں سے تھے

نامترميم

ابو المعارف محمد عنایت اللہ حنفی قادری شطاری قصوری ثم لاہوری والد کا نام پیر محمد تھا شاہ عنایت قادری قصور میں پید اہوئے آپ شاہ عنایت قادری کے نام سے معروف ہیں۔

آبا و اجدادترميم

آبا و اجداد کا تعلق لاہور سے ہے جو پشت در پشت یہاں آباد تھے‘ ذات کے آرائیں تھے۔ کاشتکاری اور باغبانی سے وابستہ یہ خانوادہ خدارسیدہ بزرگوں پر مشتمل ہے۔ مفتی غلام سرور قادری کے مطابق ’’شاہ عنایت از قوم باغبان یعنی زمیندار بود‘‘ شاہ عنایت قادری کے بزرگ لاہور کے علاقہ مزنگ میں ایک وسیع عریض رقبہ پر کاشتکاری کرتے تھے۔ کھیتی باڑی آپ کا ذریعہ معاش تھا۔

تعلیم و تربیتترميم

ابتدائی تعلیم قصور میں حاصل کی اس کے بعد لاہور پہنچ کر شاہ محمد رضا قادری الشطاری لاہوری کی حلقہ درس میں شامل ہوئے انہی کے ہاتھ پر سلسلہ قادریہ میں بیعت ہوئے اور خدمت مرشد میں رہ کر تکمیل سلوک اور خرقہ خلافت حاصل کیا مرشد کے حکم پر قصور آ گئے وہاں پر حلقہ درس بہت وسیع ہو گیا ایک خلق کثیر علمی و روحانی پیاس بجھانے لگی قصور کے حاکم حسین خان خویشگی(افغان) کو یہ بات ایک آنکھ نہ بھائی تو قصور سے نکل جانے کا حکم دیا آپ پھر لاہور تشریف لے آئے اور مستقل سکونت اختیار کی مریدین میں بابا بھلے شاہ کا نام سر فہرست ہے۔

تصانیفترميم

شاہ عنایت قادری بلند پایہ مفسر‘ فقہیہ اور پنجاب کے اکابر علما و صلحا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی تصنیفات میں سے چند ایک یہ ہیں

  • غایت الحواشی
  • ملتقط الحقائق شرح کنز الدقائق
  • تنقیح المرام فی مبحث الوجود
  • لطائف غیبیہ
  • اذکار قادریہ
  • مجموعہ عرفانی شرح مجموعہ سلطانی
  • رسالہ در مسئلہ حرب و دار الحرب
  • ذیل ااغلاط فی مسائل الغصب فی الافراط
  • دستور العمل
  • اذکار غیبیہ
  • کلمات التامہ فی ردمطاعن الشفات،
  • رسالہ بہز الطاعات
  • حواشی جواہر خمسہ،
  • رسالہ من قال ان الدعا فی الرزق کفر
  • رسالہ فی حل شرب الدخان،

وفاتترميم

1141ھ محمد شاہ کے عہد میں وفات پائی لاہور میں مدفون ہیں[1][2]

حوالہ جاتترميم

  1. اردو دائرہ معارف اسلامیہ جلد 14٫2 صفحہ 304 دانش گاہ پنجاب لاہور
  2. خزینۃ الاصفیاء جلد اول غلام سرور لاہوری،صفحہ 297مکتبہ نبویہ لاہور