عصمت دری سے حمل کا ہونا، ایک ممکنہ صورت ہے۔ اس کا مطالعہ جنگ کے تناظر میں کیا گیا ہے، خاص طور پر نسل کشی کے آلے کے ساتھ ساتھ دیگر غیر منسلک سیاق و سباق، جیسے کسی اجنبی کی طرف سے عصمت دری، قانونی عصمت دری، زنائے محرم اور کم عمری کا حمل وغیرہ۔موجودہ سائنسی اتفاق رائے یہ ہے کہ عصمت دری کم سے کم حمل کا باعث بنتی ہے کیوں کہ یہ برضا جنسی عمل نہیں ہوتا، اس کے برعکس کچھ مطالعات میں بتایا گیا ہے کہ عصمت دری کا نتیجہ حمل کی شرح برضا جماع سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔[1][2][3]

عصمت دری سے ہونے والے حمل کے دوران میں اور اس کے بعد کئی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، جس سے متاثرہ اور بچے دونوں کے لیے ممکنہ منفی نتائج پیدا ہوسکتے ہیں۔عصمت دری کے بعد طبی علاج میں حمل کی جانچ، روک تھام اور انتظام کرنا شامل ہے۔ عصمت دری کے بعد حاملہ ہونے والی عورت کو اس فیصلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کہ آیا بچے کی پرورش کرنا ہے، گود لینے کا منصوبہ بنانا ہے، یا اسقاط حمل کرنا ہے۔ کچھ ممالک میں جہاں عصمت دری اور زنائے محرم کے بعد اسقاط حمل غیر قانونی ہے، 15 سال اور اس سے کم عمر کی لڑکیوں میں 90 فیصد سے زیادہ حمل خاندان کے افراد کی عصمت دری کی وجہ سے ہوتا ہے۔[4]

یہ غلط عقیدہ کہ حمل عصمت دری کے نتیجے میں کبھی نہیں ہوسکتا، کئی صدیوں تک پایا جاتا تھا۔ یورپ میں، قرون وسطی سے لے کر اٹھارویں صدی تک، ایک مرد، عورت کے حمل کو قانونی دفاع کے طور پر یہ ثابت کرنے کے لئے استعمال کرسکتا تھا کہ اس مرد نے اس کے ساتھ زیادتی نہیں کی، کیوں کہ عورت کے حمل کا مطلب یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس نے جنسی لطف اٹھایا تھا، اسی لیس حمل ٹھہرا۔ حالیہ دہائیوں میں، بعض اسقاط حمل کی تنظیمیں اور سیاست دان (جیسے ٹوڈ اکن) عصمت دری کے معاملات میں قانونی اسقاط حمل کی مخالفت کرتے ہیں، ان کا یہ دعویٰ ہے کہ حمل بہت کم ہی عصمت دری سے ہوتا ہے، اور اس وجہ سے اسقاط حمل کے قانون میں اس سے رعایت کی عملی مطابقت محدود یا غیر موجود ہے۔[5][6][7]

عصمت دری - حمل کے واقعاتترميم

عصمت دری سے حمل کی تعداد کا تخمینہ بڑے پیمانے پر مختلف ہوتا ہے۔[8][9] حالیہ تخمینے بتاتے ہیں کہ ہر سال امریکیوں میں عصمت دری سے حمل 25،000 سے 32،000 بار ہوتا ہے۔ 1996ء میں 4،000 امریکی خواتین کے تین سالہ طویل مطالعے میں، معالج میلیسا ہومز نے اپنے مطالعے کے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا ہے کہ ہر سال ریاستہائے متحدہ میں عصمت دری سے 32،000 سے زیادہ حمل کا سبب بنتا ہے۔[10] معالج فیلیسیہ ایچ اسٹیورٹ اور ماہر معاشیات جیمز ٹرسل نے اندازہ لگایا ہے کہ 1988ء میں امریکا میں عصمت دری کے نتیجے میں تقریباً 25،000 حمل ہوا کرتے تھے اور ان میں سے 22،000 حمل کو فوری طور پر طبی علاج، جیسے ہنگامی مانع حمل سے روکا جاسکتا تھا۔[11]

شرحترميم

1996ء میں عصمت دری سے متعلق حمل کے 44 واقعات کے مطالعے کے مطابق امریکا میں تولیدی عمر (12 سے 45 سال کی عمر) کے متاثرین میں حمل کی شرح 5.0 فیصد ہے۔[10][12]

مزید دیکھیےترميم

غیر ارادی حمل

حوالہ جاتترميم

  1. Dellorto, Danielle (22 اگست 2012)۔ "Experts: Rape does not lower odds of pregnancy"۔ سی این این۔
  2. Begley, Sharon; Heavey, Susan (20 اگست 2012)۔ "Rape trauma as barrier to pregnancy has no scientific basis"۔ روئٹرز۔
  3. Kim Geiger, Statistics on rape and pregnancy are complicated، Los Angeles Times، 23 اگست 2012. Retrieved 24 مئی 2014.
  4. Sue Owen, Surveys show wide disagreement on number of rape-related pregnancies per year، Politifact, Austin American Statesman، 15 اگست 2013. Retrieved 24 مئی 2014.
  5. ^ ا ب Holmes، Melisa M.; Resnick، Heidi S.; Kilpatrick، Dean G.; Best، Connie L. (1996). "Rape-related pregnancy: Estimates and descriptive characteristics from a national sample of women". American Journal of Obstetrics and Gynecology 175 (2): 320–4; discussion 324–5. doi:10.1016/S0002-9378(96)70141-2. PMID 8765248.  (abstract also available at NIH pubmed site Retrieved 24 مئی 2014.)
  6. Stewart، Felicia H; Trussell، James (2000). "Prevention of pregnancy resulting from rape: A neglected preventive health measure". American Journal of Preventive Medicine 19 (4): 228–9. doi:10.1016/S0749-3797(00)00243-9. PMID 11064225. 
  7. Thornhill، Randy؛ Palmer، Craig T. (2001). A Natural History of Rape: Biological Bases of Sexual Coercion. MIT Press. صفحہ 100. ISBN 978-0-262-70083-2. 



کتابیاتترميم