محمد شکیل اوج

محمد شکیل اوج (1960ء تا 2014ءجامعہ کراچی کے پروفیسر، 15 کتب کے مصنف، ماہر رضویات اور نامور عالم دین تھے۔آپ نے قرآن مجید کے آٹھ منتخب اردو تراجم کا تقابلی جائزہ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا۔[1] آپ پر 2014ء میں توہین رسالت کا الزام عائد کر کے کراچی کے ایک مدرسے سے فتویٰ بھی جاری کیا گیا تھا۔ جس کے چند دن بعد 18 ستمبر 2014ء کو منصوبہ بندی کر کے قتل کے دیئے گئے۔[2]

پروفیسر محمد شکیل اوج
محمد شکیل اوج

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1960  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 18 ستمبر 2014 (53–54 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قومیت یوسف زئی پٹھان
مذہب اسلام
عملی زندگی
تعليم ایم اے صحافت، ایل ایل بی، حافظ قرآن، درس نظامی، پی ایچ ڈی (علوم اسلامیہ)، ڈی لٹ۔
مادر علمی جامعہ کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ پروفیسر، مصنف
مؤثر احمد رضا خان، سرسید احمد خان، خواجہ غلام فرید

فہرست

سوانحترميم

تحقیق و تدریسترميم

اُن کے مضامین دنیا بھر کے تحقیقی جرائد میں شایع ہوتے رہے، اب تک ڈاکٹر شکیل اوج کی 15 کتابیں، 82 تحقیقی مضامین اور 72 علمی مضامین شایع ہو چکے ہیں، اُن کے تحقیقی مضامین کو جامعہ کراچی نے ڈی لٹ کی سند کے لیے منتخب کیا اور علمی دنیا کے سب سے بڑے اعزاز ڈاکٹر آف لٹریچر (DLE) سے سرفراز کیا۔2014ء ماہ 14 اگست میں حکومت پاکستان نے انھیں صدارتی تمغا امتیازسے نوازا۔ڈاکٹر صاحب جامعہ کراچی کے فیکلٹی کلیہ معارفِ اسلامیہ کے رئیس (ڈین) رہے اور سیرت چیئر، جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر شپ بھی انہی کے حصے میں رہی۔ ڈاکٹر صاحب انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد کے بورڈ آف ٹرسٹی کے رکن اور ملایشیا سے نکلنے والے معروف ریسرچ جرنل JIHAR کے ایڈیٹوریل بورڈ کے ممبر بھی تھے، انہوں نے لاتعداد اعزازات، شیلڈز اور طلائی تمغے بھی حاصل کیے۔[3]

کتبترميم

شکیل اوج نے قرآنیات، حدیث، فقہ، اسلام اور عہد حاضر، خودکش حملہ اور خواتین اور اسلام کے موضوعات پر کتب اور مقالات لکھے، نسائیات کا ترجمہ عربی اور انگریزی میں بھی ہو چکا ہے۔ اس کتاب میں اسلام اور خواتین کے حوالے سے اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ جس پر کئی اہل علم نے کچھ اختلافات بھی کیے۔[4] شکیل اوج کی وفات سے پہلے تک شائع ہونے والی کتب کی تعداد 15 ہے، فتاوا کا ایک مجموعہ طباعت کے مراحل میں ہے۔

  • قرآن مجید کے آٹھ منتخب اردو تراجم کا تقابلی جائز
  • اصول تفسیر و تاریخ تفسیر
  • اصول حدیث و تاریخ حدیث
  • خواجہ غلام فرید کے مذہبی افکا
  • صاحب قرآن ﷺ
  • رضا کوئز بک
  • افکار شگفتہ
  • تعبیرات
  • نسائیات
  • غزوۂ بدر اور حضور اکرم ﷺ کی جنگی اور سیاسی حکمت عملی
  • اسلامی سائنس کے یورپ پر اثرات
  • آئمہ مجتہدین کے اختلافات اور ان کی نوعیت
  • تفہیم الاسلام: چند مغالطے اور اُن کے ازالے

شاعریترميم

نمونہ ِ کلامترميم

ان کے نام پاک پر مرجائیے

موت کو فخر شہادت کیجیے


مرزع اسلام کو پھر سنیچ کر

قلبِ کافر پر قیامت کیجیے


حق پرستی کی سزا کیونکر ملے

آگے بڑھیے اور جرأت کیجیے


حق نے باطل کومٹایا جس طرح

پھر اسے زندہ حقیقت کیجیے


فیصلہ کن انقلاب آنے کو ہے

پیش دعوے پرشہادت کیجیے

قتلترميم

شکیل اوج کو 18 ستمبر 2014ء کو کراچی میں صبح ساڑھے دس بجے قتل کر دیا گیا تھا۔[5]

مزید دیکھیےترميم

بیرونی روابطترميم

ڈاکٹر محمد شکیل اوج سے روزنامہ ایکسپرس نیوز کا انٹرویواقبال خورشید، جمعرات 24 جولائ 2014

حوالہ جاتترميم

  1. ڈاکٹر محمد شکیل اوج سے ملاقات، اقبال خورشید ،جمعرات 24 جولائ 2014
  2. بی بی سی اردو، ڈاکٹر محمد شکیل اوج قتل کر دیئے گئے
  3. محمد احمد ترازی (21 ستمبر 2014ء)۔ "پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج کی یاد میں"۔ جیو اردو فرانس۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 جولا‎ئی 2017۔ 
  4. بی بی سی اردو ڈاکٹر محمد شکیل اوج کے قریبی دوست، پروفیسر محمد توصیف کا انٹرویو
  5. محمد سہیل شفیق (دسمبر 2014ء). "شہید علم و آگہی، پروفیسر حافظ محمد شکیل اوج". الایام 5 (2): 267. http://iri.aiou.edu.pk/indexing/wp-content/uploads/2016/08/shaheed-ilm-o-aagahi.pdf.