محمد بن اسحق فاکہی

محمد بن اسحق فاکہی ایک مورخ تھے۔ ان کا مکمل نام ابو عبد اللہ محمد بن اسحق فاکہی کنانی تھا۔ وہ تیسری صدی ہجری (280ھ) کے ایک مسلم عربی سیرت نگار اور عالم ہیں۔ مکہ کے رہائشی تھے۔ ان کی کتاب اخبار مکہ فی قدیم الدہر و حدیثہ جسے تاریخ مکہ بھی کہا جاتا ہے، معروف ہے۔[3]

محمد بن اسحق فاکہی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 839  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 885 (45–46 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب[2]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ محدث،  مؤرخ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مکمل نسبترميم

محمد بن اسحاق بن عباس (جو بنو الفاكہ میں سے تھے) بن عمرو بن الحارث بن مالك بن كنانة بن خزیمۃ بن مدركۃ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان ۔[4]

ولادتترميم

مكہ المعظمہ میں پیدا ہوئے اور پروان چڑھے۔ ان کی کتاب پر تحقیق کرنے والے محقق عبد الملك بن عبد الله بن دہیش نے ان کی تاریخ پیدائش سنہ 215 ھ اور 220 ھ کے درمیان لکھی ہے۔[5]

تصنیفترميم

سفرترميم

عراق میں بغداد اور کوفہ سفر کیا اور صنعاء اور یمن بھی رہے۔[6]

اساتیدترميم

  • ان کا علمی شوق اور علمی سفرون کی وجہ سے ان کے بہت زیادہ اساتید اور شیوخ تھے۔[7]
  • سعید بن منصور
  • اسماعیل بن عبد الله بن زرارہ رقی
  • جنید بن حكم بن جنید ازدی
  • احمد بن جمیل انصاری مرزوی
  • یعقوب بن حمید
  • محمد بن یونس كدیمی
  • سعید بن عبد الرحمن بن حسان مخزومی قرشی
  • حسین بن حسن بن حرب سلمی
  • عبد الله بن احمد بن زكریا بن حارث ابو یحیى بن ابی مسرہ مكی
  • سلمہ بن شبیب نیشاپوری
  • عبد الله بن عمران بن رزین مخزومی قرشی مكی
  • زبیر بن بكار اسدی قرشی
  • عبد الجبار بن العلاء العطار ابو بكر بصری
  • محمد بن علی بن زید الصائغ مكی
  • علی بن یونس بغوی
  • حسن بن احمد بن ابراهیم ازدی
  • بكر بن خلف بصری ابو بشر مقرئ
  • محمد بن یحیى بن ابی عمر عدنی

ان کے علاوہ ان کے 200 اساتید ہیں جن سے وہ روایت کرتے ہیں۔

شاگردانترميم

  • محمد بن صالح سهل عمانی
  • ان کے اپنے بیٹے ابو محمد الفاكهی جن کا نام عبد الله بن محمد بن اسحق تھا۔
  • امام حافظ محمد بن عمرو بن موسى ابو جعفر عقیلی مكی
  • ابو الحسن انصاری

وفاتترميم

ان کی کتاب پر تحقیق کرنے والے محقق عبد الملك بن عبد الله بن دہیش نے ان کی تاریخ وفات سنہ 272 ھـ اور سنہ 279 ھ کے درمیان لکھی ہے۔.[8]

حوالہ جاتترميم

  1. ربط : وی آئی اے ایف - آئی ڈی  — اخذ شدہ بتاریخ: 25 مئی 2018 — اجازت نامہ: Open Data Commons Attribution License
  2. https://libris.kb.se/katalogisering/b8nqlvnv548l2fw — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018 — شائع شدہ از: 18 ستمبر 2012
  3. ^ ا ب شفاء الغرام باخبار البلد الحرام للفاسی ص 5
  4. مختصر اقتباس الانوار والتماس الازہار فی انساب الصحابۃ ورواۃ الآثار ص 151
  5. اخبار مكۃ فی قدیم الدہر وحدیثہ ص 11
  6. اخبار مكۃ فی قدیم الدہر وحدیثہ ص 12
  7. اخبار مكۃ فی قدیم الدہر وحدیثہ ص 13
  8. اخبار مكۃ فی قدیم الدہر وحدیثہ ص 32