قبرستان اماں حوا (Tomb of Eve) (عربی: مقبرة أمنا حواء) جدہ، سعودی عرب میں واقع ایک قبرستان اور آثارياتی مقام ہے (21°29′31″N 39°11′24″E)۔[1] اسے حوا کے دفن ہونے کا مقام کہا جاتا ہے۔

قبرستان اماں حوا، 1913ء

رچرڈ فرانسس برٹن نے الف لیلہ کے ترجمہ میں اس مقام کو دیکھنے کا ذکر کیا ہے۔[2] یہ مقام 1975ء میں مذہبی حکام کی طرف بند کر دیا گیا تھا کیونکہ یہاں حجاج کرام نے نماز پڑھنا شروع کر دیا تھا۔

ذکرترميم

اینجلو پاسکو اپنی کتاب جدہ میں اس مقام کا ذکر کیا ہے۔[3] اس نے لکھا ہے کہ اس قبرستان کا ابتدائی دستاویزی ذکر ابو محمد الحسن بن احمد بن يعقوب الہمدانی نے کیا ہے۔

ابعادترميم

 
رچرڈ فرانسس برٹن کا قبر کا نقشہ

ایمیل فیلکس گوتیہ فرانسیسی جغرافیہ دان نے قبرستان کی لمبائی 130 میٹر بتائی ہے۔[4]

معروف مصنف سردار اقبال علی شاہ نے اس کا حدود اربعہ یوں بیان کیا ہے:

اصل قبر کے مطابق حوا ایک بڑے تناسب کی خاتون ہوں گی، مجھے بتایا گیا ہے کہ ان کا قد کچھ آٹھ فٹ لمبا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ قبر پراسرار طریقے خود توسیع ہو گئی تھی جب میں یہاں پہنچا تو یہ موجودہ تناسب تھا۔[5]

عون الرفيق امیر حجاز نے مقبرہ کو گرانے کی کوشش کی، لیکن عوامی شور وغوغا کی وجہ سے نہ کر سکا۔ اس نے کہا: لیکن آپ کو لگتا ہے کہ 'ہماری ماں اتنی لمبی تھیں؟ اگر حماقت بین الاقوامی ہے تو قبر کو سلامت رہنے دیں۔

بیرونی روابطترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Jayussi, Salma; Manṣūr Ibrāhīm Ḥāzimī; ʻIzzat ibn ʻAbd al-Majīd Khaṭṭāb Beyond the Dunes I B Tauris & Co Ltd (28 April 2006) ISBN 978-1-85043-972-1 p. 34 "eve's+grave"+Jeddah&ots=QpzSehe160&sig=WGdCM0sk2Ht5sE-Qh4Tkq-JC3dU
  2. Burton, Richard Francis The Book Of One Thousand Nights And A Night p. 358 "tomb+of+eve"+Jeddah&num=100&as_brr=3
  3. Angelo Pesce Jiddah: Portrait of an Arabian city, Falcon Press 1974, pages 126-130
  4. Moeurs et coutumes des Musulmans, Paris 1931, p 66.
  5. Westward to Mecca, Londond 1928, p 216