منہ میں واقع مزے کی تھیلی جو مختلف غذاؤں یا مادوں کے لطائف کو سمجھنے میں معاون ہے۔

مزہ (انگریزی: Taste) انسان کی پانچ بنیادی حسوں میں سے ایک ہے۔ وہ ایک احساس ہے جسے تیار کیا جاتا ہے یا محسوس کیا جاتا ہے، اس وقت جب کوئی مادہ منہ میں داخل ہوتا ہے اور کیمیاوی رد عمل مزے کے مقام پر کرتا ہے جو منہ کے مزے کی تھیلی پر منہ کے چھید میں واقع ہوتی ہے، جو زیادہ تر زبان پر واقع ہوتی ہے۔ مزہ غذا کے مختلف لطائف کو طے کرتا ہے یا اسی طرح سے دیگر مادوں کی کیفیت ظاہر کرتا ہے۔[1][2]

مسوڑھوں کی بیماری کا مزے پر اثر انداز ہوناترميم

مسوڑھوں کی بیماری کے کئی نقصانات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ چونکہ اِس کی وجہ سے مُنہ میں درد ہوتا ہے یا دانت گِر جاتے ہیں اِس لیے ایک شخص اچھی طرح سے کھانا نہیں چبا سکتا اور نہ ہی اِس کا مزہ لے سکتا ہے۔‏ وہ لفظوں کا تلفظ ٹھیک طرح سے ادا نہیں کر سکتا اور اُس کی شکل وصورت بھی بگڑ جاتی ہے۔‏ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ مُنہ کی بیماریاں جسم کے باقی حصوں پر بھی بہت بُرا اثر ڈالتی ہیں۔‏[3]

جست کی کمیترميم

اگر جسم میں جست یا زِنْک کی کمی ہوجائے تو منہ کا ذائقہ بھی بدل جاتا ہے، تاہم اس کی وجہ کیا ہے، وہ طبی ماہرین تاحال جان نہیں سکے ہیں، تاہم ایک تحقیق کے مطابق اس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جست ایک ایسے پروٹین کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتا ہے جو ذائقے کی حس پر قابو رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔[4]

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم