محمد زکی کیفی اردو کے معروف شاعر اور ادارہ اسلامیات لاہور کے بانی ہیں۔آپ مفتی محمد شفیع عثمانی کے صاحبزادے اور مفتی محمد تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔ ان کا شعری مجموعہ کیفیات کے نام سے ان کی وفات کے بعد شائع ہوا ہے۔ ان کی شاعری اردو کی غزل گو شعری روایت کا تسلسل ہے۔ جگر اور حسرت کی صف میں کھڑے ہیں۔

محمد زکی کیفی
معلومات شخصیت
پیدائش 2 جولا‎ئی 1926  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیوبند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 24 جنوری 1985 (59 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد سعود عثمانی  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد مفتی محمد شفیع عثمانی  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابتدائی حالاتترميم

زکی کیفی22 ذوالحجہ 1344ھ بمطابق 2 جولائی 1926ء کومتحدہ ہندوستان کے مشہور قصبے دیوبند میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ماجد کے مرشدمولانا اشرف علی تھانوی نے ان کا نام "محمد زکی" تجویز کیا۔ تاریخی نام "سعید اختر"(1344ھ) رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم دار العلوم دیوبند ہی سے حاصل کی۔ اصلاحی تعلق مولانا اشرف علی تھانوی سے قائم کیا ۔ بچپن ہی میں ان سے بیعت ہو گئےاور ان سے تصوف کی مشہور کتاب پند نامہ عطار سبقا سبقا پڑھی۔[1]

تحریک پاکستان میں کردارترميم

زکی کیفی کے والد مفتی محمد شفیع عثمانی پاکستان کے بانی رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ زکی کیفی اپنے والد کے دست و بازو اور قیام پاکستان کے پرجوش حامی تھے۔ سرحد ریفرنڈم، لاہور کانفرنس اور حیدرآباد کانفرنس میں وہ اپنے والد کے شانہ بشانہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیوبند کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر ایک تنظیم بنائی جو فسادات کے دنوں میں رات کو پہرے دیا کرتی اور مسلمانوں کی حفاظت کرتی۔[2]

قیام پاکستان کے بعد ان کا سارا خاندان پاکستان ہجرت کر گیا مگر وہ اپنے والد کے ایما پر ہندوستان ہی میں رکے رہے اور ان کے ادھورے کا موں کو نبٹاتے رہے۔ اس اثنا میں عید کے موقع پر انہوں نے اہل خانہ کے نام شعری انداز میں خط لکھا جس میں کمال شاعرانہ مہارت کے ساتھ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا:

مانا کہ میں دل درد کا خوگر ہی بنا لوں

لیکن جو خلش چھپ نہ سکے کیسے چھپا لوں

آنکھوں میں اندھیرا ہے تو دل ڈوب رہا ہے

ایسے میں بتاؤ کہ میں کس کس کو سنبھالوں

تم عید کی خوشیوں سے کرو گھر میں چراغاں

میں محفل دل اپنے ہی داغوں سے سجا لوں

ماں باپ جدا بھائی بہن پاس نہیں ہیں

ایسے میں بتاؤ کہ میں کیا عید منالوں[3]

کیفیاتترميم

زکی کیفی کا شعری مجموعہ کیفیات ان کی وفات کے بعد ان کے اپنے ہی ادارے شائع ہوا۔ جو حمد، نعت، غزل، ملی و قوم نظموں اور قطعات کے ایک منتخب ذخیرے پر مشتمل ہے۔

مشہور اشعارترميم

زکی کیفی کا یہ شعر ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ عام طور پر مرحومین کی یاد میں بکثرت پڑھا اور لکھا جاتا ہے:

آتی ہی رہے گی تری انفاس کی خوشبو

گلشن تری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا


اس آئینہ خانے میں سبھی رنگ ہیں تیرے

اس آئینہ خانے میں تو یکتا ہی رہے گا


ستارے ڈوبنا، شبنم کا رونا، شمع کا بجھنا

ہزاروں مرحلے ہیں صبح کے ہنگام سے پہلے

  1. نقوش رفتگاں، مفتی محمد تقی عثمانی،ص: 44 و مابعد
  2. نقوش رفتگاں، مفتی محمد تقی عثمانی، ص: 31
  3. نقوش رفتگاں، مفتی محمد تقی عثمانی، ص: 32