نام حافظ محمد بلال بن اقبال اور قلمی نام ابنِ اقبال اقبال ہے۔پیدائش ضلع خانیوال کے ایک تاریخی قصبے سرائےسدھو کے ایک متوسط گھرانے میں ہوئی اور پھر پرائمری تعلیم حاصل کرنے کے بعد دینی تعلیم کے لیے اپنے علاقے کے ایک مدرسے میں داخل ہوئے ۔ مدرسے کی تعلیم سے فراغت کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول سرائےسدھو میں داخلہ لیا اور میٹرک نمایاں نمبروں سے پاس کی۔ گھر کی مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم کا سفر روکنا پڑا اور بھائیوں میں بڑا ہونے کے سبب گھر کی مالی حالات کو درست کرنے کی زمہ داری سر پہ آپڑی اور نوکری کے لیے گھر سے نکل آیا۔ لیکن دل سے حصولِ تعلیم کا شوق نہ گیا اور اسی پیاس کو بجھانے کے لئے کتابوں کا مطالعہ شروع کردیا۔

مطالعہ کے دوران زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ سر اٹھاتا گیا اور دوبارہ حصول تعلیم کے لیے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں داخلہ لیا ۔ اپنی ہتھیلی پر تیل رکھ کر دنیا دیکھنے نکلا اور آج بھی جدوجہد زندگی میں مصروف عمل ہے۔ بلال کو رائٹر بننے کا شوق ہے اور اس شوق کو پورا کرنے کے لیے آج بھی اپنے حقیر سے لفظوں کو ترتیب دے کر شاعری کے انداز میں بیان کرتا ہے ۔

ابنِ اقبال کا ایک شعر :

نگاہ یار کیا بدلی زمانہ بدل گیا کل تک جو شناسا تھے آج غیر ہو گئے


آ کوچ کریں یہ شہر خرابات ہے بلال ہر اہلِ سخن کو یہاں رسوائی ملی ہے ابنِ اقبال