ضیاء المصطفٰی

حضور محدث کبیر علامہ ضیاء المصطفی امجدی اعظمی

مفتى ضیاء المصطفٰی قادری جماعت اہل سنت کے ممتاز عالم دین ہیں جو اپنی تقریر، تدریس، تفقہ، حدیث دانی اور کثیر تلامذہ کی وجہ سے پوری دنیا میں "محدث کبیر" کے لقب سے جانے جاتے ہیں

ضیاء المصطفٰی
معلومات شخصیت
پیدائش 28 دسمبر 1935 (86 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ولادت و نامترميم

آپ کی ولادت 2 شوال المکرم 1353ھ میں ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے مردم خیز قصبہ گھوسی کے محلہ کریم الدین پور میں ہوئی آپ کا نام عبد الواجد تجویز ہوا مگر بعد میں آپ نے ضیاء_المصطفٰی لکھنا شروع کر دیا اور اسی نام سے سارے امتحانات بھی دییے اور اسی نام سے پوری دنیا میں ابھی مشہور بھی ہیں

نسب نامہترميم

ضیاء المصطفٰی بن صدر الشریعہ حکیم امجد علی اعظمی(مصنف بہار شریعت) بن مولانا حکیم جمال الدین بن مولانا حکیم خیر مولانا خدا بخش بن مولانا خیر الدین

تاریخ پیدائشترميم

آپ۔ کی پیدائش 2/شوال المکرم 1354ھ بروز یک شنبہ مدینۃ العلما گھوسی ضلع اعظم گڑھ (حال مئو) کے مشہور و معروف علمی و ثقافتی خانوادہ میں ہوئی

تعلیمترميم

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صدر الشریعہ مولانا حکیم امجد علی اعظنی سے حاصل کی۔ پھر دوسرے سفر حج کی روانگی سے قبل صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ نے آپ کو ناگپور بھیج دیا وہاں فیض العارفین علامہ غلام آسی پیا علیہ الرحمہ سے عربی کی ابتدائی کتابوں کادرس لیا۔ پھر شوال المکرم 1369ھ میں درس نظامی کی تکمیل کے لیے جامعہ اشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ تشریف لائے - حضور حافظ ملت علامہ عبد العزيز مرادآبادی نے آپ پر خصوصی نگاہ رکھی پوری توجہ کے ساتھ آپ کو تعلیم و تربیت دی۔ 1377ھ میں سند فراغت حاصل کی مگر حضور حافظ ملت نے آپ کی تعلیم کا سلسلہ بند نہیں فرمایا بلکہ مزید دو سال تعلیم جاری رکھی۔

اجازت و خلافتترميم

سرکار مفتی اعظم ہند علامہ مفتی مصطفٰی رضا نوری قدس سرہ نے آپ کو سلسلہ عالیہ قادریہ برکاتیہ رضویہ نوریہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی__اور چشم و چراغ خاندان برکات حضور سید نظمی میاں قدس سرہ نے بھی آپ کو اجازت و خلافت سے نوازا

درس و تدریسترميم

فراغت کے بعد چھبیس سال کی مختصر عمر میں دار العلوم فتحیہ فرفرہ شریف ضلع ہگلی میں بحیثیت شیخ الحدیث تقرری ہوئی اور دس سال تک وہاں خدمت دین میں مصروف رہے __پھر وہاں سے اپنے وطن گھوسی ہی کے مدرسہ شمس العلوم بحیثیت صدر المسدرسین تشریف لائے اور یہاں بھی تقریباً دس رہے _ اس کے بعد جب 1391ھ مطابق 1971ء میں محقق عصر حضرت علامہ حافظ عبد الرؤوف صاحب قبلہ علیہ الرحمہ نائب شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ کا سانحہ ارتحال ہوا اور جامعہ میں ایک غیر معمولی خلا محسوس کیا جانے تو اس خلا کو پر کرنے کے لیے حافظ ملت نے 1972ء میں آپ کو جامعہ اشرفیہ میں بحیثیت نائب شیخ الحدیث مقرر فرمایا اور 1984ء میں آپ کو شیخ الحدیث اور صدر المدرسين کے منصب پر فائز کیا گیا اور پھر جب حضرت شارح بخاری مفتی محمد شریف الحق امجدی علیہ الرحمۃ والرضوان صدر شعبہ افتا جامعہ اشرفیہ کا سن 2000ء میں وصال ہوا تو آپ کو ان کی جگہ پر جامعہ کا صدر شعبہ افتا مقرر کیا گیا اور آپ بیک وقت ان تینوں ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی نبھاتے رہے اور 2003ء میں جامعہ اشرفیہ سے مستعفی ہوکر آپ اپنے قائم کردہ ادارہ جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی میں بحیثیت شیخ الحدیث تشریف لائے اور تادم تحریر آپ اسی منصب پر فائز رہ کر تشنگان علوم و معرفت کو سیراب کر رہے ہیں(5)

تقریر و خطابتترميم

ایک نابغہءِ روزگار مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک عظیم مصلح اور خطیب بھی ہیں اس وقت آپ کی خطابت کا ڈنکا صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ بیرون ہند، برطانیہ، امیریکا، افریقہ، موریشش، ہالینڈ، نیوزیلینڈ، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا، پاکستان، دبئی وغیرہ ممالک میں بھی بج رہا ہے، آپ کی تقریر خالص علمی، تحقیقی اور فکری ہوتی ہے، بے شمار جوہر پارے اس میں ہوتے ہیں_

