مرکزی مینیو کھولیں
فاطمہ ثریا بجیا
معلومات شخصیت
پیدائش 1 ستمبر 1930  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حیدرآباد، دکن  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 فروری 2016 (86 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات سرطان  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
پیشہ ناول نگار، ڈراما نگار، منظر نویس، مصنفہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
P literature.svg باب ادب

فاطمہ ثریا بجیا (1930ء – 2016ء) پاکستان ٹیلی وژن اور ادبی دنیا کی معروف شخصیت تھیں۔وہ ناول نگاری، ڈراما نگاری کے حوالے سے بھی مشہور ہیں۔ انہوں نے ٹیلی وژن کے علاوہ ریڈیو اور اسٹیج پر بھی کام کیا۔ سماجی اور فلاحی حوالے سے بھی ان کے کام قابل قدر ہیں۔ محترمہ فاطمہ ثریّا بجیا کا خاندان بھی ادبی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ محترمہ فاطمہ بجیا 10 فروری،2016ء کو کراچی میں طویل علالت کے بعد 85 سال کی عمر میں انتقال فرما گئیں۔

حالات زندگیترميم

محترمہ بجیا نے کوئی باقاعدہ اسکول کی تعلیم حاصل نہیں کی تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے ادب اور تحریر کی دنیا میں نام پیدا کیا۔

ابتدائی حالاتترميم

وہ یکم ستمبر، 1930ء کو بھارتی ریاست حیدرآباد کے ضلع رائچور میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم کے فوراً بعد اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آ گئیں ۔

خاندانترميم

ان کے خاندان میں اور بھی مشہور شخصیات ادبی دنیا میں مصروف عمل ہیں جیسے کہ بھائیوں میں احمد مقصود اور انور مقصود بہنوں میں سارہ نقوی، زہرہ نگاہ اور زبیدہ طارق بھی بہت مشہور ہیں۔

اعزازاتترميم

1997ء میں ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغۂ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں جاپان کا اعلیٰ سول ایوارڈ بھی شامل ہے۔2012ء میں ان کو صدرِ پاکستان کی طرف سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔

نمایاں کامترميم

بجیا کی وجہ شہرت وہ ڈرامے ہیں جو پی ٹی وی نے پیش کیے۔

شروعاتترميم

ٹیلی وژن کی دنیا میں بجیا کی آمد محض اتفاقاً ہوئی تھی جب1966ء میں کراچی جانے کے لیے ان کی فلائٹ تعطل کا شکار ہوئی تو وہ اسلام آباد پی ٹی وی سینٹر کسی کام سے گئیں وہاں اسٹیشن ڈائریکٹر آغا ناصر نے اداکاری کے ذریعے ان سے پہلا کام کروایا اس کے بعد انہوں نے ڈراما نگاری کے ذریعے اس ادارے سے اپنا تعلق مضبوط کیا۔

ڈرامےترميم

ماخوذترميم

تخلیقترميم

  • انا
  • آگاہی
  • آبگینے
  • بابر
  • تاریخ و تمثیل
  • گھر ایک نگر
  • فرض ایک قرض
  • پھول رہی سرسوں
  • تصویر کائنات
  • اساوری
  • سسّی پنّوں
  • انارکلی
  • اوراق

بجیا نے بچوں کے پروگرام کے لیے بھی کام کیا ۔

دیگر کا رہائے نمایاںترميم

بجیا نے صوبائی حکومت سندھ میں مشیر برائے تعلیم کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں ۔

حوالہ جاتترميم