مرکزی مینیو کھولیں
عدی بن حاتم
معلومات شخصیت
مقام وفات کوفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
والد حاتم طائی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ جمل،  جنگ صفین،  جنگ یرموک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

عدی بن حاتم مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے تھے۔ آپ اپنے قبیلہ طی کے سردار تھے۔ ابتدا میں بت پرست تھے لیکن بعد میں مسیح مذہب قبول کر لیا اور آخر میں اسلام قبول کر لیا تھا۔ آپ اور حضرت علی کے تعلق بہت اچھے تھے اس لیے جنگ جمل ، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں حضرت علی کے دست راست رہے۔

فہرست

نام و نسبترميم

آپ کا اسم گرامی عدی کنیت ابو ظریف اور بعض کے نزدیک ابو وہب تھی۔ آپ عرب کے مشہور سخی حاتم طائی کے بیٹے تھے۔ سلسلہ نسب اس طرح ہے

  • عدی بن حاتم بن عبد اللہ بن سعد بن حشرج بن امرء القیس بن عدی بن ابی اخزام بن ربیعہ بن جرول بن ثعل بن عمرو بن غوث بن طے طائی [1]

ابتدائی حالاتترميم

حضرت عدی کا خاندان مدت سے قبیلہ طے پر حکمرانی کرتا چلا آ رہا تھا اور ظہور اسلام کے وقت وہ خود قبیلہ کے سردار تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مسلسل فتوحات حاصل ہوئیں اور اس کے ساتھ آپ کا اثر و اقتدار اور اسلام کا دائرہ وسیع ہونے لگا۔ عدی کو فکر لاحق ہوئی کیونکہ ایک طرف حکمرانی کا غرور اس کو اسلام کے سامنے سر جھکانے سے روک رہا تھا دوسری طرف اس سیلاب کو روکنا بھی اس کے بس میں نہ تھا اس لیے وہ انتظار میں تھا کہ جب اسلامی لشکر حملہ کرے گا میں وطن چھوڑ کر بھاگ جاؤں گا۔ [2] عدی ابتدا میں بت پرست تھے اور قبیلہ طے کے بت فلس کو خدا مانتے تھے لیکن جب اس بت کی بے بسی کا یقین ہوا تو اس نے بت پرستی کو چھوڑ کر عیسائیت کو قبول کر لیا تھا۔ [3]

