عریب مامونیہ عہد عباسی کی مشہور خاتون شاعرہ اور مغنیہ (گانے والی) جن کے اشعار اس زمانے میں بہت مشہور ہوا کرتے تھے۔ مامون الرشید کی پسندیدہ شاعرہ تھی، اسی وجہ سے نسبت مامونیہ ہے۔[1]

عریب مامونیہ
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 797  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 890 (92–93 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعرہ،  گلو کارہ،  مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حالاتِ زندگیترميم

عریب مامونیہ، سنہ 799 عیسوی مطابق 181 ہجری میں بغداد، عراق میں پیدا ہوئی۔ عریب کے والد جعفر برمکی عباسی وزیر اور برامکہ خاندان کے بنیادی رکن تھے، ایک قول کے مطابق فاطمی خاندان کے خادم تھے۔ بہر حال تحقیقی معلومات کے مطابق وہ اپنی ابتدائی زندگی میں غلام تھی یا تو غلامی کی حالت میں ولادت ہوئی یا خاندان کے سقوط کے بعد 10 سال کی عمر میں غلام اور باندی کے طور پر فروخت کی گئی۔ عریب کے اشعار سے پتا چلتا ہے کہ انھیں دو مرتبہ غلامی میں رہنا پڑا ہے، انھیں عباسی حکمراں ابو اسحاق معتصم باللہ محمد بن ہارون الرشید نے آزاد کیا تھا۔[2] وہ عباسی حکمراں مامون الرشید کی پسندیدہ شاعرہ اور گلوکارہ تھی، خلیفہ کی نسبت کی وجہ سے کافی مشہور تھی۔[3]


عریب مامونیہ کی زندگی کے حالات سے متعلق سب سے زیادہ معلومات کا ذریعہ ابو الفرج اصفہانی کی مشہور کتاب "کتاب الاغانی" ہے،[4] اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں ممتاز تھی، شاعری اور گلوکاری کے علاوہ تصنیف و تالیف، شطرنج اور خوشخطی میں بھی اچھی مہارت حاصل تھی، بہر حال شہرت کی وجہ شاعری اور موسیقی ہی بنی۔ ابو الفرج اصفہانی نے ابن معتز کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ان کی شاعری اور اشعار کا مجموعہ اور دیوان بھی تھا جن میں کل اشعار کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔ عصر اسلامی کی ابتدا میں عریب کے ہم مثل کوئی نہیں ملتا ہے۔[5]

عریب کی شاعری اور نغمے فقط شعری مہارت اور تخیلاتی افکار پر مشتمل نہیں ہیں، بلکہ عریب اپنی شاعری میں اپنی حقیقی زندگی کی کہانی اور جھلک بھی پیش کرتی ہے، اس میں وہ اپنے محبین و عشاق اور آقاؤں کا بھی تذکرہ کرتی ہے۔ شاعری سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ہم جولیوں کی طرح ایک عام سی لڑکی تھی لیکن حالات و خواہش کے مطابق شاعری اور نغمے وغیرہ بھی لکھ اور گا لیا کرتی تھی، یہ بھی پتا چلتا ہے کہ وہ اپنے شہر کے ایک بڑے حصہ کی محافظ اور زمین کی مالک یعنی زمیندار بھی تھی۔ ان کا ایک مشہور نغمہ ہے جس کے ذریعے اس نے اپنی ایک حریف نوجوان شاعرہ "شاریہ" اور اس کی جماعت سے مقابلہ جیتا تھا۔[6] شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہت ضدی، انتہائی ذہین اور بے قابو فطرت کی حامل تھی، ان کی زندگی کا بیشتر حصہ مایوسی اور الجھنوں کا شکار رہا۔[7]

شعری نمونےترميم

ابن عساکر نے، عریب کے اشعار کو جس کو اس نے متوکل علی اللہ کی عیادت کے وقت کہا تھا، اس کو اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے۔ اردو ترجمہ درج ذیل ہے:

لوگوں نے میرے پاس آکر مجھے بتایا کہ خلیفہ بیمار ہیں، میری حالت یہ ہوئی کہ دیداد شوق کی آگ میرے سینہ میں جل رہی تھی، میں نے کہا:

کاش خلیفہ کا بخار مجھے ہو جاتا، اور مجھے یہی بخار میرے لیے انعام ہوتا۔

میرا غم یہی تھا کہ مجھ سے کہا گیا کہ ابھی بخار ختم نہیں ہوا ہے، افسوس کہ اس کے بعد سے اب تک صبر کر رہی ہوں۔

میں نے خلیفہ کے لیے اپنے آپ کو قربان کر دیا، اور یہ خلیفہ کی شکر گزاری کے لیے بہت کم ہے۔

جب خلیفہ معتصم کی صحت بحال ہو گئی، تب عریب نے شعر میں کہا:

اس نعمت والی ذات کا شکریہ جس نے آپ کو بیماری سے عافیت بخشی، آپ ہر قسم کی بیماریوں اور پریشانیوں سے سدا سلامت رہیں۔

