سر عبد اللہ ہارون ایک برطانوی ہندوستانی سیاست دان تھے جنہوں نے اقتصادی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی شعبوں میں مسلمانوں کے کردار کی اہمیت کو برصغیر میں اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔[1]

عبد اللہ ہارون
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جنوری 1872  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 اپریل 1942 (70 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ
Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ (–12 اپریل 1927)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبداللہ ہارون 1872ء میں کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ بچپن ہی سے کاروبار کا شغل اختیار کیا اور رفتہ رفتہ کراچی کے ایک مشہور تاجر بن گئے۔ انہوں نے تحریک پاکستان میں بھی بھرپور حصہ لیا اور قائداعظم کے ساتھ ملکر دن رات کام کیا۔ انہوں نے رفاہ عامہ کے لیے بھی متعدد کام کیے اور کئی مدرسے، کالج، مساجد اور یتیم خانے بنوائے۔ کراچی میں عبداللہ ہارون کالج اور عبداللہ ہارون روڈ انہی کی یادگار ہے۔ اپریل 1942ء جدوجہد آزادی کے معروف رہنما اور قائداعظم کے قریبی ساتھی حاجی سیٹھ عبداللہ ہارون کی تاریخ وفات ہے۔ وہ کراچی میں آسودۂ خاک ہیں،

ان کی وفات پر قائد اعظم نے کہا” ہندوستانی مسلمان اور خاص طور پر سندھ کے لوگ ایک ایسے لیڈر سے محروم ہوگئے، جو ان کے لیے سچائی اور نیک نیتی سے کوشاں تھا”۔مسٹر جناح نے مزید کہا کہ” میں نے ایک دوست، ایک ساتھی کھودیا، ان کی وفات سے بہت بڑا نقصان ہوا ہے”۔نوابزادہ لیاقت علی خان نے ان کی وفات پر کہا کہ “وہ مسلم لیگ کا ستون تھے، مخلص لیڈرز میں سے ایک تھے، وہ ایک محب وطن پاکستانی تھے، ان کی وفات سے ہندوستانی مسلمانوں اور خصوصی طور پر سندھ کے عوام کوبڑا نقصان پہنچا ہے"

سر حاجی عبد اللہ ہارون مرحوم کا تعلق میمن برادری سے تھا آپ کے آباء و اجداد ہندوستان کی ریاست’ کچھ‘ میں مستقل قیام پذیر تھے جن کا ذریعہ معاش تجارت تھا۔ آپ کے والد کا نام ’ہارون‘ تھا۔ چوبیس برس کی عمر میں ریاست ’کچھ‘ سے مستقل نقل مکانی کر کے سندھ میں آباد ہوئے اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا اور یہاں بھی تجارت شروع کی لیکن خاطر خواہ کامیابی نہ ہو سکی۔ معمولی سے کاروبار سے گزر بسر مشکل سے ہو پاتا لیکن عبد اللہ ہارون مرحوم کی والدہ حنیفہ بائی انتہائی سمجھداراور سلجھی ہوئی طبیعت کی مالک تھیں ان مشکل حالات میں با عزت زندگی گزارتی رہیں۔ عبد اللہ ہارون کو اعلیٰ مقام ان کی والدہ حنیفہ بائی کے ذریعہ حاصل ہوا۔ عبد اللہ ہارون 1872ء میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے بڑے بھائی کا نام عثمان تھا، یہ ابھی صرف چار برس کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور عبد اللہ ہارون کی پرورش، تعلیم و تر بیت کی تمام تر ذمہ داری کا بوجھ آپ کی والدہ محترمہ حنیفہ بائی پر پڑ گیا، والدہ نے آپ کو کراچی کے ایک گجراتی اسکول میں داخل کرایا، آپ نے تقریباً دو یا تین جماعتوں تک تعلیم حاصل کی، شاید مالی حالات کے باعث آپ کی طبعّیت اس جانب مائل نہ ہوئی، آپ کی والدہ نے اس رجحان کو محسوس کیا تو آپ نے فیصلہ کیا کہ انہیں تجارت کی طرف مائل کیا جائے۔ سر حاجی عبد اللہ ہارون نے عملی زندگی کا آغاز بچوں کے کھلونے اور معمولی سازوسامان فروخت کرنے سے کیا۔ اس وقت آپ کی عمر 6برس تھی لیکن بہت جلد اس کام کو چھوڑ کر ایک دکان پر ملازمت اختیار کر لی۔ یہ دکان سائیکلوں کی مرمت کی تھی۔ اس ملازمت کے بارے میں پیر علی راشدی نے حاجی عبد اللہ ہارون کا بیان کردہ واقعہ تحریرکیا کہ ’’ہم نے مسلم لیگ کی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا تو ہم تقریباً روزانہ شام کو کلفٹن کے ساحل پر ایک آنا کرایہ پر کرسیاں لے کر بیٹھ جاتے اور مستقبل کے بارے میں بات چیت ہوتی۔ ایک دن حاجی عبد اللہ ہارون نے اپنی زندگی سے متعلق تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ میں کچھ بھی نہیں تھا یتیم بچہ تھا پردیس یعنی ’’کچھ‘‘ ہندوستان سے سندھ میں منتقل ہوئے ابھی چار برس ہوئے ہوں گے کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ سارا بوجھ میری ماں پر پڑ گیا جو خود غریب تھی میں نے شروع میں دو تین درجے تعلیم حاصل کی اور مالی مشکلات کے باعث نوکری کرنا پڑی، صدر کراچی میں رہائش تھی اور نوکری جونا مارکیٹ کراچی میں سائیکلوں کی مرمت والی دکان پر ملی، میری ماں روزانہ روکھی سوکھی روٹی پکا کر کپڑے میں باندھ کر دیتی اور میں صدر یعنی اپنی رہائش گاہ سے جو نا مارکیٹ پیدل جا یا کرتا تھا۔ اس وقت میری حالت کچھ اس قسم کی ہوتی کہ پیر میں ٹوٹی ہوئی چپل اور کبھی وہ بھی ندارد ہوتی اور میں ننگے پاؤں دکان جا یا کرتا تھا۔ دکاندار چار آنے یومیہ مزدوری دیتا‘۔ آپ طبیعتاً نیک، دیانتدار اور صوم و صلواۃ کے پا بند تھے چنانچہ اپنی محنت اور ماں کی تر بیت، دعاؤں اور ایک فرض شناس اور عقلمند رفیقہ حیات کی رفاقت سے تجارت میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے لگے۔ حاجی عبد اللہ ہارون کے ماموں اور بہنوئی سیٹھ صالح محمد ہندوستان کے بڑے تاجروں میں سے تھے اور ان کا کاروبار بڑے پیمانے پر چل رہا تھا چنانچہ حاجی عبد اللہ ہارون نے ابتدا میں ان سے مل کر تجارت شروع کی رفتہ رفتہ آپ اس میدان میں پاؤں جما تے گئے۔ تجارت کی غرض سے آپ نے ہندوستان کے مختلف شہروں کا دورہ کیا اور پھر کراچی کے جوڑیا بازار میں ایک دوکان کھولی اور یہاں سے اپنے طور پر تجارت کا آغاز کیا۔ دکان خوب چل پڑی ساتھ ہی آپ نے ایک گجراتی ہندو پرشوتم داس سے مل کر شکر کا کاروبار شروع کیا لیکن یہ ہندو پاٹنر جلد مرگیا چنانچہ آپ نے تنہا شکر کا کاروبار شروع کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ چمکتا گیا۔ حاجی عبد اللہ ہارون کی سماجی اور فلاحی کاموں کی ابتدا جوڑیا بازار کی دکان کے زمانے میں ہوئی، آپ کی فلاحی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ کاروبار میں بھی اضافہ ہوا یہاں تک کہ لوگ آپ کو ’’ شکر کا راجہ‘‘ کہنے لگے اور کراچی کا تاجر طبقہ آپ کو سیٹھ حاجی عبد اللہ ہارون کہنے لگا۔ تجارت بڑھتی گئی، دولت میں اضافہ ہوتا گیاساتھ ہی حاجی عبد اللہ ہارون کی سخاوت اور فراخ دلی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ حکومت وقت تجارت کے سلسلے میں آپ سے صلاح و مشورے کرنے لگی اور آپ کو ایک بڑے تاجر کی حیثیت سے جانا جانے لگا۔ حکومت نے آپ کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے آپ کو’ ریزرو بنک ‘ کے ڈائریکٹر کے عہدے کی پیش کش کی جو آپ نے قبول نہیں کی لیکن آپ اس بنک کے شیئرز کی الاٹمنٹ کرنے والی کمیٹی کے رکن رہے۔ 1909ء میں آپ نے اپنے تجارتی مرکز کو جوڑیابازار سے منتقل کر کے ڈوسلانی منزل میں منتقل کر دیا۔ ابتدا میں وکٹوریہ روڑ پر ایک بنگلہ خریدا بعد ازاں جائیداد میں بے پناہ اضافہ ہوتا گیا اور سیاسی و سماجی سرگرمیوں کے شروع ہو جانے کے بعد اپنی رہائش ’سیفیلڈ‘ واقع کلفٹن میں شروع کی جو بعد میں ہندوستان کے مسلمان رہنماؤں کا گڑھ بن گئی۔ حاجی عبد اللہ ہارون کی ازدواجی زندگی کی ابتدا 1887ء میں ہوئی اس وقت آپ کی عمر 15 برس تھی۔ آپ کی والدہ نے آپ کی شادی رحیمہ بائی سے طے کی۔ شادی کے بعد آپ حج پر تشریف لے گئے۔ 1895ء میں آپ نے دوسری شادی کی اور 12 نو مبر 1913ء میں آپ نے تیسری شادی ایرانی نژاد ڈاکٹر حاجی خان کی صاحبزادی لیڈی نصرت سے کی۔ آپ کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہوئیں۔ صاحبزادوں میں یوسف ہارون، محمود ہارون اور سعید ہارون ہیں۔ یوسف ہارون جو آپ کے سب سے بڑے صاحبزادے ہیں نے پاکستان کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ مغربی پاکستان کے گورنر رہے۔ محمود ہارون نے بھی ملکی سیاست میں بھر پور کردار ادا کیا، مسلم لیگ کے زبردست حامیوں میں سے تھے، مختلف وزارتوں پر فائز رہے۔ حاجی عبد اللہ ہارون کے چھوٹے بیٹے ’سعید ہارون ‘ بھی ملکی سیاست میں حصہ لیتے رہے۔ ہمیشہ مسلم لیگ سے وابستہ رہے، کراچی کی قدیم اور پسماندہ بستی لیاری ان کی سیاست اور سماجی سر گرمیوں کا مرکز تھی۔ الیکشن میں بھی حصہ لیتے رہے، ذوالفقار علی بھٹو کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد ان کے لیے الیکشن میں کامیابی مشکل ہو گئی تھی۔ سرحاجی عبد اللہ ہارون کی سیا سی و سماجی خدمات تاریخ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کا آغاز معمولی حیثیت سے کیا لیکن اپنی ذہانت، تدبر، محنت، کوشش اور اپنی ماں کی تر بیت کی بدولت ہندوستان کی صفِ اول کی شخصیات میں ان کا شمار ہونے لگا۔ آپ سلجھی ہوئی طبیعت کے آدمی تھے بقول انعام درانی ’گتھیاں ان کے ناخنِ تدبیر کی آہٹ سے سلجھ جاتی تھیں ‘ میونسپل کارپوریشن سے لے کر مرکزی مجلس قانون ساز تک کوئی ادارہ، کوئی منصوبہ، کوئی مشن ایسا نہ تھا جو مسلمانوں کی بہتری کے لیے ہو اور عبد اللہ ہارون اس میں شریک نہ ہوں۔ خلافت تحریک، ریشمی رومال، بمبئی سے سندھ کی علیحدگی کی تحریک، سیاسی کانفرنسیں، تعلیمی کانفرنسیں، آل انڈیا مسلم لیگ کانفرنس، انڈین نیشنل کانگریس، مسلم لیگ خصوصاً سندھ مسلم لیگ غرض 1901ء سے 1942ء یعنی انتقال تک مسلمانوں کی تمام تحریکوں میں عبد اللہ ہارون نے کلیدی کردار ادا کیا۔ قیام پاکستان کے سلسلے میں سندھ مسلم لیگ کی سر پرستی حاصل ہوئی تو آپ نے نہ صرف ایک بڑی جماعت اس کے حامیوں کی تیار کی بلکہ پورے صوبے میں پاکستان کی تحریک کی روح بھونک ڈالی۔ سندھ کے بچے بچے میں پاکستان کی تحریک کی امنگ اور لگن پیدا ہو گئی۔ اس قسم کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ دیگر رہنما جنہیں قومی ہیرو ہونے کا تو شرف حاصل ہے، انہوں نے تحریک آزادی میں بھی نمایاں کردار ادا کیا اور ایک بڑی جماعت کو اپنا ہم نوا بنا لیا آپ نے مسلمانوں کی آواز کو دنیا میں پہچانے اور عام کرنے کے لیے 1920ء میں ایک اخبار ’’الوحید‘‘ جاری کیا جس نے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی، انگریز اور ہندو بوکھلا اٹھے، آخر کار مقصد میں کامیابی ہو ئی لیکن افسوس کہ قیام پاکستان تک عبد اللہ ہارون کی عمر نے ان کا ساتھ نہ دیا۔ 1919ء میں خلافت تحریک شروع ہوئی تو حاجی عبداللہ ہارون نے اس تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ابتدا میں آپ صوبائی خلافت کمیٹی کے صدر منتخب ہوئے بعد از آں آپ کوسینٹرل خلافت کمیٹی کا صدر منتخب کیا گیا۔ مولانا سید محمد میاں جو تحریک ریشمی رو مال کے اہم کارکن تھے نے اپنی کتاب ’تحریک شیخ الہند و ریشمی خطوط سازش کیس‘ کے صفحہ 48 پر لکھا کہ تحریک ریشمی رو مال میں حاجی عبد اللہ ہارون جو بہت بڑے تاجر تھے ہر دور اور ہر عہد میں قومی کاموں کے لیے مقتدر رقمیں نکالتے رہے موجودہ صدی کے اوائل میں سندھ کے اندر تبلیغ اسلام کے لیے جوکام جاری ہوا تھا اس میں بے شمار روپیہ خرچ کیا گیا، خلافت لیگ اور مسلم کانفرس کی تنظیم میں چپ چاپ گرانقدر امداد دیتے رہے قابل غور امر یہ ہے کہ امداد کے سوا انہیں کوئی غرض نہ تھی‘‘۔ آپ جن اداروں کی مالی امداد کیا کرتے ان کا حساب کبھی نہیں رکھا، کراچی کے دو اداروں کا پورا خرچ ان کے ذمہ تھا۔ تحریک ریشمی رو مال کے سلسلے میں ایک مرحلہ ایسا آیا جب حضرت شیخ الہند نے مولانا عبیدا للہ سندھی کو تحریک کے سلسلے میں کابل جانے کا حکم دیا تا کہ وہ افغانستان کے سر براہ امیر حبیب اللہ خان کو اس نازک وقت میں اسلام کے لیے جانبازانہ اقدامات کرنے کے لیے تیار کریں۔ مولانا عبیداللہ سندھی کابل جانے کے لیے تیار ہو گئے تو اس سلسلے میں پہلا اہم مسئلہ اخراجات کا تھا، مولانا ابو الکلام آزاد نے اس مقصد کے لیے حاجی عبد اللہ ہارون سے ملاقات کی، انہوں نے بلا تامُل پانچ ہزار روپے پیش کر دیئے۔ حاجی عبد اللہ ہارون مرحوم 6 سال تک مرکزی مجلس قانون ساز کے رکن کی حیثیت سے سندھ کی نمائندگی کرتے رہے آپ پہلی مرتبہ 1936ء میں مرکزی مجلس قانون سازکے رکن منتخب ہوئے اور 1942ء یعنی اپنے انتقال تک اس ادارے میں سندھ کی نمائندگی کرتے رہے۔ آپ نے قانون منظور کرایا جس کی رو سے مسلمان خواتین کو اسلامی قانون وراثت کے مطابق عورتوں کو آبائی جائیداد سے ان کا جائز حق ملنے لگا۔ آپ نے 1928ء میں مجلس قانون ساز میں ایک قرار داد پیش کی جس کی منظوری کے بعد حکومت نے حج تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور حاجی عبد اللہ ہارون کو اس کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کمیٹی کی سفارشات پر عمل در آمد شروع ہوا اور عازمین حج کی بیشتر تکالیف دور ہو گئیں۔ کراچی میں پرانے حاجی کیمپ کی تعمیر حاجی عبد اللہ ہارون کی زیر نگرانی اور آپ کی جد و جہد کے نتیجے میں عمل میں آئی، حکومت نے آپ کو 1934ء میں حج کمیٹی کا چیئر مین نامزد کیا اور آپ تین سال تک اس کمیٹی کے چیئر مین رہے۔ 1923ء میں آپ بمبئی مجلس قانون ساز کے رکن منتخب ہوئے اس سال آپ نے بمبئی سے سندھ کی علیحدگی کی تحریک کے مطالبے کو تسلیم کیا اور اس کی حمایت میں جد و جہد شروع کی۔ 1930ء میں حاجی عبد اللہ ہارون کو آل انڈیا مسلم کانفرس کا سیکریٹری نامزد کیا گیا یہ اجلاس مولانا محمد علی جوہر کی صدارت میں منعقد ہوا یہی وہ اہم اجلاس تھا جس میں مسلم کانفرنس نے گاندھی کے ساتھ تعاون کرنے سے ان کار کیا اور اعلان کیا کہ کانفرنس برطانوی سامراج کے خلاف ہی نہیں بلکہ وہ ہندو تسلط کے خلاف بھی تحریک چلائے گی۔ مسٹرگاندھی کی تحریک انڈیا کی مکمل آزادی کے لیے نہ تھی بلکہ وہ سات کروڑ مسلمانوں کو ہندوؤں کا غلام بنا نا چاہتے تھے۔ 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا جس کا نصب العین مسلمانوں کی بہبود تھا حاجی عبد اللہ ہارون نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی آپ 1920ء میں سندھ مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے اور 1942ء یعنی اپنی زندگی کے آخری ایام تک مسلم لیگ صوبہ سندھ کے صدر کی حیثیت سے جد و جہد آزادی کی جنگ لڑتے رہے۔ ہندوستان کی تقسیم کی پہلی قرار داد سندھ کی مجلس قانون ساز نے منظور کی۔ عبد اللہ ہارون نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ سندھ کے مسلمانوں میں پاکستان کے قیام کی تحریک کو اس قدر مقبول کر دیا کہ سندھ کا بچہ بچہ پاکستان کے قیام کا حامی بن گیا۔ قائد اعظم کو عبد اللہ ہارون پر مکمل اعتماد تھا اور آپ قائد اعظم کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔ مسلم لیگ کے مسلمانوں کی بہتری کے تمام پروگرام حاجی صاحب کے گھر پر تیار ہو تے 1938ء میں سندھ پرا ونس مسلم لیگ کانفرنس کا اجلاس منعقد ہوا، ، قائد اعظم محمد علی جناح نے اس اجلاس کی صدارت کی، عبد اللہ ہارون نے سندھ کے مسلمانوں کے نام ایک اپیل جاری کی جس میں سندھ میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کی ضرورت اور اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔ کانفرنس نہ صرف سندھ بلکہ بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے اہم کا نفرنس ثابت ہوئی۔ حاجی عبد اللہ ہارون نے مختلف اسلامی ممالک کے اخبارات کے نام خطوط بھی ارسال کیے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ مسلمانوں کے نقطہ نظر کی وضاحت واضح اور صحیح طور پر کریں۔ حاجی عبد اللہ ہارون1913ء سے 1917ء تک بعد از آں 1921ء سے 1937ء اکیس سال تک کراچی میونسپل کارپوریشن کے رکن کی حیثیت سے کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی جد و جہد کرتے رہے۔ آپ کا تعلق کراچی کی قدیم اور پسماندہ بستی ’لیاری‘ سے تھا چنانچہ آپ نے کراچی کی اس قدیم بستی کو جدید اور عام سہولتوں سے آراستہ کرنے اور عوام کو تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا جس کے مطابق لیاری کو بارہ(12) گاؤں یعنی لیاری کو چھوٹی موٹی بستیوں میں تقسیم کر کے ہر بستی کو یکے بعد دیگرے تمام سہولتوں سے آراستہ کیا جانا تھا۔ اس منصوبے کو پائے تکمیل تک پہچانے کے لیے حاجی صاحب نے بارہ میں سے ایک بستی کو نمونتاً تعمیر کرنے کے لیے اپنی جانب سے پونے دو لاکھ روپے کی رقم کا اعلان کیا لیکن نا معلوم کن وجوہات کے سبب حا جی صاحب کے اس منصوبے پر عمل در آمد نہ ہو سکا اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کراچی شہر کی یہ بستی آج تک ان تمام سہولتوں سے محروم رہی۔ حاجی عبد اللہ ہارون نے 1923ء میں کراچی کی قدیم آبادی لیاری میں کھڈا مارکیٹ کے مقام پر جس کا موجودہ نام میمن سو سائٹی (نو آباد) ہے جامعہ اسلامیہ و یتیم خانہ قائم کیا۔ اس جامعہ اور یتیم خانے کے تمام اخراجات حاجی عبد اللہ ہارون اپنی زندگی میں خود پورا کیا کرتے تھے۔ اب اس ادارے کے انتظامی امور حاجی عبد اللہ ہارون ایسو سی ایشن کے سپرد ہیں۔ یہ ایسو سی ایشن حاجی صاحب کے انتقال کے بعد قائم کی گئی۔ ایسو سی ایشن نے حاجی عبد اللہ ہارون کے مشن کو جاری رکھنے کے لیے کئی فلاحی پروجیکٹ شروع کیے جس میں پرائمری و سیکنڈری اسکول یعنی حاجی عبد اللہ ہارون اسکول، حاجی عبد اللہ ہارون ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ اور حاجی عبد اللہ ہارون کالج اور اسپتال کا قیام جامعہ اسلامیہ یتیم خانہ کے احاطہ میں عمل میں آیا۔ کراچی کی پسماندہ بستی میں تعلیمی اور فلاحی اداروں کا قیام مالی منفعت سے قطع نظر غریب و نادار افراد کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنا تھا یہی حاجی عبد اللہ ہارون کا مشن بھی تھا جسے اس ایسو سی ایشن نے عملی جامہ پہنایا۔ حاجی عبداللہ ہارون اپنے قائم کردہ جامعہ اسلامیہ اور یتیم خانہ میں ابدی نیند سو رہے ہیں۔ حاجی عبد اللہ ہارون نے بر صغیر کے مسلمانوں خصوصاً سندھ کے مسلمانوں میں علم کی روشنی اجاگر کرنے، آزادی کی تحریک، سیاسی بیداری پیدا کرنے اور مسلمانوں کی آواز بر صغیر کے بر سر اقتدار حکمرانوں تک پہچانے کے لیے 1920ء میں تر کی کے خلیفہ سلطان وحیدالدین کے نام پر اخبار ’’الوحید ‘‘ جاری کیا۔ سندھ کی ممتاز شخصیت اور حاجی عبد اللہ ہارون کے قریبی ساتھی |ڈاکٹر عبد المجید سندھی]] اخبار کی ادارت میں شامل تھے وہ اس اخبار کے اولین ایڈیٹر بھی تھے۔ الوحید کی اشاعت بر صغیر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوئی، اس وقت کے نامور مسلمان ادیبوں، عالموں، سیاسی شخصیات اور دانشوروں نے مضامین لکھنا شروع کیے جن کا مثبت اثر ہوا۔ اس وقت یہ اخبار مسلمانوں کا واحد ترجمان تھا، اس اخبار کو جاری ہوئے مشکل سے سات ماہ کا عرصہ ہی ہوا تھا ہندو اور انگریز اس کی مقبولیت سے بوکھلا اٹھے اور بمبئی کی حکومت نے اخبار کی مقبولیت، شہرت اور اس کے اس مشن سے جو وہ بر صغیر کے مسلمانوں خصوصاً سندھ کے مسلمانوں میں جد و جہد آزادی کے سلسلے میں جوش و جذبہ پیدا کر رہا تھا ایک مضمون کی اشاعت کا سہارا لیتے ہوئے اخبار سے 25 ہزار روپے زر ضمانت کے طور پر طلب کیے اور اخبار کے مدیر قاضی عبد الرحمٰن کو گرفتار کر کے ایک سال کے لیے جیل بھیج دیا۔ مولانا دین محمد وفائی جو الوحید کے نائب مدیر تھے اور اخبار میں مسلسل مضامین بھی لکھ رہے تھے کو اخبار کا مدیر مقرر کیا گیا جو بیس سال تک مدیر کے فرائض انجام دیتے رہے۔ مو لانا وفائی کی سر پرستی میں الوحید نے روزنامہ کے علاوہ ایک تحریک کی حیثیت اختیار کر لی اور یہ اخبار سندھ کے مسلمانوں کی آواز اور تر جمان بن گیا۔ الوحید نے سندھ میں آزاد اور بے باک صحافت کی نہ صرف ابتدا کی بلکہ صحافت میں ایک مثالی کردار ادا کیا۔ اس خبار نے بمبئی سے سندھ کی علیحدگی کی تحریک کو عوام میں عام کرنے اور حکومت وقت پر عوامی نقطہ نظر کو واضح کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ سندھ کی بمبئی سے علیحدگی الوحید کے مشن کا ایک حصہ تھی۔ 1930ء میں سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کے بعد الوحید کا ایک خاص نمبر ’’سندھ آزادی نمبر ‘‘ شائع کیا جس کی ایک تحقیقی اور تاریخی حیثیت ہے۔ یہ خاص نمبر سندھ کی بمبئی سے علیحدگی کی مکمل داستان ہے الوحید نے خلافت تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ الوحید کے ایڈیٹر قاضی عبد الرحمٰن کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب مولا نا محمد علی جوہر اور ان کے ساتھیوں پر کراچی کے خا لق دینا ہال میں بغاوت کا مقدمہ چلا یا جا رہا تھا۔ الوحید نے سندھ میں چلنے والی ’تحریک نصرت اسلام ‘‘ کو نہ صرف روشناس کرایا بلکہ مسلمانوں پر واضح کیا کہ وہ ہندوؤں کے ناپاک عزائم کا مقابلہ کس طرح کریں۔ المختصر حاجی عبد اللہ ہارون کے روشن کر دہ چراغ نے بر صغیر خصوصاًسندھ کے مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنے اور انہیں منظم کرنے میں جو کردار ادا کیا وہ تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

حوالہ جات

حوالہ جاتترميم

  1. http://www.in.com/abdullah-haroon/biography-4231.html, Abdullah Haroon's profile on in.com website, Retrieved 30 Sep 2016