یمن سے فرارترميم

عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم کا سردار تھا۔ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کی خبر سنی تو مجھے آپ سے شدید نفرت ہو گئی۔ پورے عرب میں مجھ سے بڑھ کر آپ سے نفرت کرنے والا کوئی نہ تھا۔ میں عیسائی مذہب کا پیرو کار تھا۔ خود کو بڑا دین دار خیال کرتا تھا۔ اپنی قوم سے لوٹ کے مال کا چوتھا حصہ وصول کرتا تھا۔ سردار ہونے کے ناتے میں ہی اپنا حق سمجھتا تھا۔ جیسے جیسے رسول اللہ کی کامیابیوں کی خبر میں مجھے ملتیں، میری نفرت و دشمنی میں اضافہ ہو جاتا۔ میں نے اپنے ایک عربی غلام سے کہا تیرا بھلا ہو، میرے لیے چند موٹی تازی سدھائی ہوئی اونٹنیاں تیار رکھنا ۔ وہ میرے اونٹوں کا چرواہا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ یہ تیار شدہ اونٹنیاں میرے قریب رکھنا۔ جیسے ہی تمھیں خبر ملے کہ جیش محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمارے علاقے کا رخ کیا ہے تو تم مجھے اطلاع کر دینا۔ میرے علم پر اس نے چند خوبصورت سواریاں تیار کر لیں ۔ ایک دن کے وقت وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا: اے عدی! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لشکر کے حملہ آور ہونے پر تم نے اپنی حفاظت کا جو پروگرام بنایا ہے، اس پر ابھی عمل کر لو تو بہتر ہوگا۔ میں نے کچھ جھنڈے دیکھے ہیں ۔ میں نے ان کے بارے میں معلوم کیا تو مجھے بتایا گیا کہ بیشکر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔ یہ سن کر میں نے اسے کہا: جاؤ جلدی سے اونٹیاں لے آؤ۔ وہ گیا اور اونٹنیاں لے آیا۔ میں نے اپنے بیوی بچوں کو ان پر سوار کیا اور شام کی طرف بھاگ نکلا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں اپنے ہم مذہب عیسائیوں کے پاس چلا جاتا ہوں جاتے ہوئے میں اپنی بہن کو یہیں چھوڑ گیا۔ میں شام پہنچا اور وہاں رہنے لگا۔ میرے جانے کے بعد رسول اللہ کے لشکر آئے اور میرے قبیلے کو فتح کر کے قیدی ساتھ لے گئے ۔ ان قیدیوں میں حاتم طائی کی سفانہ بنت حاتم بھی تھی ۔ عدی بن حاتم کی بہن نے نبی کریم سلام سے رہائی کی اپیل کی جو آپ نے منظور کر لی ۔ آپ نے نہایت عزت و اکرام کے ساتھ اسے رخصت کیا۔ عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ ایک روز میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ ایک سواری ہماری طرف آتی دکھائی دی۔ میں نے سوچا کہ یہ تو میری بہن لگتی ہے۔ جب وہ قریب آئی تو وہ میری بہن ہی تھی ۔ وہ اترتے ہی مجھے پر برسنے لگی۔ مجھے خوب برا بھلا کہہ کر دل کی بھڑاس نکالی۔ مجھے ملامت کرتے ہوئے کہتی ہے: تم ظالم اور قاطع رحم ہو۔ تم اپنے بیوی بچوں کو لے بھاگے اور بہن کی کوئی پروا نہ کی ۔ میں نے بہن کی ساری ملامت حوصلے سے سنی اور بہن سے معافی مانگی ۔ لہذا وہ راضی ہو گئی اور ہمارے ساتھ رہنے لگی ۔ ایک روز کہنے لگی: بھائی میرا مشورہ ہے کہ تم اپنا ہاتھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھ میں دے دو ۔ ان کی خدمت میں جو بھی گیا، اسے نوازا گیا ہے ۔ اگر وہ سچے نبی ہیں تو اسلام قبول کرنے میں سبقت لے جانے والوں کے فضل و شان ہے۔ اور اگر وہ بادشاہ ہیں تو پھر بھی تمھاری عزت کریں گے کیونکہ تم حاتم کے بیٹے ہو، اس لیے جتنی جلدی ہو سکے مدینہ منورہ پہنچو۔ شوق کے ساتھ جاؤ یا خوف کھاتے ہوئے تم ضرور جاؤ۔ میں نے کہا: تمھارا مشورہ بہت خوب ہے۔ بہن کا مشورہ سن کر میں نے سوچا کہ مجھے ایک بار ضرور مد ینہ حاضر ہونا چاہیے۔ اگر وہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہوئے تو مجھے کیا نقصان ہے۔ اگر وہ سچے ہوئے تو میں جان لوں گا اور ان کی پیروی کرلوں گا۔ لہذا میں شام سے نکالا اور مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

