حکیم محمد علی طبیب کی تاریخ پیداٸش معلوم نہیں لیکن ان کا انتقال 1918 میں ہوا تو ان کی عمر اکیاسی بیاسی سال تھی ۔ اس حساب سے ان کی ولادت 1835 یا 1836 میں ہوٸی ہو گی ۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق حکیم صاحب نے ابتداٸی تعلیم کے بعد عربی و فارسی کے علاوہ فلسفہ منطق تاریخ اور ہیٸت میں بھی دسترس حاصل کی اور طب کی سند جھواٸی ٹولہ لکھنو کی مشہور طبی درس گاہ حاصل کی ۔ فارغ التحیصل ہونے کے بعد طبابت کو باقاعدہ پیشے کے طور پر اختیار کیا ۔ محمد علی طبیب بیک وقت ایک طبیب ، فلسفی ، مورخ ، ادیب ، عالم مترجم اور صحافی تھے ۔ طب کے علاوہ ہیٸت میں دخل رکھتے تھے ۔ انہوں نے رسالے اور ناول قوم کی اصلاح کے لیے لکھے ۔ شکل و صورت کے اعتبار سے وہ سر سید سے مشابہ تھے ۔ ان کی داڑھی تو بالکل سر سید جیسی تھی ۔ فکری طور پر بھی وہ سر سید کی تحریک کے حامی تھے ۔ ان کا انتقال جگر کے سرطان کی وجہ سے ہوا ۔ زندگی کے آخری نو دس مہینے انہوں نے بڑی تکلیف میں گزارے ۔ انہیں ہردواٸی کی جامع مسجد کے قریب پہلی بیوی عظمت النسا کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔ ان کی دوسری بیوی کا نام مشتری خاتون تھا ۔ وہ حکیم صاحب کی وفات کے وقت زندہ تھیں ۔ ان کی پہلی بیوی سے دو بیٹے مجتبیٰ علی خان اور مصطفیٰ علی خان پیدا ہوٸے ان ایک بچپن میں اور نوجوانی میں انتقال کر گیا ۔ دوسری بیوی کے ہاں دو بیٹیاں پیدا ہوٸیں ۔ شہر بانو کے ہاں ایک بیٹا ہوا اور کے کچھ عرصے بعد وہ انتقال کر گٸیں ۔ اور صغریٰ بیگم کی شادی ہوٸی ۔ ان دنوں کا انتقال ہو گیا ۔ حکیم صاحب کا نواسہ چودھری محمد فہیم ان کا سہارا تھا ۔ حکیم صاحب نے کل آٹھ ناول لکھے ۔ ان میں پانچ تاریخی اور تین معاشرتی ناول ہیں ۔ تاریخی ناول عبرت ۔ نیل کا سانپ ۔ جعفر و عباسہ ۔ رام پیاری اور خضرخان دیول دیوی ۔ ان کے معاشرتی ناول گورا ۔ اختر حسینہ اور حسن و سرور ہیں ۔ انہوں نے ایک طبی رسالہ ”مسیحاٸے عالم “ اور ترجمہ ” المظاہر “ یادگار چھوڑا ۔ ایک رسالہ ” مرقع عالم “ جاری کیا ۔ جس میں مختلف موضوعات پر مضامین شاٸع ہوتے تھے ۔ ان پر ایک ہی کتاب شاٸع ہوٸی ۔ ” محمد علی طبیب ۔۔ حیات اور کارنامے “ مصنف ۔۔ ڈاکٹر عبدالحی ( شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی دہلی ) یہ پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے ۔ اشاعت 1989 ۔۔ صفحات 296