محمد ظفر اللہ خان

سر محمد ظفر اللہ خان تحریک پاکستان کے سرگرم رکن، پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ تھے۔

محمد ظفر اللہ خان
Muhammad Zafarullah Khan.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 6 فروری 1893[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سیالکوٹ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 1 ستمبر 1985 (92 سال)[1][2][3][4]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت آل انڈیا مسلم لیگ  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
کنگز کالج لندن  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان،  سفارت کار،  منصف،  وکیل  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Knight Bachelor ribbon.svg نائٹ بیچلر   ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Signature of Muhammad Zafarullah Khan.png
 

بچپنترميم

سر محمد ظفر اللہ خان کا آبائی گاوں ڈسکہ تھا۔ ان کے والد نصر اللہ خان ساہی جاٹ قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے اور پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھے۔ ان کی والدہ باجوہ جاٹ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ظفر اللہ خان اپنی والدہ سے بہت متاثر تھے اور ان کے متعلق ایک کتاب "میری والدہ "کے نام سے لکھی۔ ان کی پیدائش 6 فروری 1893 کو ہوئی۔

تعلیمترميم

ابتدائی تعلیم کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے مزید تعلیم اور پھر کنگز کالج لندن سے وکالت کی ڈگری 1914 میں حاصل کی۔ لندن میں لنکن ان بار میں شمالیت اختیار کی۔ وطن واپسی پر سیالکوٹ میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور پھر 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ارکان بن گئے۔

سیاستترميم

سر ظفر اللہ خان 1926 میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے ارکان بنے۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور اس کے ایک اہم اور فعال رکن رہے۔ مسلم لیگ کے 1931 کے اجلاس منعقدہ دہلی کی صدارت کے فرائض بھی سر انجام دئے۔ انہوں نے 1930 سے 1932 تک لندن میں گول میز کانفرنسوں میں شرکت کی۔ 1935 میں برطانوی ہندوستان کے وزیر ریلوے بنے۔ 1939 میں انہوں نے لیگ آف نیشنز میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1942 میں چین میں برطانوی ہندوستان کے جنرل ایجنٹ رہے اور 1945 میں دولت مشترکہ کی کانفرنس میں برطانوی ہندوستان کی نمائندگی کی۔

مسلم لیگ میں اہم کردارترميم

1935 سے 1941 تک واسرائے ہند کی ایگزیکیوٹو کونسل کے رکن رہے۔ اسی زمانہ میں لارڈ لنلیتھگو نے مسلم لیگ کے رہنماوں کو بتایا کہ برطانوی حکومت نے ہندوستان کو ہندو، مسلمان، آزاد نوابی ریاستوں کی صورت میں تین حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی طرف سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں جو حکومت نے مسترد کر دیں۔ اس پر سر ظفر اللہ خان کو تقسیم ہندوستان پر نئی تجویز پیش کرنے کا کام دیا گیا۔ اس بارہ میں واسرائے نے حکومت برطانیہ کو لکھا[5]:

میری ہدایت پر ظفر اللہ نے ایک میمورنڈم دو ممالک کے متعلق لکھا ہے جو میں پہلے ہی آپ کو بھجوا چکا ہوں۔ میں نے انہیں مزید توضیح کے لیے بھی کہا ہے جو ان کے کہنے کے مطابق جلد ہی آ جائے گی۔البتہ ان کا اصرار ہے کہ کسی کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ منصوبہ انہوں نے تیار کیا ہے۔ انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا ہے میں اس کے ساتھ جو چاہوں کروں، جس میں آپ کو ایک نقل بھیجنا بھی شامل ہے۔ اس کی نقول جناح کو اور میرے خیال میں سر اکبر حیدری کو دی جا چکی ہیں۔ یہ دستاویز مسلم لیگ کی طرف سے اپنائے جانے اور اس کی مکمل تشہیر کے لیے تیار کر لی گئی ہے جبکہ ظفر اللہ اس کے مصنف ہونے کا اقرار نہیں کر سکتے۔ لارڈ لیتھینگو 12 مارچ 1940

وائسرائے نے مزید بیان کیا کہ ظفر اللہ خان احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اگر عام مسلمانوں کو اس بارہ میں پتہ چلا تو ان کی جانب سے تحفظات کا اندیشہ ہے۔ چنانچہ منصوبہ پیش کرنے کے بارہ دن بعد اسے آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے لاہور کے اجلاس میں منظور کر لیا گیا اور یہ قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوا۔

محمد علی جناح کی درخواست پر ظفر اللہ خان نے مسلم لیگ کا مقدمہ ریڈکلف کے کمشن کے سامنے پیش کیا۔ اسی زمانہ میں جوناگڑھ کی ریاست کے والی کے مشیر کے طور پر خدمات سر انجام دیں اور ان کے مشورہ پر نواب جوناگڑھ نے اپنی ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔

متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰترميم

ستمبر 1941 میں ظفر اللہ خان کو متحدہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ کا منصف مقرر کیا گیا۔ وہ آزادی ہند تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہترميم

آزادی کے بعد 1947 میں ظفر اللہ خان نے اقوام متحدہ کے سامنے بطور سربارہ پاکستانی وفد پاکستان کا موقف پیش کیا۔ اسی طرح مسئلہ فلسطین پر عالم اسلام کے موقف کی تائید کی۔ اسی سال ان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا۔ وہ 1954 تک سات سال تک مسلسل اس عہدہ پر برقرار رہے۔

1953 کے فساداتترميم

ان کے بطور وزیر خارجہ کام کے دوران میں ہی لاہور میں 1953 میں فسادات برپا ہوئے جن میں مذہبی جماعتوں نے ان کے استعفا کا مطالبہ کیا۔ ان فسادات کے نتیجہ میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور میں فوجی قانون یعنی مارشل لا لگایا گیا۔ ان فسادات پر عدالتی کمیشن بنایا گیا جو منیر عدالتی کمیشن کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کمیشن کی رپورٹ میں فسادات کی وجوہ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور مؤلانا مودودی کو موت کی سزا سنادی ۔

اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوبترميم

ظفر اللہ خان 1947 میں ہی اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے رکن بھی رہے۔ 1961 سے 1964 تک دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مقرر ہوئے اور اسی دورانیہ میں 1962 سے 1964 تک اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر بھی رہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ میں کشمیر، فلسطین، لیبیا، شمالی ائیرلینڈ، ایریٹریا، صومالیہ، سوڈان، تیونس اردن مصر مراکش اور انڈونیشیا کی آزادی کے لیے کام کیا۔

عالمی عدالت انصافترميم

1954 میں ظفر اللہ خان عالمی عدالت انصاف کے منصف مقرر ہوئے اور 1961 تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ 1958 تا 1961 وہ اس عدالت کے نائب صدر بھی رہے۔ دوبارہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی خدمات بجا لانے کے بعد 1964 سے 1969 تک دوبارہ عالمی عدالت انصاف میں منصف رہے اور 1970 سے 1973 تک اسی عالمی عدالت انصاف کے صدر منتخب کئے گئے۔

مذہبترميم

محمد ظفر اللہ خان مذہبی طور پر احمدیہ جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے خود مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور ان کے احمدی خلفاء کے معتمد رہے۔ وہ جماعت احمدیہ کے اہم عہدوں پر فائز رہے اور مذہبی امور پر متعدد کتب کے مصنف ہیں۔1953 میں ہونے والی احمدیہ مخالف تحریک کے اہم مطالبات میں سے ایک ظفر اللہ خان کے استعفا کا مطالبہ بھی تھا۔ اس تحریک کے نتیجہ میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور میں فوجی قانون لاگو ہوا۔ اس تحریک کے کئی سال بعد ظفر اللہ خان نے 1958 میں سعودی بادشاہ کے شاہی مہمان کے طور پر عمرہ ادا کیا اور پھر 1967 میں دوبارہ مکہ مکرمہ سعودی عرب حاضر ہوکر حج کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔

وفاتترميم

ایک لمبا عرصہ ہالینڈ یعنی نیدرلینڈ اور برطانیہ میں رہائش پذیر رہنے کے بعد واپس پاکستان چلے آئے اور لاہور میں رہائش اختیار کی۔ جہاں 1 ستمبر 1985 کو وفات پائی۔ ان کی تدفین احمدیہ جماعت کے مرکز ربوہ میں واقع بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔

تصانیفترميم

کتبترميم

  1. تحدیث نعمت
  2. میری والدہ
  3. ایک عزیز کے نام خط
  4. The Excellent Exemplar Muhammad: The Messenger of Allah
  5. The Message of Islam
  6. Victory of Prayer Over Prejudice
  7. Hazrat Maulvi Nooruddeen Khalifatul Masih I
  8. Islam and Human Rights
  9. Wisdom of the Holy Prophet
  10. Islam – Its Meaning for Modern Man
  11. Punishment of Apostacy in Islam
  12. Women in Islam
  13. Muhammad: Seal of the Prophets
  14. Ahmadiyyat: The Renaissance of Islam
  15. Deliverance from the Cross
  16. Islam and Modern Family, Audio Book

تقاریرترميم

  1. The Contribution of Islam to the Solution of World Problems, 16th Congress of International Association for Religious Freedom, Chicago, USA, 10 ستمبر 1958

حوالہ جاتترميم

  1. ^ ا ب ربط : https://d-nb.info/gnd/109496841  — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Muhammad-Zafrulla-Khan — بنام: Sir Muhammad Zafrulla Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  3. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6cv5bmz — بنام: Muhammad Zafarullah Khan — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  4. ^ ا ب بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb128832222 — بنام: Muḥammad Ẓafr Allāh H̱ān — مصنف: Bibliothèque nationale de France — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  5. Khan, Wali. Facts are Facts: The Untold Story of India's Partition،pp 40-42