بارگاہ رسالت میںترميم

عدی بن حاتم کہتے ہیں جب میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صحابہ کرام کے ساتھ مسجد میں تشریف فرما تھے۔ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ عدی بن حاتم ہے۔ میں بغیر کسی امان نامے یا صلح نامے کے حاضر ہو گیا تھا۔ رسول اللہ سلام نے میرا ہاتھ اپنے دست مبارک میں لے لیا۔ آپ اس سے پہلے صحابہ کو یہ فرما چکے تھے مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی اس (عدی) کا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے گا۔ پھر آپ مجھے لے کر اپنے حجرہ کی طرف چل پڑے۔ اتنے میں ایک عورت اپنے بچے کو لے کر حاضر ہوئی ۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ! میں نے ایک ضروری گزارش کرنی ہے۔ آپ اس عورت کی التجا سنے کے لیے وہیں رک گئے۔ وہ دیر تک آپ کو اپنا مسئلہ بیان کرتی رہی اور آپ سنتے رہے، پھر آپ نے اس کی حاجت پوری کی اور مجھے لے کر اپنے گھر آگئے۔ میں نے دل میں سوچا ، الله کی قسم! یہ بادشاہ نہیں ہیں ۔ بھلا بادشاہوں میں اتنا صبر و حوصلہ اور عجز و انکسار کہاں؟ آپ اندر تشریف لائے تو مجھے کھجور کے پتوں سے بھرا ایک تکیہ دیا اور فرمایا: اس پر بیٹھو۔ میں نے عرض کیا: آپ اس پر تشریف رھیں ۔ مگر آپ نے اپنے مہمان کو تکیے پر بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھ گئے۔ آپ اپنے مہمانوں کی بے حد عزت افزائی کیا کرتے تھے۔ پھر آپ نے عدی کے ساتھ درج ذیل گفتگو فرمائی : رسول اکرم سلام نے اللہ تعالی کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے عدی! کیا تم اس بات سے فرار اختیار کر رہے ہو کہ تمہیں اس بات کی گواہی دینی پڑے گی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔ کیا تم اللہ کے سوا کوئی سچا معبود جانتے ہو؟ عدی بن حاتم: نہیں، اللہ کے سوا کوئی سچا معبود میرے علم میں نہیں۔ رسول اللہ : تو پھر تم اس لیے بھاگتے پھرتے ہو کہ تمہیں اللہ اکبر ( اللہ سب سے بڑا ہے ) نہ کہنا پڑے، کیا کوئی چیز اللہ سے بڑی ہے؟ عدی بن حاتم: نہیں ، اللہ سے بڑی اور برتر کوئی چیز نہیں ہے۔ رسول الله : اے عدی! مسلمان ہو جاؤ تو تم محفوظ ہو جاؤ گے تمھاری جان اور مال بچ جائے گا۔ عدی بن حاتم : میں ایک دیندار آدمی ہوں۔ رسول الله : میں تمھارے دین کو تم سے زیادہ جانتا ہوں ۔ یہودی مغضوب علیہم جبکہ عیسائی گمراہ ہیں۔ عدی بن حاتم : آپ میرے دین کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں؟ رسول اللہ : ہاں، میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، کیا تم رکوسی ( عیسائی اور سابی فرقے کا ملا جلا عقیدہ رکھتے والے) نہیں ہو؟ تم اپنی قوم کی غنیمت (لوٹ ) سے چوتھا حصہ وصول کرتے ہو، حالانکہ وہ تمھارے مذہب کے مطابق تمھارے لیے حلال نہیں ہے۔ عدی بن حاتم : بالکل ایسے ہی ہے ۔ آپ کے ان ارشادات کے بعد میں آپ کی عظمت کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں اور آپ کو غیب کی باتیں بتائی جاتی ہیں۔ رسول اللہ : اے عدی ممکن ہے تم اس لیے اسلام قبول نہیں کر رہے کہ تم سوچتے ہوئے کہ اس نبی کے پیرو کار نہایت غریب و مساکین ہیں ۔ ایسے کمزور و ناتواں جنھیں عربوں نے دھتکارا ہوا تھا، وہ مسلمان ہو رہے ہیں ۔ کوئی امیر زاده، رئیس و سردار مسلمان نہیں ہو رہا؟ اللہ کی قسم ! عنقریب مال وافر ہو جائے گا ، غربت ختم ہو جائے گی حتی کہ (زکاة کا) مال لینے والا نہیں ملے گا ممکن ہے تمھارے دل میں ہو کہ مسلمان بہت کم ہیں اور ان کے دشمنوں کی کثرت ہے۔ اللہ کی فسم! عنقریب تم سنو گے کہ اکیلی عورت قادسیہ ( یا فرمایا: الحیرہ جو کوفہ کے نواح میں ہے) سے چلے گی اور بیت اللہ کا طواف کرے گی، اسے کسی کا خوف نہیں ہوگا، وہ پرامن سفر کرے گی عنقریب کسری بن ہرمز کے خزانے فتح ہوں گے اور مسلمانوں کی ملکیت بنیں گئے۔ عدی بن حاتم : کسری بن ہرمز کے خزانے؟ رسول اللہ : ہاں کسری بن ہرمز کے خزانے مسلمانوں میں مال و دولت کی ریل پیل ہو جائے گی حتی کہ اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ عنقریب ارض بابل کے سفید محلات مسلمانوں کے قبضے میں ہوں گے۔ عدی بن حاتم : اے اللہ کے رسول! میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور آپ کی پیروی قبول کرتا ہوں ۔ عدی بن حاتم نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک خوشی سے کھل اٹھا۔ آپ نے عدی کو ایک انصاری صحابی کے ہاں ٹھہرایا۔ [4]