بحث ومناظرہترميم

اپ نے فرق باطلہ سے کئی ایک کامیاب مناظرے کیے اور اور اہل سنت والجماعت کی حقانیت کو ثابت کیا_ 1978ء میں آپ نے سرزمین بجرڈیہہ، بنارس میں ایک زبردست غیر مقلدعالم دین صفی الرحمٰن سے بہت ہی کامیاب مناظرہ کیا جس کی پوری روداد "صارم الحق القاتل علی قلب جازم الباطل" ("مناظرہ بجرڈیہہ" ) کے نام سے شائع ہوکر مقبول خاص وعام ہوچکی_ پھر 1399ھ میں حفظ الایمان کی مشہور کفری عبارت پر خلیل احمد بجنوری سے بدایوں میں مناظرہ ہوا_ جس مخالفین کی ایسی شکست فاش ہوئی کہ ان۔ کے ہزاروں اپنے بیگانے ہوگئے_ ایک مناظرہ کلیا چک مالدہ میں بھی آپ نے دیوبندیوں سے "حاضر و ناظر" کے موضوع پر مناظرہ کیا وہاں بھی مخالفین کو لاجواب کرکے رکھ دیا_ پھر ڈربن ساؤتھ افریقہ میں بھی مناظرہ ہونے والا تھا مگر جب حزب مخالف کے مناظر طاہر القادری کو معلوم ہوا کہ سامنے علامہ۔ ضیاء المصطفٰی قادری مناظر ہیں تو اسے راہ فرار اختیار کرنی پڑی_اس طرح اور بھی مقامات میں آپ نے متعدد بار مناظرے کیے_اور متعدد بار صدر مناظرہ کی حیثیت سے بھی شریک ہوکر احقاق حق اور ابطال باطل فرمایا__

خدماتترميم

چھ دہائیوں سے زائد عرصہ سے علم دین کے فروغ میں درس و تدریس سے جڑے ہوئے ہیں_ اس کے علاوہ طیبۃالعلماء جامعہ امجدیہ رضویہ گھوسی قائم کیا اور 1985ء میں حضور تاج الشریعہ علامہ اختر رضا خان ازہری المعروف بہ ازہری میاں دامت برکاتہم القدسیہ کی زبان فیض ترجمان سے اس کا افتتاح کیا_اور الحمد للہ ایک مختصر سی مدت میں یہ ادارہ شاہراہ ترقی پر گامزن ہو گیا اور چند ہی برسوں میں مکمل درجہ فضیلت تک باقاعدہ تعلیمی سلسلہ جاری ہو گیااور پھر کچھ سالوں بعد شعبہ تخصص فی الفقہ بھی شروع ہو گیا اور اس وقت تقریباً 700 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور لڑکیوں کی اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے ایک مدرسہ بنام "کلیۃ البنات الامجدیہ گھوسی" کو 1982ء ہی میں قائم فرمایا جسے پورے ہندوستان میں تعلیم نسواں کا اولین دینی ادارہ مانا جاتا ہے جہاں کچھ عرصہ تک متوسط درجات کی ہی تعلیم ہوتی رہی پھر طالبات کے لیے مکمل ایک نصاب جاری کر دیا گیا اور 1995ء سے جماعت سادسہ کی تکمیل کے بعد سند فراغت سے بھی نوازا جانے لگا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور اس ادارہ میں تقریباً 1200 مقامی و بیرونی طالبات زیر تعلیم ہیں_ اس کے علاوہ ہوڑہ کلکتہ میں مدرسہ ضیاء الاسلام کا قیام، جامعہ اشرفیہ میں بحیثیت مدرس پھر بحیثیت صدر المدرسين پھر ایک ہی وقت میں صدر المدرسین، شیخ الحدیث اور صدر شعبہ افتا بھی رہ چکے اس کے علاوہ بہت ساری تنظیموں، تحریکوں اور مدارس کے سرپرست بھی ہیں اور درجنوں ممالک میں جاکر اسلام و سنیت کو عام کیا ہے اور آپ کے ہاتھ پر سیکڑوں بدمذہبوں نے توبہ کی_(6)

خطابات و القاباتترميم

ہند و پاک کے علما و عام میں آپ "محدث کبیر" اور " علامہ صاحب" کے نام سے معروف و مشہور ہیں اس کے علاوہ بھی آپ کو مندجہ ذیل القابات سے یاد کیا جاتا ہے_ ممتاز الفقہا والمحدثین، سلطان الاساتذہ، رئیس المناظرین، امام المدرسین، استاذ الاساتذہ، امیرالمومنین فی الحدیث، نائب قاضی القضاۃ فی الہند، مناظر اہل سنت، یادگار حافظ ملت، جانشین صدر الشریعہ وغیرہ

اولادترميم

آپ کے چار بیٹے مولانا علا المصطفٰی قادری، مولانا عطاء المصطفٰی قادری(مقیم پاکستان) مولانا جمال مصطفٰی قادری، مولانا ابو یوسف محمد قادری ازہری ہیں اور تین صاحبزادیاں ہیں اور الحمد للہ تمام بیٹے اور صاحبزادیاں زیور علم سے آراستہ ہیں اور سب خدمت دین متین میں مشغول ہیں

حوالہ جاتترميم

  • (1)حیات محدث کبیر
  • (2)سہ ماہی امجدیہ
  • (3)حیات محدث کبیر
  • (4)خطبات محدث کبیر اول ص242 سے 253
  • (5)حیات صدر الشریعہ
  • (6)حیات محدث کبیر