عبدالباری فرنگی محلی

مولانا عبد الباری فرنگی محلی کی ولادت لکھنؤ کے فرنگی محل میں 1878ء میں ہوئی تھی۔ وہ اپنے زمانے کے جید علما اور مدرسین میں سے ایک تھے۔

عبدالباری فرنگی محلی
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1878  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1926 (47–48 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

خاندانترميم

مولانا کا خاندان لکھنؤ ہی میں 1692ء سے بس گیا تھا۔ یہ گھرانہ علم و عرفان کا گہوارہ تھا۔ کچھ ارکان خاندان اترپردیش، حیدرآباد، دکن اور دیگر مقامات پر پھیل گئے تھے اور اسی وجہ سے خاندان کے مریدوں کا حلقہ کافی وسیع ہو گیا تھا۔ مہاتما گاندھی بھی آپ کا احترام کرتے تھے اور دونوں کے بیچ کئی خطوط کا تبادلہ عمل میں آیا تھا۔[1]

کا رہائے نمایاںترميم

مولوی عبد الباری نے 1920ء میں پہلی بارمہاتما گاندھی کو ہندوؤں اور مسلمانوں کا مشترکہ قائد قرار دیاتھا۔ مولوی صاحب ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد اور تحریک آزادی سے مسلمانوں کو جوڑنے کے قائل تھے۔ گاندھی جی کے علاوہ تحریک آزادی کے دیگر قائدین جیسے کہ سروجنی نائیڈو اور پنڈت پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی فرنگی محل کا دورہ کیا تھا اور یہاں کے علما سے مشورہ کیا تھا۔ فرنگی محل کے علما خلافت تحریک کے کٹر حامی تھے۔ انہوں نے انگریز حکومت کے خلاف جہاد کا فتوٰی جاری کیا تھا جس کی وجہ سے کئی علما کو پھانسی کی سزا دی گئی تھی۔[2]

شاگردترميم

مولانا کے شاگردوں نے کئی نمایاں کام انجام دیے تھے۔ ان ہی میں سے ایک مولانا محمد علی جوہر تھے۔[3]

حوالہ جاتترميم