امارتترميم

رسول اللہ ہر نئے مسلمان سے اس کے رتبہ کے مطابق کام لیتے تھے اور اسلام سے پہلے جس کا جو رتبہ تھا اس کو برقرار رکھتے تھے۔ عدی قبیلہ طے کے حکمران تھے اس لیے اسلام کے بعد آنحضرت نے ان کو طے کی امارت پر قائم رکھا۔ [5]

عہد صدیقیترميم

بنی اسد میں ایک شخص طلیحہ تھا حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد اس کے دماغ میں نبوت کا خبط سمایا۔ چنانچہ اس نے اپنی قوم میں نبوت کا دعوی کر دیا۔ بنی اسد سب اس کے تابع ہو گئے۔ بنی اسد اور بنی طے کے درمیان معاہدہ دوستی تھا لہذا انہوں نے بھی اپنے حلیف کا ساتھ دیا اور قبیلہ غطفان کے بھی بہت سے لوگ ان کے شریک ہو گئے۔ طلیحہ نے اس عظیم الشان فوج کو لے کر نجد میں چشمہ بزاخہ پر پڑاؤ ڈالا۔ حضرت خالد بن ولید طلیحہ کے مقابلے کے لیے روانہ ہوئے۔ حضرت عدی بن حاتم طائی جو قبیلہ بنی طے کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے اس زمانہ میں مدینہ میں مقیم تھے انہوں نے حضرت ابو بکر سے عرض کیا مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنے قبیلہ کو سمجھا بجھا کر اس فتنہ سے نکال لوں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے اجازت دیدی۔ حضرت عدی کی کوششوں سے ان کے قبیلہ کے تمام افراد طلیحہ سے علاحدہ ہو گئے اور پھر یہی کوششیں انہوں نے قبیلہ جدیلہ میں بھی کی اور یہاں بھی انہیں کامیابی ہوئی۔ حضرت خالد بن ولید اپنی فوج کو لے کر چشمہ بزاخہ پر پہنچے اور طلیحہ کے لشکر سے زبردست مقابلہ کیا۔ جب طلیحہ نے دیکھا کہ شکست لازمی ہے تو اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لے کر شام کی طرف بھاگ گیا اور بعد میں کفر سے توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ طلیحہ نے اس کے بعد فتوحات عراق کے موقع پر بہت بہادری دکھائی اور اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنے کی کوشش کی۔ [6]

عہد فاروقیترميم

13ھ میں جب حضرت عمر فاروق نے عراق کی فتوحات کی تکمیل کے لیے تمام ممالک محروسہ سے فوجیں طلب کیں تو عدی بن حاتم بھی اپنے قبیلہ کے آدمیوں کو لے کر شرکت جہاد کے لیے پہنچے اور امیر عسکر مثنی کے ساتھ حیرہ کے معرکہ میں شریک ہوئے۔ اس معرکہ میں مسلمانوں کو کامیابی ہوئی اور ایرانیوں نے شکست کھائی۔ اس کے بعد نہر مثنی پر صف آرائی ہوئی اس میں بھی عدی شریک تھے اور ایرانی ناکام رہے اس کے بعد جسر کے معرکہ میں شرکت کی اس میں مثنی کی غلطی سے مسلمانوں کو شکست ہوئی ۔ اس سلسلہ کی سب سے بڑی جنگ قادسیہ میں بھی عدی بن حاتم نے داد شجاعت دیکھائی۔ سب سے آخر میں کوثی اور مدائن پر فوج کشی ہوئی ۔ دی اس میں بھی ہمراہ اور مدائن کے فاتحین میں تھے ان کے سامنے کسری کا خزانہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے آنحضرت کی پیش گوئی کی تصدیق دیکھ لی۔ ان فتوحات کے علاوہ تستر اورنهاوند کے معرکوں میں بھی شریک تھے ۔ شام کی فتوحات میں بھی خالد بن ولید کے ہمراہ تھے ۔ غرض اس عہد کی اکثر لڑائیوں میں انہوں نے شرکت کی سعادت حاصل کیا۔ ایک مرتبہ حضرت عدی عمرفاروق کے زمانہ میں مدینہ آئے اور ان سے مل کر پوچھا آپ نے مجھے پہچانا۔ فرمایا پہچانا کیوں نہیں تم اس وقت ایمان لائے جب لوگ کفر میں مبتلا تھے ، تم نے اس وقت ان کو پیا جب لوگ اس کے کرتے اورتم نے اس وقت حق کو پہچانا جب لوگ دھوکا دے رہے تھے اور تم اس وقت آئے جب لوگ پیٹھ پھیر رہے تھے۔ سب سے پہلا صدقہ جس نے رسول اللہ کے اصحاب کے چہروں کو بشاش کیا تمہارے قبیلہ طےکا تھا۔

