شیخ سلطان بلیاوی سلسلہ احسنیہ مجددیہ کے اکابر مشائخ میں سے تھے۔ سید آدم بنوری سے بیعت کی اور خرقۂ خلافت حاصل کیا۔ بہارکے ضلع بیگو سرائے کی ایک بستیبلیا کے رہنے والے تھے۔[1]
بیگو سرا ئے اور اطراف میں رشد و ہدایت کا کام کیا۔ مغل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیرکے ہم عصر تھے۔ اورنگ زیب عالمگیرنے ان کی خانقاہ کے لیے ایک جاگیر عطا کی جسے قبول کرنے سے انہوں نے اس عذر کے ساتھ انکار کر دیا کہ یہ عوام کے مال سے ہے۔ پھر جب اورنگ زیب نے اپنے ذاتی مال سے خانقاہ کے لیے مہمانوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا تو اسے قبول فرمایا۔[2]

بلیاسے متصل لکھمنیاں نامی بستی بسائی تھی، وہیں مدفون ہیں۔[3]

شیخ سلطان بلیاوی کے مفصل حالات محمد امین بدخشی کی کتاب "نتائج الحرمین" میں کافی تفصیل سے ان کے خلیفہ شیخ عبد الحکیم کے حوالے سے مذکور ہیں۔[4]

حوالہ جاتترميم

  1. شاہ عباد الرحمن نشاط: حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی – نقوش حیات، صدیق اکبر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن، رائے بریلی، 2004ء، صفحہ21۔
  2. شاہ عباد الرحمن نشاط: حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی – نقوش حیات، صدیق اکبر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن، رائے بریلی، 2004ء، صفحہ 16۔
  3. شاہ عباد الرحمن نشاط: حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی – نقوش حیات، صدیق اکبر ایجوکیشنل اینڈ ویلفیئر فاؤنڈیشن، رائے بریلی، 2004ء، صفحہ 21۔
  4. "نتائج الحرمین از محمد امین بدخشی، مخطوطہ کتب خانہ گنج بخش۔". 30 جنوری 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 06 مارچ 2020.