آپ کی شفایابی کی وجہ سے زمانے کی مسکراہٹ اور خوشحالی لوٹ آئی، اور جود و سخاوت کے باغیچے اور غنچے جھوم اٹھے۔

آج کے بعد دین کے لیے کسی بادشاہ کو نہیں اٹھنا پڑے گا (چونکہ اب آپ سلامت ہیں)، میں آپ کو ہر طرح سے معاف کرتی ہوں اور مذمتوں کی پرواہ نہیں کرتی ہوں۔

اللہ ہمارے خلیفہ جعفر کی عمر دراز کرے، اور اپنے نور سے تاریکیوں کو دور کرے۔

بادشاہ ہی لیے عافیت کی حالت کے یہ اشعار بھی ہیں، ترجمہ:

ہم اس اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں جس نے خلیفہ جعفر کو ضلالت و کفر کی ہواؤں کے باوجود عافیت بخشی۔

یہ (بیماری) ایسے ہی تھی جیسے چاند کو تھوڑی دیر کے لیے گرہن لگ جائے، پھر وہ اس کے بعد اور بھی چمکدار اور روشن نظر آتا ہے۔

بادشاہ کی سلامت و عافیت دین کے لیے عزت و قوت کا ذریعہ ہے، اور ان کی بیماری پیٹھ کو توڑ دینے والی ہے۔

آپ بیمار ہوئے تو ایسا لگا پوری زمین بیمار ہو گئی تھی اور درد کی وجہ سے تمام ممالک و شہر تاریک ہو گئے تھے۔

جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ آپ کو افاقہ ہو گیا ہے، تب لوگوں کو بھی افاقہ ہوا، ورنہ لوگوں کی یہ حالت تھی جیسے انگارے پر ہوں۔

ہماری دنیا کی سلامتی خلیفہ جعفر کی سلامتی میں ہے، خدا کرے آپ ہمیشہ عافیت و سلامت میں رہیں۔

آپ ایسے امام ہیں جنھوں کو لوگوں پر انعامات و نوازشات کو عام کر دیا ہے، تقوی سے قریب ہیں اور جھوٹ سے دور ہیں

سنہ وفاتترميم

عریب مامونیہ کا سنہ وفات 890 عیسوی مطابق 277 ہجری ہے، تقریباً 90 سال کی عمر پائی۔

حوالہ جاتترميم

  1. Tahera Qutbuddin, Women Poets', in Medieval Islamic Civilisation: An Encyclopedia, ed. by Josef W. Meri, 2 vols (New York: Routledge, 2006), II 866, "Archived copy" (PDF). Archived from the original (PDF) on 2014-02-07. Retrieved 2015-03-29.. آرکائیو شدہ 2 جنوری 2017 بذریعہ وے بیک مشین
  2. Matthew S. Gordon, ' The Careers of ‘Arīb al-Ma’mūnīya and ‘Ulayya bint al-Mahdī, Sisters in Song', in ‘Abbasid Studies: Occasional Papers of the School of ‘Abbasid Studies, Cambridge, 6-10 July 2002, ed. by James E. Montgomery (Leuven: Peeters, 2004), pp. 61-81 (pp. 64-65). https://www.academia.edu/358518
  3. Classical Poems by Arab Women: A Bilingual Anthology, ed. and trans. by Abdullah al-Udhari (London: Saqi Books, 1999), p. 140 ISBN 086356-047-4; books.google.co.uk/books/about/Classical_poems_by_Arab_women.html?id=WniBAAAAIAAJ&.
  4. al-Iṣfahīnī, Abu l-Faraj, Kitāb al-aghānī, Dār al-Fikr, 21 parts and Index in 9 vols., equivalent to the edition Kairo 1322/1905–5. Jump up
  5. Matthew S. Gordon, 'The Place of Competition: The Careers of ‘Arīb al-Ma’mūnīya and ‘Ulayya bint al-Mahdī, Sisters in Song', in ‘Abbasid Studies: Occasional Papers of the School of ‘Abbasid Studies, Cambridge, 6-10 July 2002, ed. by James E. Montgomery (Leuven: Peeters, 2004), pp. 61-81 (p. 64).
  6. Agnes Imhof, 'Traditio vel Aemulatio? The Singing Contest of Sāmarrā’, Expression of a Medieval Culture of Competition]', Der Islam, 90 (2013), 1-20 (with a translation pp. 4-7), DOI 10.1515/islam-2013-0001, http://www.goedoc.uni-goettingen.de/goescholar/bitstream/handle/1/10792/Traditio%20vel%20Aemulatio.pdf?sequence=1
  7. / Matthew S. Gordon, 'The Place of Competition: The Careers of ‘Arīb al-Ma’mūnīya and ‘Ulayya bint al-Mahdī], Sisters in Song', in ‘Abbasid Studies: Occasional Papers of the School of ‘Abbasid Studies, Cambridge, 6-10 July 2002, ed. by James E. Montgomery (Leuven: Peeters, 2004), pp. 61-81 (pp. 65-66). https://www.academia.edu/358518.