عہد مرتضویترميم

حضرت عثان" کے طرزعمل سے عدی کو اختلاف تھا اس لیے ان کے زمانہ میں بالکل خاموش رہے۔ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد حضرت علی اور بعض دوسرے اکابر میں اختلاف ہوا تو عدی نے حضرت علی کی نہایت پرجوش حمایت کی چنانچہ جنگ جمل میں آپ کے ساتھ تھے۔ بصرہ کے قریب جب حضرت علی نے اپنی فوج کو مرتب کیا تو قبیلہ طے کا علم بردار عدی کو بنایا۔ اور وہ جنگ جمل میں حضرت علی کی حمایت میں نہایت جانبازی کے ساتھ اس معرکہ میں لڑے۔ ان کی ایک آنکھ بھی جنگ جمل میں کام آئی۔ جنگ جمل کے بعد جنگ صفین میں بھی اسی جوش وخروش کے ساتھ حضرت علی کی حمایت میں نکلے۔ اس جنگ میں بنو قضاعہ کی کمان عدی بن حاتم کے ہاتھوں میں تھی۔ صفین کا معرکہ جاری رہا شروع میں فریقین کے بہادر ایک ایک دستہ لے کر میدان میں اتر تے تھے ایک دن حضرت خالد کے صاحبزادے شامیوں کی جانب سے میدان میں اتر ے حضرت علی کی جانب سے عدی ان کے مقابلہ کو نکلے اور صبح سے شام تک مقابلہ کرتے رہے۔ ایک دن جب گھمسان کی لڑائی ہورہی تھی اور عراقی فوجیں پراگندہ ہو رہی تھیں حضرت علی علاحدہ ایک دوست کو لیے ہوئے معرکہ آرا تھے۔ عدی نے حضرت علی کو دیکھا تو آپ کی تلاش میں نکلے اور ڈوھونڈ کر عرض کیا کہ اگر آپ صحیح وسالم ہیں تو معرکہ سر کر لیا زیادہ دشوارنہیں ہے۔ میں آپ کی تلاش میں لاشوں کو روندتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں۔ اس دن سب سے زیا دہ ثابت قدمی عدی نے دکھائی تھی۔ ان کا ماتحت دستہ ربیعہ اس بہادری سے لڑا کہ حضرت علی کو کہنا پڑا کہ ربیعہ میری زرہ اور میری تلوار ہیں۔ جنگ صفین کے بعد نہروان کا معرکہ ہوا اس میں بھی عدی حضرت علی کے دست راست تھے۔ غرض شروع سے آخر تک وہ برابر حضرت علی کے ساتھ جان نثارانہ شریک رہے۔

وفاتترميم

مختیار ثقفی کے خروج تک عدی بن حاتم کی زندگی کا پتہ چلتا ہے۔ اس اعتبار سے وہ جنگ صفین کے بعد 30 سال تک زندہ رہے مگر اس تیس سالہ زندگی کے واقعات پردہ خفا میں ہیں ۔ اس کی وجہ ہے کہ وہ حضرت علی کے فدائیوں میں تھے اور آپ کے بعد انہوں نے گوشہ نشینی کی زندگی اختیارکرلی تھی۔ ابن سعد کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوفہ میں عزلت کی زندگی بسر کرتے تھے اور یہیں 67 ھ میں وفات پائی۔

فضل و کمالترميم

عدی بن حاتم کو آخری زمانہ میں شرف باسلام ہوئے تا ہم چونکہ آنحضرت اور شیخین کے پاس برابر آتے جاتے رہتے تھے۔ خصوصا حضرت علی کے ساتھ ان کے تعلقات بہت زیادہ تھے اس لیے وہ مذہبی علوم سے بے بہرہ نہ تھے ان کی 66 روایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ان میں سے چھ متفق علیہ ہیں اور 3 میں امام بخاری اور2 میں امام مسلم منفرد ہیں۔ آپ کے تلامذہ میں عمرو بن حریت ، عبد اللہ بن معقل ، معقل تمیم بن طرفہ ، خثیمہ بن عبد الرحمن ، محل بن خلیفہ طائی ، عامر الثعبی ، عبد اللہ بن عمرو ، ہلال بن منذر ، سعید بن جبیر ، قاسم بن عبد الرحمن ، عبادہ بن جیش وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

