ملا احمد نصر اللہ ٹھٹوی سولہویں صدی عیسوی کے ایک شیعہ عالم اور طبیب تھے۔[1]

ملا احمد ٹھٹوی
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 1588  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
فرقہ اہل تشیع
فقہی مسلک جعفری
عملی زندگی
پیشہ جغرافیہ دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

ابتدائی زندگی اورتعلیمترميم

ملا احمد ٹھٹوی ٹھٹہ شہر کے سنی قاضی کے بیٹے تھے۔ انہوں  نے بائیس سال کی عمر میں ایک عراقی تاجر کی طرف سے ملنے والی چند شیعہ کتب کا مطالعہ کر کے  شیعہ مسلک اختیار کیا تھا۔ وہ ایران کے شہر مشہد گئے اور بعد ازاں یزد اور شیراز چلے گئے جہاں انہوں نے بو علی سینا کی کتاب القانون کا درس حاصل کیا۔ اس کے بعد وہ مکہ چلے گئے اور عرب دنیا کے علما کے آگے زانوئے تلمذ طے کیا۔مختلف علوم پر دسترس حاصل کرنے کے بعد آپ واپس ہندوستان آ ئے اور گولکنڈہ میں شیعہ سلطان محمد قلی قطب شاہ کے دربار کا حصہ بنے[2]۔

مغل دربار میںترميم

اکبر کے دور میں شہنشاہ کی علم پروری کا چرچا سن کر فتح پور سیکری تشریف لائے جہاں  اکبر نے اسلام کے ہزار سال مکمل ہونے پر "تاریخ الفی" نامی کتاب کی تدوین کا منصوبہ شروع کر رکھا تھا۔ شہنشاہ نے آپ کو بھی اس کتاب کی تدوین میں شریک کر دیا۔تاریخ نویسی کے سلسلے میں سنی مصنفین سے اختلاف پیدا ہونے پر آپ الگ ہو گئے[2]۔ آپ  کو اختلافی مسائل پر سنی مصنفین کی دیانت داری پر شک تھا[2]۔سنی مورخین سے آپ کے اختلاف کا اندازہ آپ کے ہم عصر سنی مورخ  ملا عبد القادر بدایونی  کی کتاب "منتخب التواریخ" میں آپ کے بارے میں لکھی گئی باتوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔  وہ لکھتے ہیں کہ ملا احمد ٹھٹھوی کو  شیعہ طریقے پر غسل دیتے وقت ان کے مقعد میں کیل ڈالے گئے اور ان  کو کئی بار دریا میں غوطے دیے گئے اور یہ کہ ان کا منہ خنزیر میں تبدیل ہو گیا تھا[3]۔  یہ سب ملا عبد القادر بدایونی کے دل میں ملا احمد ٹھٹوی کے خلاف پائی جانے والی نفرت کا اظہار ہے، جو اس وقت دوچند ہو گئی جب شہنشاہ نے ملا احمد ٹھٹھوی کے قاتل کو سزائے موت دی۔ اس وقت لاہور میں شیعوں کی اچھی خاصی تعداد بستی تھی اور قاضی نور الله شوستری  جیسے فقہا بھی وہاں موجود تھے، جس کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملا عبد القادر بدیوانی شیعہ فقہ میں تدفین کے آداب سے نا واقف تھے۔

قتلترميم

1588ء میں آپ لاہور گئے جہاں مرزا فولاد سے شیعہ سنی اختلافات پر بحث ہوئی اور اس نے شام کو آپ کے گھر جا کر آپ کو قتل کر دیا۔  سیکولر سوچ رکھنے والے انصاف پسند شہنشاہ نے مرزا فولاد کو سزائے موت دی۔آپ کے خلاف بعض سنی علما نے اس قدر نفرت پھیلا رکھی تھی کہ تدفین کے بعد رات کو ایک گروہ نے آپ کی میت نکال کر آگ لگا دی[4]۔

آثارترميم

ملا احمد ٹھٹھوی کے آثار میں ایک کتاب "تحقیق تریاق"ہے جس میں اس زمانے کے علم طب اور تجربات کی روشنی میں مختلف بیماریوں کا علاج بیان کیا گیا ہے۔

مزید دیکھیےترميم

حوالہ جاتترميم

  1. Rizvi, "A Socio-Intellectual History of the Isna Ashari Shias in India", Vol. I, pp. 227.
  2. ^ ا ب پ J. N. Hollister, "The Shiá of India", page 133, Luzac and Co. London (1953).
  3. ملا عبد القادر بدایونی،"منتخب التواریخ"، ذکر حکمای اکبر شاہی، حکیم احمد تیوی، صفحہ 598
  4. S. A. A. Rizvi, "A socio-intellectual History of Isna Ashari Shi'is in India", Vol. I, pp. 234.