قراچار نوئیاں (نویان) چنگیز خان کا مشیر اعلیٰ تھا۔

تاریخترميم

قراچار نوئیاں چوتھی پشت میں قاچولی بہادر بن تومنہ خان کی اولاد تھا۔ اور تومنہ خان کے عہدنامہ کے مطابق چنگیزخان کا مشیراعلیٰ بنا۔ اپنے عہد حکومت کے شروع میں تیمورچی دشمنوں کے ہاتھ قید ہو گیا تھا، تو قراچار نوئیاں کی مدد سے رہائی حاصل کی۔

چغتائی خان سے تعلقترميم

چنگیزخان نے مرتے وقت چغتائی خان کو نصیحت کی تھی کہ وہ اپنے اتالیق اور اس کے مشیر اعلیٰ کو اقتدار میں شریک رکھے اور دونوں کے درمیان باپ بیٹے کا رشتہ قائم کرے۔ چغتائی خان نے اپنی بیٹی توکل خانم کارشتہ قراچار نوئیاں کو دے کر اور علاقوں کا انتظام اس کے حوالے کر کے خود اوکتائی خان کے پاس سکونت اختیار کر لی۔ چغتائی خان کی موت کے بعد وہ خود مختار حکمران ہو گیا تھا۔ مگر اس نے چغتائی کے بیٹیوں کو اقتدار میں شریک رکھا اور تربیت کرتا رہا۔ اس کے بیٹے اور پوتے کو خاقان بنایا۔

حکومتترميم

قراچار نوئیاں نے اپنے قبیلے کے لوگوں کو مختلف علاقوں سے تلاش کرکے (سمرقند) کش کے علاقے میں آباد کیا۔ مقامی ترک اور ایرانی باشندوں میں رہائش اختیار کرکے اس قبیلے نے اپنی علاحدہ قومیت کھو دی اور ترکی زبان کے غلبے کی وجہ سے ترکی بولنے لگے اور ترک کہلائے ۔

نسلترميم

قراچار نوئیاں نے 89 سال عمر پاکر 1254ء میں وفات پائی۔ اس کا بیٹا ایجل نوئیاں جانشین بنا۔ اس کے پوتے امیراینگو نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ قراچار بھی اسلام قبول کر چکا تھا۔ حاجی برلاس اور طراغے اس کے پڑ پوتے تھے۔ مشہور ایرانی حکمران تیمور لنگ طراغے کا بیٹا اور حاجی برلاس کا بھتیجا تھا۔ یاد رہے کہ برصغیر میں مغلیہ سلطنت کے مورث اعلیٰ ظہیر الدین بابر شہنشاہ تیمور کی اولاد در اولاد میں سے تھے۔[1]

حواشیترميم

  1. سیرت طیبہ از شیخ عبد القادر سوداگر مل صفحہ نمبر 1
  • قاضی محمد اقبال چغتائی : وسط ایشیا کے مغل حکمران۔ چغتائی ادبی ادارہ، لاہور۔ 1983ء۔ صفحہ 33-34۔