  • علامہ ابن عبد البر نے لکھا ہے وہ (عدی بن حاتم) اپنی قوم کے سردار اور معززین میں تھے ، خطیب ، حاضر جواب ، فاضل اور کریم تھے۔

مذہبی زندگیترميم

یوں تو عدی بن حاتم کی زندگی بحیثیت ایک صحابی کے خالص مذہبی تھی لیکن نماز اور روزوں کے ساتھ خاص انہماک تھا۔ نماز کے لیے یہ اہتمام تھا کہ ہر وقت باوضو رہتے تھے۔ کبھی اقامت کے وقت وضو کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہروقت نماز میں دل لگارہتا تھا اور نہایت اشتیاق سے وہ نماز کے وقت کا انتظار کرتے تھے۔

سخاوت و فیاضیترميم

سخاوت اور فیاضی آپ کو ورثہ میں ملی تھی۔ آپ کا دروازہ ہر وقت ہر شخص کے لیے کھلا رہتا تھا۔ ایک مرتبہ اشعث بن قیس نے دیگیں مانگ بھجیں۔ عدی نے اسے بھروا کر بھیجا۔ اشعت نے کہلا بھیجا میں نے خالی مانگی تھیں۔ انہوں نے جواب کہلا بھیجا کہ میں عاریت بھی خالی دیگیں نہیں دیتا۔ ایک مرتبہ ایک شاعر سالم بن وارہ نے آ کر کہا میں نے آپ کی مدح میں اشعار کہے ہیں ۔ عدی نے کہا ذرا رک جاؤ میں اپنے مال و اسباب کی تفصیل تم کو بتا دوں ،اس کے بعد سنانا۔ میرے پاس ایک ہزار بچے والے مویشی، دو ہزار درہم ، 3 غلام اور ایک گھوڑا ہے اس کے بعد شاعر نے مدحیہ قصیدہ سنایا جو شخص ان کے رتبے سے کم سوال کرتا ہے اسے نہ دیتے تھے۔ یہ صحیح مسلم میں بروایت میں مروی ہے کہ ایک شخص نے سو درہم کا سوال کیا اتنی کم رقم کا سن کر بولے میں حاتم کابیٹا ہوں اورتم مجھ سے سو درہم مانگتے ہو خدا کی قسم ہرگز نہ دوں گا۔ ان کی فیاضی سے انسان سے لے کر حیوان تک یکساں مستفید ہوتے تھے۔ چیونٹیوں کی غذا مقرر تھی ،ان کے کھانے کے لیے روٹیاں توڑ کر ڈالتے تھے اور کہتے تھے یہ بھی حقدار ہیں۔ [7]

حوالہ جاتترميم

  1. اسد الغابة فی معرفة الصحابة مصنف عزالدین بن الاثیر ابی الحسن علی بن محمد الجزری اردو متراجم مولانا محمد الشکور فاروقی لکھنوی جلد دوم حصہ ششم صفحہ 535
  2. سیرہ الصحابہ جلد اول از مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی جلد چہارم حصہ ہفتم صفحہ 385
  3. سیرت انسائیکلو پیڈیا تصنیف و تالیف حافظ محمد ابراہیم طاہر گیلانی، حافظ عبداللہ ناصر مدنی اور حافظ محمد عثمان یوسف جلد نہم صفحہ 417 اور 418
  4. سیرت انسائیکلو پیڈیا تصنیف و تالیف حافظ محمد ابراہیم طاہر گیلانی، حافظ عبداللہ ناصر مدنی اور حافظ محمد عثمان یوسف جلد نہم صفحہ 419 تا 423
  5. سیرہ الصحابہ جلد اول از مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی جلد چہارم حصہ ہفتم صفحہ 387
  6. تاریخ ملت تالیف مفتی زین العابدین سجاد مییرٹھی اور مفتی انتظام اللہ شہابی اکبر الہ آبادی جلد اول صفحہ 172 اور 173
  7. سیرہ الصحابہ جلد اول از مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی جلد چہارم حصہ ہفتم صفحہ 387 تا 390