قانون فطرت عارف خٹک اکوڑہ خٹک maarif443@yahoo.com

   انسان کی پیدائش کائنات کی تخلیق کا باعث بنا، اس کائنات میں افضل ترین مخلوق  انسان ، جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان، چاند ،تارے، پہاڑ،  صحرا  اور   دریا    حتیٰ کہ  چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا عنصر انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے۔ افضل ترین کے ساتھ ساتھ کمزور ترین مخلوق  جس میں کیڑے مکوڑے، چرند و پرند، مچھراور چیونٹی  جیسی کمزور  و  باریک ترین مخلوق بھی پیدا کی گئی ہے۔
                                   نظامِ کائنات پر غور کیا جائے تو عجیب و غریب انکشافات انسان پر واشگاف ہو جاتے ہیں۔ جیسےزندہ پرندہ  کیڑے مکوڑوں کو اپنا شکار بناتی ہے لیکن  ان کے خاتمے پر یہ کیڑے مکوڑوں کا خوراک بن جاتا  ہے۔  ایک درخت سے ہزاروں ماچس کی تیلیاں بنتی ہیں لیکن ایک تیلی سے سارا جنگل راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے۔ کائنات کی اکثرچیزوں میں اس طرح کے مراحل جاری رہتے ہیں ۔ طاقتور کمزور کا استحصال کرتا ہے لیکن ایک وقت ان کی زندگی میں ایسا بھی آجاتا ہے کہ معاملہ الٹ جاتا ہے۔ طاقتور کمزور اورکمزور طاقتور بن جاتا ہے۔ 
        صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھرے                        ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
                جزا و سازا کا قانون فطری اور اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہے۔ اچھے کو ان کے نیک کام کا  صلہ اور برے شخص کو اس کے برے اعمال کی سزا بہت جلد مل جاتی ہے۔ ظالم و جابر کسی کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہو جاتا ہے اور نیک کو دنیا میں بھی ان کے نیک اعمال کا بدلہ مل جاتا ہے۔نیکی اور بدی کا یہ صلہ ضروری نہیں کہ انسان کے ہاتھوں انسان کو مل جائے  بلکہ بسا اوقات یہی  "کَمَا تَدِینُ  تُدَانُ" کا عمل غیر فطری طریقے سے انسان کو مل جاتا ہے۔
               ابرہہ جس نے خانہء کعبہ پر چڑھائی کی نیت سے ہاتھیوں کے ایک بڑے لشکر کو لیکر ،مکہ پر حملہ آور ہوا ،تو اس حملہ کو پسپا کرنے والی ایک کمزور مخلوق ابابیل تھی۔جس نے سارے لشکر کو کھائے ہوئے بھوسے میں بدل کر بے نام و بے نشان کر دیا تھا۔ابرہہ سے پہلے ایک اور طاقتور بادشاہ ہو گزرے ہیں  جو نمرود کےنام سے جانے جاتے تھے،  جس کی ظلم و بربریت کے قصے مشہور ہیں، نمرود ایک ادنیٰ سی مخلوق مچھر کی وجہ سے  جو اس کے دماغ میں گھسا تھا، زندگی و موت کی کشمکش میں آخر کارہلاک ہوگیا تھا۔ موسیٰ ؑ کے زمانے میں بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں حد سے تجاور کر گئے تھے۔لامتناہی رحمتوں و نعمتوں  کے باوجود شکر ادا کرنے اور فرمانبرداری کے لیے تیار نہ تھے، اس ناشکری اور نافرمانی کی وجہ سے طوفان، کھٹمل،مینڈک، اور خون کی اذیت میں مبتلا ہوئے جس نے ان کی زندگی اجیرن کر دی تھی اور سخت کرب و اذیت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ قریش مکہ اور سرداران قریش کے ظلم و ستم کس کو معلوم نہیں، ان کی طاقت کی گھمنڈ نے ان کو بدر میں کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں ناروا شکست اور ہلاکت پر ایک پرانے کنوئیں کو ان کا مدفن بنا دیا۔
               دوسری طرف دیکھا جائے تو نیک اور صالح اعمال کی وجہ سے اچھے لوگوں کو ان کے نیک کام اور اعمال کا بدلہ بہترین صورت میں مل جاتا ہے۔ ۔  مکہ مکرمہ کے سرداران قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کے قتل، قید اور جلا وطن کرنے کے منصوبے بنائیں تو آپ ہجرت پر مجبور ہوئے اور پورے 23 تئیس سال کے عرصے میں مکہ مکرمہ میں فاتح کے طور پر داخل ہوتے ہیں۔حضور ﷺ کی صداقت،  امانت ، ہمدردی ، رحم دلی اور انسان و حیوان پر شفقت نے اس کو سرزمینِ عرب کا حکمران بنا دیا۔ طارق بن زیاد کی دلیری و بہادری نے اسےاسپین کا فاتح بنا دیا۔ محمودِ غزنوی کی دین کی سربلندی کے لیے کوششوں نے اس کو بت شکن اور فاتحِ ہندوستان بنا دیا۔ فرہاد علی تیمور کو چیونٹی کی مسلسل کوشش اور جزبے نے حوصلہ دے کر اس سے بہادری اور دلیری کا درس لےکر ایک عظیم جنگ لڑنے پر مجبور ہوا جو بعد میں فاتح بن کر لوٹا۔اسلام کی تبلیغ اور زمین کا وسیع و عریض رقبہ سلطنتِ اسلامیہ میں لانے کے لیے ہد ہد ایک چھوٹے سے پرندےنے عظیم کردار ادا کیا۔قائد اعظم محمد علی جناح اور مسلمانوں کی مسلسل کوشش اور قربانیوں نے پاکستان کو ایک آزاد ریاست اور ملک بنا دیا جس میں آج ہم اسلام کے مطابق آزادی سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ 
               انسان کے سامنے اچھے اور برے کاموں کے راستے کھلے پڑے ہیں۔ انسان اپنے آپ کو راہِ راست سے ہٹا دے تو اپنا ہی نقصان کر لیتا ہے۔ اور اگر راہِ راست پہ آ کر اپنی زندگی کو دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کریں تو یقیناً اپنے منزل کو پہنچ جاتا ہے، اس کے بہترین نتائج اور بدلے دنیا و آخرت میں مل جاتے ہیں۔ یہ ہرشخص کا اپنا انتخاب ہے کہ وہ کس منزل کی تعین کرتا ہے۔ اپنے آپ کواشرف المخلوقات کی فہرست میں شامل کرنا چاہتا ہے یا  خود کو دنیا کی سزاؤں  اورپریشانیوں میں دھکیل کر برے انجام تک پہنچنا چاہتا ہے۔انتظار اس کا ہے کہ وہ کس  فطری قانون کا انتخاب کرتا ہے۔